کافر کی نمازِ جنازہ پڑھنے والے کا حکم
کافر کی نمازِ جنازہ پڑھنے والے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص، قادیانی یا کسی اور کافر کا جنازہ پڑھ لے، شرعاً اس شخص کا کیا حکم ہے؟
جواب: ایسا شخص فاسق ہے، اس پر توبہ کا اعلان کرنا فرض ہے تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح بھی کرے۔ جب تک توبہ کا اعلان نہیں کرتا اُس وقت تک اس کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق رکھنا جائز نہیں۔
قال المفسر العلامة السيد محمود الألوسیؒ تحت قوله تعالىٰ : (ولا تقم على قبره وانهم كفروا باللّٰه ورسوله) (انهم كفروا باللّٰه ورسوله) جملة مستأنفة سيقت لتعليل النهی على معنى ان الصلوة على الميت والاحتفال به انما يكون الحرمته وهم بمعزل عن ذلك لانهم استمروا على الكفر باللّٰه تعالىٰ ورسوله مدة حياتهم. (روح المعانی جلد 10، صفحہ 155) وقال المفسر العلامة محمد بن احمد القرطبیؒ : تحت قولهٖ تعالىٰ : (ولا تصل على احد منهم مات ابدا) قال علماؤنا: هذا نص فی الامتناع من الصلوة على الكفار
علامہ ابنِ عابدین نے "ردالمختار" جلد 1، صفحہ 351 پر اس کی تحقیق کی ہے۔ اس تحقیق سے کافر کی نمازِ جنازہ پڑھنے والے کی تکفیر ثابت نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ نمازِ جنازہ میں مؤمنین کے لئے دعاء مغفرت کے کلمات ہیں، خاص اس میت کے لئے کوئی کلمہ نہیں۔ اگر میت مؤمن نہیں تو نمازِ جنازہ میں اس کے لئے مغفرت کی دعا نہیں ہوئی، اگرچہ اس کی نیت ہے۔ گویا کہ کافر کو مؤمنین کے زمرہ میں شامل کر کے ان کے ضمن میں اس کے لئے دعائے مغفرت کر رہا ہے۔
اس تفصیل کے تحت وجہ کفر ۔۔۔۔ یہ ہو سکتی ہے کہ قطعی کافر کو مسلمان سمجھنا بالاتفاق کفر ہے اور اس کی اس حرکت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کافر کو مسلمان سمجھ رہا ہے بلکہ مزید بریں کافر کے جنازہ میں شریک ہو کر گویا اپنے اس عقیدہ کفریہ کا عام اعلان بھی کر رہا ہے لیکن جب تک زبان سے اس کا اظہار نہ کرے اُس وقت تک محض اس عمل سے اس کے اس عقیدہ کا ثبوت اس حد تک نہیں پہنچتا کہ تکفیر کی جا سکے۔ البتہ زجر و توبیخ اور سبب کفر کی قوت کے پیش نظر تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح پر مجبور کیا جائے ۔
(احسن الفتاوىٰ جلد 10، صفحہ 27)