Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے باپ سے زیادہ خلافت کا حق دار ہوں؟؟؟

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

کیا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے باپ سے زیادہ خلافت کا حق دار ہوں؟؟؟


امام بخاري رحمہ الله (المتوفى256) :

Sahih Bukhari - 4108
کتاب: غزوات کے بیان میں
باب:غزوہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے ۔ 

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَوْسَاتُهَا تَنْطُفُ , قُلْتُ : قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ , فَقَالَتْ : الْحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ , فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ , قَالَ : مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ , قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ : فَهَلَّا أَجَبْتَهُ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ , فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ وَتَسْفِكُ الدَّمَ وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ , فَذَكَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الْجِنَانِ , قَالَ حَبِيبٌ : حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ . قَالَ مَحْمُودٌ : عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : وَنَوْسَاتُهَا .

ترجمہ:
مجھے عبداللہ بن طاؤس نے خبر دی ‘ ان سے عکرمہ بن خالد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے ۔ میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگوں نے کیا کیا اور مجھے تو کچھ بھی حکومت نہیں ملی ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مسلمانوں کے مجمع میں جاؤ ‘ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا موقع پر نہ پہنچنا مزید پھوٹ کا سبب بن جائے ۔ آخر حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار پر عبداللہ رضی اللہ عنہ گئے ۔ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ خلافت کے مسئلہ پر جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے ۔ یقیناً ہم اس سے ( اشارہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف تھا ) زیادہ خلافت کے حقدار ہیں اور اس کے باپ سے بھی زیادہ ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنی لنگی کھولی ( جواب دینے کو تیار ہوا ) اور ارادہ کر چکا تھا کہ ان سے کہوں کہ تم سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے جنگ کی تھی ۔ لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری اس بات سے مسلمانوں میں اختلاف بڑھ نہ جائے اور خونریزی نہ ہو جائے اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے ۔ اس کے بجائے مجھے جنت کی وہ نعمتیں یاد آ گئیں جو اللہ تعالیٰ نے ( صبر کرنے والوں کے لیے ) جنتوں میں تیار کر رکھی ہیں ۔ حبیب ابن ابی مسلم نے کہا کہ اچھا ہوا آپ محفوظ رہے اور بچا لیے گئے ‘ آفت میں نہیں پڑے ۔ محمود نے عبدالرزاق سے ( نسواتها‏ کے بجائے لفظ ) ونوساتها‏. بیان کیا ( جس کے چوٹی کے معنی ہیں جو عورتیں سر پر بال گوندھتے وقت نکالتی ہیں ) ۔

[صحيح البخاري 5/ 110 رقم 4108 ]

الجواب بعون الملک

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مَنْ کَانَ یُرِیدُ اَنْ یَتَکَلَّمَ فِی ھَذَا اَلْاَمْرِ فَلْیُطْلِعْ لَنَا قَرْنَہُ، فَلَنَحْنُ اَحَقُ بِہِ مِنْہُ وَمِنْ أبِیْہِ

ترجمہ

اس معاملہ میں جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے، یقینا ہم اس معاملہ میں اس سے اور اس کے باپ سے زیادہ حقدار ہیں۔

اس حدیث کے بعض جملوں کا صحیح مفہوم سمجھ لیا جائے تو ان شاءاللہ کوئی اشکال نہیں ہوگا ذیل میں ہم ذیل کی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حدیث کے بعد ان جملوں کی تشریح پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔

کیا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت نہ پانے پر شکوہ کیا؟؟؟

پیش کردہ حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں

فَلَمْ یُجْعَلِّ لِیْ مِنَ اَلْاَمْرِ شَیْء

اس کا ترجمہ بعض نے یوں کیا

ترجمہ

مجھے تو کچھ بھی حکومت نہ ملی۔

حالانکہ اس کا مناسب ترجمہ یوں ہونا چاہیے

اور اس معاملہ میں میرے لئے کچھ نہیں رکھا گیا۔
یاد رہے کہ یہاں اصل عربی الفاظ میں خلافت و امارت کا لفظ ہی موجود نہیں ہے اس لیے الامر سے حکومت ہی مراد ہے اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ لہذا اس سے مسلمانوں کے معاملات بھی مراد ہوسکتے ہیں، یہ جملہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بطور شکوہ نہیں کہا بلکہ بطور حکایت کہا ہے، یعنی آپ رضی اللہ عنہ مذکورہ اجتماع میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بتارہے تھے کہ مسلمانوں کے معاملات کے متعلق انہیں کوئی ذمہ داری نہیں سونپی گئی، اس لیے اس اجتماع میں ان کا حاضر ہونا ضروری بھی نہیں، بعض حضرات اس جملے کا یہ مفہوم مراد لیتے ہیں، کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ یہ شکوہ کررہے تھے کہ انہیں خلافت و امارت ہی کی کوئی ذمہ داری کیوں نہیں سونپی گئی، لیکن ہماری نظر میں ان الفاظ کا مفہوم درست نہیں ہے، کیوں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی میں خلافت و امارت پانے کی خواہش کی ہی نہیں، تو پھر خلافت نہ ملنے پر شکوہ کیسے کرسکتے ہیں؟ اور خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا اشارہ بھی اسی بات کی طرف ملتا ہے کہ ان کے بیٹے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت نہ دی جائے۔ اور بعض روایات کے اندر تو یہ بھی آیا ہے کہ لوگوں نے خود ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہی لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیعت کرنے سے انکار کردیا۔
قال : أخبرنا مسلم بن إبراهيم قال : حدثنا سلام بن مسكين قال : سمعتُ الحسن يحدث قال : لما قتل عثمان بن عفان قالوا لعبد الله بن عمر : إنك سيد الناس وابن سيد (۳) فاخرج نبايغ لك الناس ، قال : إني والله لئن استطعتُ لا يهراق في سببي محجمة من دم ، فقالوا : لتخرجن أو لنقتلتك على فراشك ، فقال لهم مثل قوله الأول . قال الحسن : فأطمعوه وخوفوه فما استقلوا (4) منه شيئا حتى لحق بالله (٤)
حسن سے مروی ہے کہ جب عثمان بن عفان رض شہید کر دیئے گئے تو لوگوں نے عبداللہ بن عمر رض سے کہا کہ آپ لوگوں کے سردار ہیں اور سردار کے بیٹے ہیں آپ آمادہ ہوں تو ہم لوگوں سے بیعت لیں انہوں نے کہا کہ واللہ اگر مجھ سے ہو سکے گا تو میری وجہ سے ایک قطرہ خون کا بھی نہ بہایا جائے گا لوگوں نے کہا کہ آپ کو ضرور ضرور نکلنا ہوگا ورنہ ہم آپ کو بستر پر قتل کر دیں گے انہوں نے قول اول ہی کی طرح جواب دیا حسن رض نے کہا کہ ان لوگوں نے طمع دلائی اور خوف بھی دلایا۔ مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔ یہاں تک کہ وہ اللہ سے مل گئے ۔
(الطبقات الکبری دار صادر ۱۵۱/۴ واسنادہ صحیح)۔
اور بعض روایات میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ بننے کے لیے پیسے کا لالچ دیا گیا لیکن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے خلیفہ بننے سے انکار کردیا۔
(الطبقات الکبری بیروت دار صادر ۱۵۴/۴ واسنادہ صحیح)۔
امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ بننے پر مجبور کیا گیا، جب آپ نے انکار کیا تو آپ کو پیسے کا لالچ دے کر خلیفہ بنانا چاہا لیکن پھر بھی آپ نے انکار کردیا تو آپ کو دھمکیاں دی گئیں کہ آپ خلیفہ بن جائیں لیکن پھر بھی آپ نے خلیفہ بننے سے انکار کردیا۔
(الطبقات الکبری بیروت دار صادر ۱۵۱/۴)
غور کریں کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی کوشش کی گئی لیکن آپ نے انکار کردیا۔ پھر آپ کو لالچ دیا گیا پھر بھی آپ نے خلافت لینے سے انکار کردیا پھر آپ کو دھمکیاں دی گئیں آپ نے پھر بھی انکار کردیا۔ تو ایسے جلیل القدر صحابی کے بارے میں بغیر دلیل کے ہم کیسے مان لیں کہ انہوں نے خلافت و امارت کے نہ ملنے پر شکوہ کیا ہوگا!!!
لہذا ہماری نظر میں مناسب توجیہ یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بات بطور شکوہ کے نہیں بلکہ بطور حکایت کے کی ہے۔
دراصل مذکورہ اجتماع میں سیدنا علی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہما کے درمیان اختلاف کو ختم کرنے کے لیے صحابہ کرام و تابعین کرام جمع ہورہے تھے تو ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اس اجتماع میں شرکت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ کیونکہ مسلمانوں کے معاملات کے متعلق ان کو کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی تھی، اس لئے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ مجھ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے میرا جانا ضروری بھی نہیں ہے۔ تو اس پر آپ کی بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو سمجھایا کہ آپ اس اجتماع کے اندر شرکت کریں لوگوں کے لئے آپ کی رائے بہت اہمیت رکھتی ہے، ممکن ہے کہ آپ کے ذریعے سے صلح ہوجائے یہ بات سن کر عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اجتماع کے اندر شریک ہوگئے۔
مذکورہ اجتماع کب ہوا؟
مذکورہ روایت میں جس اجتماع کا ذکر ہے اس سے کون سا اجتماع مراد ہے؟ اس کے اندر اہل علم کا اختلاف ہے، جس کے بارے میں تین اقوال ہیں۔
پہلا قول
بعض لوگوں نے کہا ہے یہ معاملہ صلح حسن رضی اللہ عنہ کے وقت کا ہے امام ہیثمی نے یہ کہا ہے۔
(مجمع الزوائد للہیثمی ۲۴۲/۴)
لیکن یہ درست نہیں کیوں کہ اس پر کوئی دلیل نہیں۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس قول کو غلط قرار دیا ہے۔
(فتح الباری لابن حجر ۴۰۳/۷)۔
دوسرا قول
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ یزید کےلئے بیعت لیتے وقت کا معاملہ ہے، یہ ابن جوزی کا قول ہے۔
(کشف المشکل من حدیث الصحیحین۵۷۶/۲)۔
لیکن یہ قول بے دلیل ہونے کے ساتھ انتہائی بعید اور نامعقول ہے۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے الجوزی کی اس رائے کی سختی سے تردید کی ہے۔
(فتح الباری لابن حجر۴۰۳/۷)۔
تیسرا قول
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے تحکیم کے وقت کا واقعہ مراد ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہ کا یہی موقف ہے۔ اور یہی مٶقف درست ہے۔ کیوں اس کی تائید دیگر صحیح روایات سے ہوتی ہے۔ چنانچہ مصنف عبدالرزاق میں یہی روایت اسی سند سے مروی ہے اور اس میں واقعہ تحکیم کی صراحت ہے
عبد الرزاق عن معمر عن الزهري عن سالم عن ابن عمر قال معمر: وأخبرني ابن طاووس عن عكرمة بن خالد عن ابن عمر قال : دخلت على حفصة ونوساتها تنطف (3) ، فقلت : قد كان من أمر الناس ما ترين ، ولم يجعل لي من الأمر شيء ، قالت : فالحق بهم فإنهم ينتظرونك ، والذي أخشى أن يكون في احتباسك عنهم فرقة ، فلم تدعه حتى يذهب ، فلما تفرق الحكمان خطب معاوية فقال : من كان متكلماً فليطلع قرنه (۱)
حضرت عبداللہ بن عمر رض بیان کرتے ہیں: میں سیدہ حفصہ رض کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے کہا: لوگوں کی جو صورت حال ہے وہ آپ دیکھ رہی ہیں اور میرا اس معاملہ کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے تو سیدہ حفصہ رض نے کہا: تم ان کے ساتھ جا کر ملو وہ تمہارا انتظار کررہے ہیں مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر تم ان کے پاس نہ گئے تو ان کے درمیان انتشار نمودار ہوگا۔ پھر سیدہ حفصہ رض نے اصرار کر کے انہیں جانے پر مجبور کیا جب دونوں ثالث ایک دوسرے سے الگ ہو گئے تو حضرت معاویہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: جو شخص اس بارے میں کوئی بات چیت کرنا چاہتا ہے وہ اپنے آپ کو پیش کرے!
(مصنف عبد الرزاق۴۸۳/۵ رقم ۹۷۷۹ واسنادہ صحیح)۔
لہذا اس سے معلوم ہوا کہ حدیث مذکور میں جس اجتماع کا ذکر ہے اس سے مراد سیدنا علی و سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کے مابین تحکیم کا واقعہ ہے جو صفین کے موقع پر ہوا۔
کیا امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ خود کو عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ خلافت کا حقدار سمجھتے تھے؟
اس حدیث میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ ہیں
فَلَنَحْنْ أَحَقُّ بِہِ مِنْہُ وَمِنْ أَبِیْہِ
ترجمہ
یقینًا ہم اس معاملہ میں اس سے اور اس کے باپ سے زیادہ حق دار ہیں۔
اس جملہ سے تین چیزیں سمجھنے کی ہیں۔
1: اس جملہ سے امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کس کو مراد لیا ہے؟
2: اس جملہ میں جیسے مراد لیا گیا ہے اس کے باپ کا حوالہ کس معنیٰ میں ہے؟
3: اس جملہ میں جس معاملہ کے متعلق بات کہی گئی ہے وہ معاملہ کونسا ہے؟
امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی مراد
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس جملے سے کون مراد ہیں؟ اس بارے میں اختلاف ہے، بعض کے بقول سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور ان کے والد سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ مراد ہیں۔ اور بعض کے بقول ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے والد سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ مراد ہیں، لیکن یہ دونوں باتیں بے دلیل ہیں۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بغیر کسی تخصیص کے عمومی طور پر یہ بات کہی ہے۔ کیونکہ اول تو امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے الفاظ عام ہیں۔ دوسرا یہ کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اختلاف کا کوئی تعلق تھا ہی نہیں، تو امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ انہیں کیوں مراد لے سکتے ہیں؟
اور مصنف عبدالرزاق کی ایک روایت میں جو یہ صراحت ہے کہ اس سے امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا اشارہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔
(مصنف عبد الرزاق ۴۶۵/۵)
تو یہ وضاحت حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ نیچے کسی راوی نے اپنی طرف سے کی ہے۔ تو یہ بات معتبر نہیں ہے۔
لہٰذا جب تک امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اپنے الفاظ میں صراحت نہ ملے ہم دوسری کی وضاحت پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر کوئی الزام قطعا نہیں لگاسکتے ۔
رہی بات یہ کہ پھر حبیب بن مسلمہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ سے جواب نہ دینے کہ وجہ کیوں پوچھی جب کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ ان کی طرف نہیں تھا ؟ تو ممکن ہے کہ ابن عمر رضی اللہ کے بیان کے لہجہ میں عدم اتفاق ظاہر ہوا ہو اس لئے ان سے جواب نہ دینے کی وجہ پوچھی گئی ۔لہذا ان سے یہ سوال بھی اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ انہیں کی طرف تھا ۔
رہا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا عدم اتفاق تو اس کی وضاحت آگے آرہی ہے۔
خلاصہ یہ کہ اصل روایت کے اندر کسی بھی معین شخص کی طرف اشارہ کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔لہٰذا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس جملہ میں بغیر کسی شخص کی تعین کی عمومی طور پر اپنی بات کہی ہے۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے جملہ میں عام شخص کی بات کرتے ہوئے اس کے باپ کا بھی ذکر کیا ہے اسے عام طور سے حقیقت پر محمول کیا گیا ہے لیکن یہاں سیاق سے یہی ظاہر ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے باپ کے حوالہ میں حقیقت مراد نہیں لی ہے بلکہ بطور مبالغہ یہ بات کہی ہے ۔چناں چہ اہل عرب کبھی کبھی بات میں تاکید پیدا کرنے کے لئے بطور مبالغہ کسی شخص کا تذکرہ اس کے باپ کے ساتھ بھی کردیتے تھے مثلا کہتے : فلاں افضل منک ومن ابیک۔یعنی فلاں تم سے اور تمہارے باپ سے بھی افضل ہے۔اوریہاں باپ سے موازنہ مقصود نہیں ہوتا تھا۔
چنانچہ ایک بار عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے عبدللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا آپ فقیہ نہیں ہیں تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:
والله لأنا أفقه منك ومن أبيك
اللہ کی قسم ! میں تم سے اور تمہارے باپ سے بھی زیادہ فقیہ ہوں
[أنساب الأشراف للبلاذري، ط، دار الفكر: 4/ 54 واسنادہ صحیح ]
یہاں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے باپ کے حوالے میں حقیقت مراد نہیں لی ہے بلکہ بطور مبالغہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے والد کا نام لے لیا ہے ورنہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ ہرگز نہیں سوچا جاسکتا کہ وہ خود کو مبشربالجنہ اور جلیل القدر صحابی زبیررضی اللہ عنہ سے بھی بڑا فقیہ بتلائیں ۔
اسی طرح کی ایک اور مثال کے لئے دیکھئے :
[المعجم الكبير للطبراني 20/ 403 واسنادہ صحیح]
خلاصہ یہ کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہاں پر بطور مبالغہ باپ کا نام لے لیا ہے حقیقت مراد نہیں ہے ۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات جس معاملہ سے متعلق کہی ہے وہ معاملہ کیا ہے یہ بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔
عام طور سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ یہاں خلافت کے معاملہ میں بات چل رہی ہے، حالانکہ یہ بات قطعا درست نہیں۔اس سے انکار نہیں کہ روایات میں ”الأَمْرِ“ خلافت کے لئے بھی بولا گیا ہے لیکن ہرجگہ اس لفظ سے خلافت ہی مراد نہیں ہوتی ہے اوریہاں بھی یہی بات ہے کہ یہ خلافت کے معنی میں نہیں کیونکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا مشن خود کو خلیفہ بنانا نہیں تھا بلکہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینا ۔لہٰذا یہاں پر معاملہ سے مراد وہ معاملہ ہے جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا مشن تھا اور وہ ہے ، قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص ۔اسی معاملہ کے بارے میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بات کہی ہے کہ میں ہر بولنے سے والے اور اس کے باپ سے اس معاملے میں زیادہ حقدار ہوں ۔یعنی خون عثمان کے مطالبہ کے بارے میں ۔
اور یہ بات درست ہے کہ اس معاملے میں سب سے زیادہ حق دار امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہی تھے ۔علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فإنه ولي عثمان بن عفان والمطالب بدمه وهو أحق الناس
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ولی تھے اور ان کے خون کے طالب تھے اور اس بابت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ حقدار وہی تھے
[عمدة القاري شرح صحيح البخاري 17/ 185]
اوربالکل صحیح روایت سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ اعتراف و اقرار ثابت ہے کہ وہ علی رضی اللہ سےافضل نہیں ، نہ ہی خلافت میں علی رضی اللہ عنہ کے مخالف ہیں اورنہ ہی علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں بلکہ ان کا مقصد صرف قاتلین عثمان سے قصاص لینا ہے۔چناں چہ:
يحيى بن سليمان الجعفى رحمہ اللہ (المتوفی238) نے کہا:
حدثنا يعلى بن عبيد، عن أبيه، قال: جاء أبو مسلم الخولاني وأناس إلى معاوية، وقالوا: أنت تنازع عليا، أم أنت مثله؟ فقال: لا والله، إني لأعلم أنه أفضل مني، وأحق بالأمر مني، ولكن ألستم تعلمون أن عثمان قتل مظلوما، وأنا ابن عمه، والطالب بدمه، فائتوه، فقولوا له، فليدفع إلي قتلة عثمان، وأسلم له. فأتوا عليا، فكلموه، فلم يدفعهم إليه .
ابومسلم الخولانی اور کئی حضرات امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: آپ علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرتے ہیں یا خود کو ان کی طرح سمجھتے ہیں ؟ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں ! اللہ کی قسم ! مجھے پتہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ مجھ سے افضل ہیں ، اور خلافت کے مجھ سے زیادہ حقدار ہیں ، لیکن کیا تم نہیں جانتے کہ عثمان رضی اللہ عنہ مظلومانہ قتل کئے گئے ، اور میں ان کا چچازاد بھائی ہوں اور ان کے خون کا طالب ہوں ، لہٰذا تم لوگ علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ قاتلین عثمان کو میرے حوالے کردیں میں ان کی خلافت تسلیم کرلیتاہوں ۔ پھر یہ حضرات علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اوران سے بات کی لیکن علی رضی اللہ عنہ نے قاتلین عثمان کو امیر معاویہ کے حوالے نہیں کیا۔
[ كتاب صفين للجعفی بحوالہ سير أعلام النبلاء للذهبي: 3/ 140 واسنادہ صحیح]
اس صحیح روایت میں غور کریں کس طرح امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صاف لفظوں میں کہہ رہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ سے افضل نہیں ہے اور نہ خلافت میں ان سے زیادہ حقدار ہیں بلکہ وہ صرف قاتلین عثمان سے قصاص چاہتے ہیں ۔
اس صاف اور صریح بیان کے ہوتے ہے کیسے ممکن ہے کہ امیر معاویہ خود کو خلافت کا سب سے زیادہ حقدار سمجھیں ۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ بخاری کی روایت میں انہوں نے جس معاملہ میں خود کو زیادہ حقدار کہا ہے وہ خلافت کا معاملہ نہیں بلکہ خون عثمان کے مطالبہ کا معاملہ ہے اور بے شک اس میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ حقدار ہیں ۔
اور جو لوگ امیر معاویہ کے جملے میں مستعمل لفظ ”اب“ (باپ) کو حقیقی معنی میں لیتے اور معاملہ کو خلافت کا معاملہ مانتے ہیں اور اس جملہ کا روئے سخن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سمجھتے ہیں ۔ وہ غور کریں کہ جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خود کو علی رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ خلافت کا حقدار نہیں سمجھتے جو چوتھے خلیفہ ہیں تو بھلا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خود کو عبداللہ بن عمر کے والد عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ خلافت کا حقدار کیسے سمجھ سکتے ہیں جو بالاتفاق دوسرے خلیفہ ہیں ؟؟؟
رہی بات یہ کہ پھر حبیب بن سلمہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ سے جواب نہ دینے کہ وجہ کیوں پوچھی جب کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ ان کی طرف نہیں تھا ؟ تو جیساکہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ ممکن ہے کہ ابن عمر رضی اللہ کے بیان کے لہجہ میں عدم اتفاق ظاہر ہوا ہو اس لئے ان سے جواب نہ دینے کی وجہ پوچھی گئی ۔لہذا ان سے یہ سوال اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ انہیں کی طرف تھا ۔
اور رہا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عدم اتفاق تو ممکن ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ اس معاملے میں بھی انہیں حضرات کو زیادہ حقدار سمجھتے ہوں جو اسلام لانے کے اعتبار سے پہلے ہوں ۔ لیکن جس انداز سے جواب ان کے ذہن میں آیا تھا اس سے لوگوں کو غلط فہمی ہوسکتی تھی اور لوگ کچھ ان کی منشا کے خلاف کچھ اورہی مطلب اخذ کرسکتے تھے اس لئے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار کی جیساکہ خود انہوں نے خاموشی اختیار کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا:
وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ،
اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے۔
افسوس کہ جس غلط فہمی سے لوگوں کو بچانے کے لئے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب نہیں دیا آج لوگ اسی غلط فہمی میں مبتلا ہورہے ہیں ۔اور اتنا بھی نہیں سوچتے کہ بھلا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو امیر معاویہ کے سامنے اپنے والد کو ان سے زیادہ خلافت کا حقدار ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ کبھی بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ابن عمر رضی اللہ عنہ کے والد سے اختلاف رہا ہی نہیں ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بھی اس کج فہمی پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وقيل أراد عمر وعرض بابنه عبد الله وفيه بعد لأن معاوية كان يبالغ في تعظيم عمر
اور کہا گیا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو مراد لیا اور ان کے بیٹے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا ۔ اوریہ بہت بعید ہے کیونکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے۔
[فتح الباري لابن حجر 7/ 404]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے علی رضی اللہ عنہ کو مراد لینے اور ان کے بیٹے کی طرف اشارہ کا انکار نہیں کیا ہے ۔ لیکن یہ بات بھی درست نہیں ہے کیونکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ، علی رضی اللہ عنہ کا بھی احترام کرتے تھے اور انہیں خود سے افضل اور خلافت کے زیادہ حقدار سمجھتے تھے۔ جیساکہ صحیح روایت سے ثبوت پیش کیا گیا ہے ۔اس لئے درست بات یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے نہ عمر رضی اللہ عنہ کو مراد لیا ہے نہ علی رضی اللہ عنہ کو، بلکہ سرے سے حق خلافت ہی کی بات نہیں کی ہے۔ بلکہ خون عثمان رضی اللہ عنہ کے مطالبہ کی بات کی ہے اور اس معاملہ میں بغیر کسی کی تعین کے خود کو سب سے زیادہ حقدار کہا ہے ۔
فقط واللہ تعالی اعلم