(1) اہلسنت والجماعت کا یوم عید غدیر منانا کیسا؟ (2) کیا…

(1) اہلسنت والجماعت کا یوم عید غدیر منانا کیسا؟ (2) کیا غدیر خم کا واقعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت ملنے پر دلالت کرتا ہے؟ (3) کیا غد خم کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ولایت عطاء کی گئی؟

  محمد ذوالفقار خان نعیمی

صفحہ 3 از 5

چوتھے یہ کہ اگر مان لو کہ مولیٰ بمعنیٰ خلیفہ ہی ہو تو بھی بالافصل خلافت کیسے ثابت ہوگی۔
واقعی آپؓ خلیفہ ہیں مگر اپنے موقعہ اپنے وقت میں۔
پانچویں یہ کہ اگر یہاں مولیٰ بمعنیٰ خلیفہ ہوتا تو جب سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار سے حضرت صدیق اکبرؓ نے کہا کہ حضورﷺ نے فرمایا ہے الخلافۃ فی القریش، خلافت قریشی میں ہے ۔ تم لوگ چونکہ قریش نہیں لہٰذا تم امیر نہیں بن سکتے، وزیر بن سکتے ہو۔ اس وقت حضرت علیؓ نے یہ واقعہ لوگوں کو یاد کیوں نہ کرا دیا کہ حضورﷺ تو مجھے خلافت دے گئے میرے سوا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ آپﷺ خاموش رہے اور تینوں خلفاءؓ کے ہاتھ پر باری باری بیعت کرتے رہے۔ معلوم ہوا کہ آپ کی نظر میں بھی یہاں مولیٰ بمعنیٰ خلیفہ نہ تھا۔
چھٹے یہ کہ حضور کے مرض وفات میں حضرت عباس نے جناب علی سے کہا کہ چلو حضور سے خلافت اپنے لیے لے لو حضرت علی نے انکار کیا کہ میں نہیں مانگوں گا ورنہ حضور مجھے ہرگز نہ دیں گے اگر یہاں مولی بمعنیٰ خلیفہ تھا تو یہ مشورہ کیسا؟!
ساتویں یہ کہ خلافت کے لیے روافض کے پاس نص قطعی الثبوت او قطعی الدلالت چاہیے یہ حدیث نہ تو قطعی الثبوت ہے کہ حدیث واحد ہے نہ قطعی الدلالت کہ مولیٰ کے بہت معنیٰ ہیں اور مولیٰ بمعنیٰ خلیفہ کہیں نہیں آتا‘‘ 

(امواۃ المناجیح شرح مشكاة المصابیح: جلد 8 صفحہ 444)

الغرض: حدیث غدیر خم میں لفظ مولیٰ کے معنیٰ مددگار کے ہیں سوائے اہل تشیع کے کسی نے بھی مولیٰ کے معنیٰ خلافت، امامت با ولایت معروف نہیں لئے ہیں۔
لہٰذا مقرر خصوصی کا اس معنیٰ سے خلافت یا ولایت بمعنیٰ امامت یا ولایت معروفہ مراد لینا غلط ہے۔ بلکہ خلافت مراد لینے میں اہل تشیع کے باطل عقیدہ کی ترجمانی ہے۔ جو یقیناً گمراہی ہے کیوں کہ حضرت علیؓ کو اس حدیث کی روشنی میں اہل تشیع خلیفہ بلافصل تسلیم کرتے ہیں۔
اور خلفائے ثلاثہؓ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت کو باطل مانتے ہیں۔ حالانکہ یہ سراسر ضلالت و گمراہی بلکہ کفر ہے کیوں کہ خلفائے اربعہ کی خلافت پر اجماع امت ہے اور اجماع امت کا انکار کفر ہے۔ 
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی فرماتے ہیں:
"رافضیوں کا یہی عقیدہ ہے کہ خلیفہ بلافصل حضرت علیؓ میں خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت باطل ہے اور وہ غاصب تھے۔ ان کا یہ عقیدہ باطل ہے۔‘‘

(فتاویٰ شارح بخاری: جلد 4 صفحہ 24)

فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدیؒ فرماتے ہیں:
"بعض شیعہ صاحبان نے اس موقع پر لکھا ہے کہ "غدیر خم" کا خطبہ یہ "حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کی خلافت بلافصل کا اعلان تھا " مگر اہل فہم پر روشن ہے کہ یہ محض ایک "تک بندی" کے سوا کچھ بھی نہیں کیونکہ اگر واقعی حضرت علیؓ کے لئے خلافت بلافصل کا اعلان کرنا تھا تو عرفات یا منی کے خطبوں میں یہ اعلان زیادہ مناسب تھا۔ جہاں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کا اجتماع تھا نہ کہ غدیر خم پر جہاں یمن اور مدینہ والوں کے سوا کوئی بھی نہ تھا۔ 
(سیرت مصطفٰی صفحہ 535)

حکیم الامت فرماتے ہیں:
"شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ کی خلافت قطعی اور منصوص ہے کہ غدیر خم پر حضور انورﷺ نے انہیں اپنا خلیفہ مقرر کر دیا تھا اس صورت میں شیعہ حضرات کی یہ توجیہ درست نہیں۔

(مراۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح: جلد 8 صفحہ 292

حضور صدرالافاضل فرماتے ہیں:
علاوہ بریں اس خلافت راشدہ پر جمیع صحابہ اور تمام امت کا اجماع ہے۔ لہٰذا اس خلافت کا منکر شرع کا مخالف اور گمراہ بددین ہے۔ (سوانح کربلا: صفحہ 42)

حضور اعلیٰ حضرت فتح القدیر اور فتاویٰ بزازیہ کے حوالے سے رقم طراز ہیں:

في الروافض من فضل عليا على الثلاثة فمبتدع وان انكر خلافة الصديق اوعمررضی الله عنهما فهو كافر

رافضیوں میں جو شخص مولیٰ علی کو خلفاء ثلاثہؓ سے افضل کہے گمراہ ہے اور اگر صدیق یا فاروق رضی اللہ تعالی عنہما کی خلافت کا انکار کرے تو کافر ہے۔

وجیز امام کردری میں ہے: مـن انـكـر خلا فة ابي بكر رضى الله تعالى عنه فهو كافر فى الصحيح ومن انكر خلافة عمر رضى الله تعالى عنه فهو كافر في الاصح

خلافت ابوبکر صدیقؓ کا منکر کافر ہے۔ یہی صحیح ہے اور خلافت عمر فاروقؓ کا منکر بھی کافر ہے۔ یہی صحیح تر ہے۔(فتاویٰ رضویہ جدید: جلد 140 صفحہ 250)

رہا معاملہ کہ مولیٰ علی کو ولایت کب حاصل ہوئی تو اس کی کہیں تصریح نہیں ہے ہر صحابی ولی ہوتا ہے، حسب مراتب۔خلفائے راشدینؓ اولیائے کرام کی صف اول میں داخل ہیں۔

اولیاء غیر صحابہ سے بدرجہا افضل و ارفع ہیں۔
حضور اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
’’صحابہ کرامؓ سب اولیائے کرام تھے۔ صحابہ کرامؓ میں سب سے افضل و اکمل و اعلی و اقرب الی اللہ خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالی عنہم تھے اور انکی افضلیت ولایت بترتیب خلافت۔ یہ چاروں حضرات سب سے اعلیٰ درجے کے کامل مکمل ہیں اور دارائے نیابت نبوت ہونے میں شیخین رضی اللہ عنہم کا پایہ ارفع ہے اور دارائے تکمیل ہونے میں حضرت مولا علی مرتضیٰ شیر خدا مشکل کشا کا

(فتاویٰ رضویہ قدیم: جلد 14 صفحہ 70)

مزید فرماتے ہیں:
’’اور تحقیق یہ ہے کہ تمام اجلہ صحابہ کرامؓ مراتب ولایت میں اور خلق سے فنا اور حق میں بقا کے مرتبہ میں اپنے ماسوا تمام اکابر اولیاء عظام سے وہ جو بھی ہوں افضل ہیں اور ان کی شان ارفع و اعلی ہے۔

اس سے کہ وہ اپنے اعمال سے غیر اللہ کا قصد کریں لیکن مدارج متفاوت ہیں اور مراتب ترتیب کے ساتھ ہیں اور کوئی شے کسی شے سے کم ہے اور کوئی فضل کسی فضل کے اوپر ہے اور صدیق کا مقام وہاں ہے جہاں نہایتیں ختم اور غایتیں منقطع ہوگئیں۔

(فتاویٰ رضویہ جدید: جلد 183 صفحہ 240، 2840)

صفحہ 3 از 5