(1) اہلسنت والجماعت کا یوم عید غدیر منانا کیسا؟ (2) کیا…

(1) اہلسنت والجماعت کا یوم عید غدیر منانا کیسا؟ (2) کیا غدیر خم کا واقعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت ملنے پر دلالت کرتا ہے؟ (3) کیا غد خم کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ولایت عطاء کی گئی؟

  محمد ذوالفقار خان نعیمی

صفحہ 1 از 5

1: اہلسنت والجماعت کا یوم عید غدیر منانا کیسا؟

2: کیا غدیر خم کا واقعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت ملنے پر دلالت کرتا ہے؟

3: کیا غد خم کے موقع پر حضرت رضی اللہ عنہ کو ولایت عطاء کی گئی؟

السلام علیکم رحمتہ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین مسئلہ مندرہ کے متعلق کہ ناگپور کے تاج آباد شریف درگاہ کے سامنے میں ایک جلسہ منعقد ہوا اور اس جلسے میں جومقرر خصوصی مدعو کئے گئے شاید وہ اہل تشیع حضرات کے عقائد باطلہ سے بہت متاثر تھے۔ تو حضرت موصوف نے یوم علیؓ کے موضوع پر اہلسنت والجماعت پر لعن طعن کر تے ہوئے تمام مجمع کو یوم غدیر منانے کی نصیحت دے ڈالی۔ نیز غدیر خم کا واقعہ بیان کیا جس میں نبی کریمﷺ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ اٹھا کر کہا تھا کہ جس کا میں مولیٰ اس کا علی مولیٰ۔ اور غلط بیانی کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو اس روز اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی حیات طیبہ خلافت دے دی تھی اور پھر بات بدلتے ہوئے کہا کہ ولایت عطا فرمائی تھی۔ اور انہوں نے لفظ "مولی" کا معنیٰ خلیفہ کے کئے۔ جبکہ مشکوۃ شریف میں کتاب الکرامات میں حضرت سفینہ کے متعلق جو واقعہ ہوا کہ وہ افریقہ کے جنگل میں اپنے وقف کے ساتھ کھو گئے اور اپنے ساتھیوں کو ڈھونڈ ہی رہے تھے کہ جنگل کا شیر سا منے آ گیا اور جب شیر آیا تو آپ ڈرے ہیں بھاگے نہیں بلکہ شیر کی طرح اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور جب شیر ان پر حملہ آور ہوا تو انہوں نے کیا "یا ابالحارث انا مولى رسول الله ﷺ  تو اس متن کا ترجمہ تمام اہلسنت کی شرح میں کہیں بھی خلیفہ یا ولایت نہیں ہیں اور عید غدیر خاص حضرت عثمان غنیؓ کے شہادت کے دن منائی جاتی ہے۔ لہٰذا آپ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ
1: اہلسنت والجماعت کا یوم عید غدیر منانا کیسا؟

2: کیا غدیر خم کا واقعہ حضرت علیؓ کو خلافت ملنے پر دلالت کرتا ہے؟
3: کیا غد خم کے موقع پر حضرت علیؓ کو ولایت عطاء کی گئی تھی یا پہلے سے یا کس وقت ملی؟

4: کیا دیگر خلفاء راشدینؓ کو ولایت حاصل نہیں ہوئی تھی؟
5: اور جو اہلسنت کے افراد علماء ایسے جلسوں میں شرکت کریں یا جو ایسے جلسے منعقد کریں ان پر از روئے شرع کیا حکم ہے؟
قرآن واحادیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
بينوا توجروا.

المستفتی: محمد عبدالعزیز خان قادری ناگپور۔

الجواب بعون الملک الوهاب

بسم الله الرحمن الرحيم

نحمده ونصلى على حبيبه الكريم

استفتاء کے مندرجات دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مقرر خصوصی اہل تشیع کے عقائد و نظریات سے متاثر ہیں اور اہل سنت کے عقائد ونظریات سے ناواقف۔
اہل سنت پر طعن و تشنیع نہ کرے گا مگر وہ جو مخالف اہل سنت ہے۔
مقرر خصوصی کا عید غدیر منانے کا حکم دینا یقیناً شیعہ مذہب کی پیروی کی طرف غماز ہے۔
یوم غدیر اہل تشیع کی عید اکبر ہے۔ اور اس کو وہ خاص اس لئے مناتے ہیں کہ ان کے مطابق اس دن حضرت علیؓ کو خلافت بلافصل ملی تھی بلکہ امامت کے بھی قائل ہیں۔ نیز یہ بھی مشہور ہے کہ اس دن چوں کہ حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت ہوئی تھی اس لئے وہ اس دن جشن مناتے ہیں۔
یہ ساری وجوہات ہو سکتی ہیں البتہ اصل وجہ حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل اور امامت ہے۔
اس عید غدیر کا بانی عراقی شیعہ حاکم معز الدین احمد بن ابویہ دیلمی ہے۔
سب سے پہلے اس نے رافضیوں کے ساتھ 18 ذی الحجہ 352ء کو بغداد میں عید غدیر منائی۔

علامہ ابن کثیرؒ نے لکھا ہے:

"ثم دخلت سنة ثنتين وخمسينوثلاثمائة:وفي ثامن عشر ذي الحجة منها

أمر معز الدولة بـإظهـار الـزينـة ببغداد وأن تفتح الأسواق بالليل كما في الأعياد، وأن تضرب الدبادب والبـوقـات، وأن تشعل النيران بأبواب الأمراء وعند الشرط فرحا بعيد الغدير -غدير خم -فكان وقتا عجيبا ويوما مشهودا، وبدعة ظاهرة منكرة

سن 352ہجری 18 ذی الحجہ کو معزالدولہ نے شہر بغداد سجانے اور رات کو عیدوں کی راتوں کی طرح بازار کھولنے کا حکم دیا۔ اور باجے اور بگل بجائے گئے اور حکام کے دروازوں اور فوجیوں کے پاس چراغاں کیا گیا عید غدیر کی خوشی میں تو وہ وقت عجیب اور دیکھنے کا دن تھا اور ظاہری بری بدعت کا دن تھا۔

(البداية والنهاية: لابن الكثير: جلد 15 صفحہ 221)

 امام ابن اثیر جزری لکھتے ہیں: وفيهـا فـي الثامن عشر ذي الحجة، أمر معز الدولة بإظهار الزينة في البلد، وأشعلت الـنـيـران بـمـجـلـس الشرطة، وأظهر الفرح، وفتحت الأسواق بالليل، كما يفعل ليالي الأعيـاد فـعـل ذلك فرحا بعيد الغدير، یعنی غدیر خم، وضربت الدبادب والبوقات، وكان يوما مشهودا

اور سن 352 ہجری 18 ذوالحجہ کو معز الدولہ نے شہر سجانے کا حکم دیا اور درباریوں کی مجلس میں چراغاں کیا گیا اور خوشی کا اظہار کیا گیا اور بازار کھولے گئے رات کو جس طرح عیدوں کی راتوں کو کھولے جاتے خوب خوشی منائی گئی عید غدیر خم میں اور باجے اور بگل بجاۓ گئے اور وہ دیکھنے کا دن تھا۔‘‘

(الکامل فی التاریخ: جلد 7 صفحہ 246)

 امام ذہبیؒ لکھتے ہیں: سنة اثنتين وخمسين وثلاثمئة وفيها يوم ثام ذي الحجة، عملت الرافضة عيد الغدير، غدير خم، ودقت الكوسات وصلوا بالصحراء صلاة العيد

اور سن 352 ہجری 18 ذی الحجہ کو روافض ( ابتداء میں معزالدین کا ذکر ہے ) نے عید غدیر منائی ڈھول بجائے گئے اور میدان میں نماز عید پڑھی۔

(العبر فی خبر من غبر، جلد 2 صفحہ 90)

الغرض عید غدیر اہل تشیع کا تہوار ہے۔ اہل تشیع کے نزدیک جس کی اصل بنیاد یوم غدیر میں نبی کریمﷺ کا مولیٰ علی کو خلافت و امامت دینا ہے۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ اور فریب ہے۔
واقعہ غدیر خم سے مولیٰ علی کی خلافت و امامت پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ حدیث  خم سے مولیٰ علی کی فضیلت اجاگر ضرور ہوتی ہے لیکن اس سے خلافت و امامت مراد لینا جہالت ہے۔ حالانکہ اس سے قبل بھی متعدد مقامات پر مولیٰ علی کو اسی طرح نبی کریمﷺ نے نوازا مگر اس دن کو عید کا دن کیوں نہیں قرار دیا جاتا ہے؟

اہل تشیع واقعہ غدیر خم کے جن الفاظ کو اپنے مقصد پر استدلال کرتے ہیں وہ یہ ہیں۔  

من كنت مولاہ فعلی مولاہ

صفحہ 1 از 5