(1) اہلسنت والجماعت کا یوم عید غدیر منانا کیسا؟ (2) کیا…

(1) اہلسنت والجماعت کا یوم عید غدیر منانا کیسا؟ (2) کیا غدیر خم کا واقعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت ملنے پر دلالت کرتا ہے؟ (3) کیا غد خم کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ولایت عطاء کی گئی؟

  محمد ذوالفقار خان نعیمی

صفحہ 4 از 5

الحاصل: مقرر خصوصی کا یوم غدیر منانے کی ترغیب دینا، اہل تشیع کے باطل و گمراہ کن نظریات کی تشہیر و ترویج کرنا ہے جو یقیناً گناہ بلکہ گمراہی و کفر پر مدد ہے۔ یوں ہی ایسے جلسوں میں شرکت کرنا جہاں اہل تشیع کے باطل و فاسد کفریہ عقائد کی تشہیر ہو، حرام بلکہ ان کے کفریہ عقائد پر راضی ہونے اور ان کی تشہیر میں مدد کر نے کے سبب کفر ہے۔
بالجملہ: یوم غدیر کو عید ماننا اگر اہل تشیع کے باطل نظریات سے متفق ہوئے بغیر بھی ہو تب بھی گناہ پر مدد کرنے کا الزام رہے گا اور چوں کہ عید غدیر کی بنیادی وجہ حضرت علیؓ کی خلافت بالاصل اور خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت کا انکار ہے جو بلاشبہ کفر ہے تو اس طرح کفر پر مدد کرتا ہے۔ لہٰذا گناہ پر مدد گناہ کبیرہ اور کفر پر مدد کفر ہے۔
بنای پہ شرح ہدایہ میں ہے:

الإعانة على المعاصي والفجور والحث عليها من جملة الكبائر

گناہوں اور برائیوں پر مدد کرنا اور اس پر ابھارنا گناہ کبیرہ ہے۔

(البنایة شرح الہدایۃ:   جلد 90 صفحہ148)

فتاویٰ شامی میں ہے:

فلا تجوز الإعانة على تجديد الكفر فيها وأن من ساعد على ذلك فهو راض بالكفر والرضا بالكفر كفر

تجدید کفر پر مدد جائز نہیں ہے اور جس شخص نے کفر کوشش کی تو وہ کفر پر راضی ہوا اور کفر پر راضی ہونا کفر ہے۔ (ردالمختار: جلد 4 صفحہ 205)

حضور اعلی حضرت طحطاوی علی الدر کے حوالے سے فرماتے ہیں:

التفرج على المحرم حرام(حرام پر خوشی بھی حرام ہے)

ایسے جلسوں میں شرکت گناہ کبیرہ ہے۔

قال الله تعالى فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظمين 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: پس نصیحت و یاددہانی کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔

قال الله تعالى: ولا تعاونوا على الاثم والعدوان

اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے: گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔‘‘

(فتاویٰ رضویہ جدید: جلد 15 صفحہ 01، 410، 210)

علاوہ ازیں عید غدیر منانا اہل تشیع کا مذہبی شعار ہے اور کسی کافر قوم کے مذہبی شعار کا اپنانا یقیناً تشبہ کے درجہ میں آتا ہے جس کے بارے میں نبی کریمﷺ نے فرمایا

من تشبه بقوم فهو منهم

جس نے کسی قوم سے مشابہت کی وہ انہی میں سے ہے۔“ 

(سنن ابو داؤد: کتاب الباس: جلد 4 صفحہ 203)

البتہ اگر ان کے عقائد و نظریات کو ماننا ہے تو تشبہ التزامی ہے اور اگر ان کے عقائد سے تو اتفاق نہیں بلکہ اپنے طور پر ہی منانا ہے لیکن ان کا مذہبی شعار ہونے کے سبب تشبہ پایا جارہا ہے تو تشبہ لزومی ہے۔ پہلی صورت میں کفر ہے کیوں کہ تشبہ کے سبب کفریہ عقائد پر رضا شامل ہے اور دوسری صورت میں کم از کم کو تشبہ کے سبب حرمت و ممانعت ضرور ہے۔
’’تشبہ دو وجہ پر ہے: التزامی و لزومی
التزامی یہ ہے کہ یہ شخص کسی قوم کے طرز و وضع خاص اسی قصد سے اختیار کرے کہ ان کی سی صورت بنائے ان سے مشابہت حاصل کرے حقیقتاً تشبہ اسی کا نام ہے۔
اور لزومی یہ کہ اس کا قصد تو مشابہت کا نہیں مگر وہ وضع اس قوم کا شعار خاص ہو رہی ہے کہ خواہی نخواہی مشابہت پیدا ہو گی اس قوم کو محبوب و مرضی جان کر ان سے مشابہت پسند کرے یہ بات اگر مبتدع کے ساتھ ہو بدعت اور کفار کے ساتھ معاذ اللہ کفر‘‘

(فتاویٰ رضویہ جدید: جلد 24 صفحہ 530)

مزید فرماتے ہیں:
نہ تو انہیں اچھا جانتا ہے نہ کوئی ضرورت شرعیہ اس پر حامل ہے بلکہ کسی نفع دنیوی کے لئے یا یونہی بطور ہزل واستہزاء اس کا مرتکب ہوا تو حرام و ممنوع ہونے میں شک نہیں اور اگر وہ وضع ان کفار کا مذہبی دینی شعار ہے جیسے زقار، قشقہ، چٹیا، چلیپا، تو علماء نے اس صورت میں بھی حکم کفر دیا کماسمعت انفا۔ اور فی الواقع صورت استہزاء میں حکم کفر ظاہر ہے کمالایخفی
اور لزومی میں بھی حکم ممانعت ہے جبکہ اکراہ وغیرہ مجبوریاں نہ ہوں جیسے انگریڑی منڈا، انگریزی ٹوپی، جاکٹ، پتلون، الٹا پردہ، اگرچہ یہ چیزیں کفار کی مذہبی نہیں مگر آخر شعار ہیں تو ان سے بچنا واجب اور ارتکاب گناہ۔

 (فتاویٰ رضویہ جدید: جلد 240 صفحہ 532)

حضور اعلیٰ حضرت ملا علی قاری رحمۃاللہ کے حوالے سے فرماتے ہیں:

اناممنوعون من التشبيه بالكفرة واهل البدعة المنكرة في شعارهم

ہمیں کافروں اور منکر بدعات کے مرتکب لوگوں کے شعار کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔“

(فتاویٰ رضویہ جدید: جلد 24 صفحہ 533)

اور فرماتے ہیں:۔

” اور اپنے لئے جو شعار کفر پر راضی ہو اس پر لزوم کفر ہے۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں: 

من تشبه بقوم فهو منه

جو کسی قوم سے مشابہت پیدا کرے وہ انہی میں سے ہے۔

اشباہ والنظائر میں ہے:

عبادة الصنم كفر ولااعتبار في قلبه وكذا لوتزنر بزنار اليهود والنصارى دخل كنيستهم اولم يدخل

جامع الفصولین مخ الروح الازہر میں ہے: 

من خرج الى السدة (قال القارى اى مجمع اهل الكفر) كفر لان فيه اعلام الكفر وكانه اعان عليه

جو کوئی (دارالاسلام کو چھوڑ کر) کفار و مشرکین کے مجمع میں جاۓ (السدة محدث ملا علی قاریؒ نے فرمایا: اس کا معنیٰ مجمع اہل کفر ہے) تو وہ کافر ہو گیا کیونکہ اس میں کفر کا اعلان ہے۔
گویا وہ کفر پر ان کی امداد کر رہا ہے اور کفر کے اہتمام میں شریک ہونا اور اس پر راضی ہونا کفر ہے۔

الرضا بالكفر كفر 

( کفر پر راضی ہونا کفر ہے ) 
وہ لوگ اسلام سے نکل گئے اور ان کی عورتیں ان کے نکاح سے ‘‘(فتاویٰ رضویہ جدید: جلد 21 صفحہ 296، 297)

الحاصل: عید غدیر اہل تشیع کا مذہبی تہوار ہے۔

اہل سنت کا اس دن عید منانا اہل تشیع کے باطل افکار و عقائد کی تائید کا موجب اور ان کے اس باطل و کفریہ عقیدہ کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
لہٰذا مقرر خصوصی کا عید غدیر کی ترغیب دینا لوگوں کو کفر اور کم از کم گمراہی کی دعوت دینا ہے اور ساتھ ہی روافض کے باطل نظریات کو تقویت پہنچاتا ہے۔ مقرر خصوصی کو چاہئے کہ توبہ کرے اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح و بیعت کرے۔
فقہ حنفی کی مشہور کتاب در مختار اور اس کے حاشیہ ردالمختار میں ہے:

مـايكـون كفراتفاقايبطل العمل والنكاح واولاده اولادزنا،ومافيه خلاف يؤمربالاستغفار والتوبة(اى تجدیدالاسلام) و تجديد النكاح

متفق علیہ کفر سے عمل اور نکاح باطل ہو جاتا ہے اور اس کی حالت میں جو اولاد ہوگی وہ اولاد زنا ہو گی اور جس کے کفر ہونے میں اختلاف ہو اس میں توبہ تجدید اسلام اور تجدید نکاح کا حکم دیا جاۓ گا۔

صفحہ 4 از 5