سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھاکا جنازہ کس نےپڑھایا، کیاسیدہ…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھاکا جنازہ کس نےپڑھایا، کیاسیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا ابوبکررضی اللہ عنہ سےناراض رہیں؟؟

  علامہ عنایت اللہ حصیر

صفحہ 2 از 2

وقد يكثر الطرق الضعيفة فيقوى المتن

ترجمہ:

تعدد طرق سے ضعف ختم ہو جاتا ہے اور متن قوی(معتبر مقبول صحیح و حسن)ہوجاتا ہے

(شیعہ کتاب نفحات الازھار13/55)

اول بات تو یہ ہے کہ سیدہ فاطمہ ناراض نہ ہوئیں تھیں بعض کتب میں جو مہاجرت و ترک کلام لکھا ہے اسکا معنی علماء نے یہ لکھا ہے کہ فدک وغیرہ کے متعلق کلام ترک کردیا مطالبہ ترک کر دیا…

(دیکھیے ارشاد الساری شرح بخاری5/192 ،عمدۃ القاری22/233 وغیرہ کتب)

بالفرض

اگر سیدہ فاطمہ ناراض بھی ہوئی تھیں تو سیدنا ابوبکر نے انہیں منا لیا تھا راضی کر لیا تھا اور سیدہ فاطمہ راضی ہوگئ تھیں

ترضاھا حتی رضیت

سیدناصدیق اکبر بی بی فاطمہ کو(غلط فھمیاں دور فرما کر)مناتےرہےحتی کہ سیدہ راضی ہوگئیں۔

(سنن کبری12735 عمدۃ القاری15/20,السیرۃ النبویہ ابن کثیر4/575)

ابوبکر…فرضیت عنہ

فاطمہ ابوبکر(کی وضاحت،اظہارمحبت کےبعد)راضی ہوگئیں۔

(شرح نہج بلاغۃ2/57)

سیدنا ابوبکر کی زوجہ سیدہ فاطمہ کی بیماری میں ان کی دیکھ بھال کرتی رہیں، سیدہ فاطمہ نے انہیں وصیت کی تھی کہ وہ انہیں غسل دیں، یہ بات شیعہ کتب سے بھی ثابت ہے

سیدہ فاطمہ کی وصیت:

میری میت کوغسل ابوبکرکی زوجہ اورعلی دیں۔

(شیعہ کتاب مناقب شہرآشوب3/138)

یہ جھوٹ ہے کہ سیدہ فاطمہ علی عباس ازواج مطہرات اہلبیت وغیرہ کو رسول کریم کی املاک سے مطلقا محروم کیا گیا….سچ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےخود بی بی فاطمہ و اہلبیت میں سے کسی کو مالک نہ بنایا بلکہ نبی پاک نے اپنی ساری ملکیت اسلام کے نام وقف کی اور فاطمہ ازواج مظہرات اہلبیت وغیرہ پر وقف میں سے جو نفعہ پیداوار ملتی اسکو ان پر خرچ کرتے تھے

اسی طرح رسول کریم کی سنت پے چلتے ہوئے حضرت سیدنا صدیق اکبر عمر و علی رضی اللہ عنھم نے بھی اہلبیت آل رسول ازواج مطہرات وغیرہ کسی کو مالک نہ بنایا

بلکہ

فدک وغیرہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کےچھوڑےہوئےصدقات میں سےسیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آل محمد اہلبیت ازواج مطہرات فاطمہ علی عباس پر

اور

کچھ صحابہ اور کچھ عوام مسلمین پر خرچ کرتےتھے…عمر و علی رضی اللہ عنھما نے بھی یہی طریقہ جاری رکھا یہی طریقہ رسول کریم کا رہا تھا

( تاریخ الخلفاء ص305,

ابوداود روایت نمبر2970,2972,

سنن کبری للبیھی روایت نمبر12724

بخاری روایت نمبر2776،3712،)

انبیاء کرام علیھم السلام کی میراث درھم و دینار(کوئی مالی میراث)نہیں،انکی میراث تو فقط علم ہے

(شیعہ کتاب الکافی1/34)


یہ تحریر اردو محفل سائیٹ سے لی گئی ہیں۔  

لنک


صفحہ 2 از 2