(1) اہلسنت والجماعت کا یوم عید غدیر منانا کیسا؟ (2) کیا…

(1) اہلسنت والجماعت کا یوم عید غدیر منانا کیسا؟ (2) کیا غدیر خم کا واقعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت ملنے پر دلالت کرتا ہے؟ (3) کیا غد خم کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ولایت عطاء کی گئی؟

  محمد ذوالفقار خان نعیمی

صفحہ 2 از 5

 مقرر خصوصی نے بھی اپنی تقریر میں سبقتاً اس کا اظہار کیا ہے۔ حالانکہ اس جملہ سے کسی طرح بھی خلافت و امامت کا مفہوم ظاہر نہیں ہوتا ہے۔
مولیٰ کے معنیٰ خلیفہ یا امام کے کہیں نہیں آتے بلکہ اس کے متعدد معانی میں سے ایک اہم معنیٰ جو یہاں مراد ہے وہ ہے ناصر و مددگار ۔خلیفہ یا امام کا مفہوم محض فاسد ہے۔
ہم یہاں لفظ مولیٰ پر شارحین حدیث کے بیانات قلم بند کرتے ہیں تا کہ مفہوم واضح ہو جائے ۔
ملا علی قاریؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: مـن كـنت مولاه فعلی مولاہ‘‘قیل، معناه مـن كـنت أتولاه فعلى يتولاه من الولى ضد العدو أي : من كنت أحبه فعلى يحبه، وقيل معناه : من يتولاني فعلى يتولاه، كذا ذكره شارح من علمائنا 

جس کا میں مددگار ہوں اس کے علی مددگار ہیں کہا گیا ہے کہ اس کے معنیٰ جس سے میں دوستی رکھتا ہوں اس سے علی دوستی رکھتے ہیں۔ دوست بمقابلہ دشمن یعنی جس سے میں محبت کرتا ہوں اس سے علی محبت کرتے ہیں۔ اور یہ معنیٰ بھی اس کے کئے گئے ہیں کہ جس شخص نے مجھ سے دوستی رکھی تو علی اس سے دوستی رکھتے ہیں۔ ہمارے شارحین علماء نے ایسا ہی ذکر کیا ہے۔‘‘
آگے اس کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وقيل: سبب ذلك أن أسامة قال لعلى :لست مولاى إنما مولاى رسول اللہ ﷺ فقال کنت مولاه فعلی مولاه

اس کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت اسامہ نے کہا کہ علی میرے مولیٰ نہیں ہیں میرے مولیٰ تو رسول اللہﷺ ہیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں جس کا مولی ہوں اس کے علی مولیٰ ہیں۔‘‘
اور اس حدیث سے مولیٰ علی کی امامت پر استدلال کرنے والے شیعہ کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: قالت الشيعة :هو متصرف، وقالوا : معنى الحديث أن عليا -رضي الله عنه -يستحق التـصـرف فـي كـل مـا يستحق الرسول التـصـرف فـيـه، ومن ذلك أمور الـمـؤمنين فيكون إمامهم أقول : لا يـسـتـقـيـم أن تـحـمل الولاية على الإمامة التي هي التصرف في أمور المؤمنين، لأن المتصرف المستقل في حياته هو هو - لا غير فيجب أن يحمل على المحبة وولاء الإسلام ونحوهما

شعیہ نے کہا کہ وہ متصرف ہیں اور کہا کہ حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ علی ہر اس معاملہ میں تصرف کا حق رکھتے ہیں جس میں رسول اللہﷺ تصرف کا حق رکھتے ہیں ۔اور انہیں میں سے مسلمانوں کے معاملات ہیں پس وہ ان کے امام ہوئے۔ میں کہوں گا کہ ولایت کو اس امامت پر جو مؤمنین کے معاملہ میں تصرف ہے محمول کرنا درست نہیں اس لئے کہ مستقل متصرف اپنی حیات میں نبیﷺ ہی ہیں کوئی غیر نہیں تو واجب ہے کہ اسے محبت اور اسلام کی ولاء اور ان دونوں کے مثل پر محمول کیا جائے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابیح، کتاب المناقب: جلد 11  صفحہ 247)

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:

بـدار کـه ایـن اقـوی چیزیست کـه تمسك كرده اندشیعه در ادعای ایشان نص تفصیلی بخلافت علی مرتضی رضی الله و میگویند که مولی اینجا بمعنی اولی بامامت است۔ما مـيكـوئیم

بشيعه بطريق الزام که ایشان اتفاق کرده ندبر اعتبار تواتر دلیل امامت وكـفـتـه اند که تاحدیث متواتر نباشد بدان استدلال بر صحت امامت نتوان کردویقین است که ایں حدیث متواتر نیست “

جان لو کہ یہ سب سے طاقتور دلیل ہے جس سے اپنے دعویٰ پر شیعہ استدلال کرتے ہیں کہ یہ حضرت علیؓ کی خلافت میں تفصیلی نص ہے اور کہتے ہیں کہ اس جگہ مولیٰ کے معنیٰ اولی بالامامت ہے۔ ہم بطور الزام شیعہ سے کہتے ہیں کہ ان کے نزدیک امامت کی دلیل میں بالا تفاق تواتر معتبر ہے اور ان لوگوں نے کہا ہے کہ جب تک حدیث متواتر نہ ہو اس سے امامت کے صحیح ہونے پر استدلال نہیں کر سکتے اور یقینی بات ہے کہ یہ حدیث متواتر نہیں ہے۔‘‘

(اشعۃ اللمعات فارسی: جلد 40 صفحہ 374، باب مناقب علی)

علامہ ابن حجر ہیتمی نے الصوائق المحرقہ میں لفظ مولیٰ وغیرہ سے خلافت و امامت مراد لینے پر شیعوں کی جانب سے دیے گئے دلائل کا تفصیلی جواب دیا ہے یہ مقام اس تفصیل کا تحمل نہیں ہے۔ ہم بس لفظ مولیٰ کے امام یا خلیفہ مراد لئے جانے پر دیے گئے جواب کو نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
علامہ ابن حجرؒ لکھتے ہیں: زعـمـوا أن من النص التفصيلي المصرح بخلافة على قوله : يوم غدير خم موضع بالجحفة مرجعه من حجة الوداع“

اہل تشیع نے گمان کیا کہ خلافت علی پر نص مصرح تفصیلی نبی کریم ﷺ کا وہ قول (یعنی جس کا میں مولیٰ ہوں اس کے علی مولیٰ ہیں ) ہے جو غدیر خم کے روز مقام جحفہ میں حجۃ الوداع سے لوٹتے وقت فرمایا تھا۔

(الصواعق المحرقہ: صفحہ 25)

اس پر اہل تشیع جو دلیل دی ہے اس کے جواب میں لکھتے ہیں:

لا نسلم أن معنى الولى ما ذكروه بل معناه الناصر على أن كون المولى بمعنى الإمام لم يعهد لغة ولا شرعا

ہم یہ نہیں مانتے ہیں ولی کا وہ معنیٰ جو انہوں نے ذکر کیا ہے نام نہیں مانتے ہیں۔ بلکہ اس کا معنیٰ مددگار کے ہیں۔ اس بنیاد پر کہ مولیٰ کے معنیٰ امام ہونا لغت اور شرع کے اعتبار سے موجود نہیں ہے۔ 

(الصواعق المحرقہ: صفحہ 25، 26)

تحکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیؒ فرماتے ہیں
” مولیٰ کے معنیٰ میں دوست، مددگار، آزاد شد و غلام، آزاد کر نے والا مولیٰ۔ اس کے معنیٰ خلیفہ یا بادشاہ نہیں علی کہتے ہیں۔

رب فرماتا ہے: فان الله هو مولية و جبريل و صلح المؤمنين

شیعہ کہتے ہیں کہ مولا بمعنیٰ خلیفہ ہے اور اس حدیث سے لازم ہے کہ بجز علی (رضی اللہ عنہ) کے خلیفہ کوئی نہیں آپ خلیفہ بلافصل ہیں مگر یہ غلط ہے چند وجہ سے۔
ایک یہ کہ مولی بمعنیٰ خلیفہ یا بمعنیٰ اولی بالخلاف کبھی نہیں آتا بتاؤ اللہ تعالیٰ اور حضرت جبرئیل کس کے خلیفہ ہیں حالانکہ قرآن مجید میں انہیں مولیٰ فرمایا۔

فإن الله هو مولية و جبريل

دوسرے یہ کہ حضورﷺ کسی کے خلیفہ ہیں پھر من کنت مولاہ کے کیا معنیٰ ہوں گے ۔

تیسرے یہ کہ حضرت علیؓ حضور کی موجودگی میں خلیفہ نہ تھے حالانکہ حضور نے اپنی حیات شریف میں میں فرمایا پھر مولیٰ بمعنیٰ خلیفہ کیسے ہوگا۔

صفحہ 2 از 5