کیا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا امیر معاویہ رضی…

کیا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے باپ سے زیادہ خلافت کا حق دار ہوں؟؟؟

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 1 از 3

کیا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے باپ سے زیادہ خلافت کا حق دار ہوں؟؟؟


امام بخاري رحمہ الله (المتوفى256) :

Sahih Bukhari - 4108
کتاب: غزوات کے بیان میں
باب:غزوہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے ۔ 

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَوْسَاتُهَا تَنْطُفُ , قُلْتُ : قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ , فَقَالَتْ : الْحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ , فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ , قَالَ : مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ , قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ : فَهَلَّا أَجَبْتَهُ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ , فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ وَتَسْفِكُ الدَّمَ وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ , فَذَكَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الْجِنَانِ , قَالَ حَبِيبٌ : حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ . قَالَ مَحْمُودٌ : عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : وَنَوْسَاتُهَا .

ترجمہ:
مجھے عبداللہ بن طاؤس نے خبر دی ‘ ان سے عکرمہ بن خالد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے ۔ میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگوں نے کیا کیا اور مجھے تو کچھ بھی حکومت نہیں ملی ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مسلمانوں کے مجمع میں جاؤ ‘ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا موقع پر نہ پہنچنا مزید پھوٹ کا سبب بن جائے ۔ آخر حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار پر عبداللہ رضی اللہ عنہ گئے ۔ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ خلافت کے مسئلہ پر جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے ۔ یقیناً ہم اس سے ( اشارہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف تھا ) زیادہ خلافت کے حقدار ہیں اور اس کے باپ سے بھی زیادہ ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنی لنگی کھولی ( جواب دینے کو تیار ہوا ) اور ارادہ کر چکا تھا کہ ان سے کہوں کہ تم سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے جنگ کی تھی ۔ لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری اس بات سے مسلمانوں میں اختلاف بڑھ نہ جائے اور خونریزی نہ ہو جائے اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے ۔ اس کے بجائے مجھے جنت کی وہ نعمتیں یاد آ گئیں جو اللہ تعالیٰ نے ( صبر کرنے والوں کے لیے ) جنتوں میں تیار کر رکھی ہیں ۔ حبیب ابن ابی مسلم نے کہا کہ اچھا ہوا آپ محفوظ رہے اور بچا لیے گئے ‘ آفت میں نہیں پڑے ۔ محمود نے عبدالرزاق سے ( نسواتها‏ کے بجائے لفظ ) ونوساتها‏. بیان کیا ( جس کے چوٹی کے معنی ہیں جو عورتیں سر پر بال گوندھتے وقت نکالتی ہیں ) ۔

[صحيح البخاري 5/ 110 رقم 4108 ]

الجواب بعون الملک

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مَنْ کَانَ یُرِیدُ اَنْ یَتَکَلَّمَ فِی ھَذَا اَلْاَمْرِ فَلْیُطْلِعْ لَنَا قَرْنَہُ، فَلَنَحْنُ اَحَقُ بِہِ مِنْہُ وَمِنْ أبِیْہِ

ترجمہ

اس معاملہ میں جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے، یقینا ہم اس معاملہ میں اس سے اور اس کے باپ سے زیادہ حقدار ہیں۔

اس حدیث کے بعض جملوں کا صحیح مفہوم سمجھ لیا جائے تو ان شاءاللہ کوئی اشکال نہیں ہوگا ذیل میں ہم ذیل کی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حدیث کے بعد ان جملوں کی تشریح پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔

کیا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت نہ پانے پر شکوہ کیا؟؟؟

پیش کردہ حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں

فَلَمْ یُجْعَلِّ لِیْ مِنَ اَلْاَمْرِ شَیْء

اس کا ترجمہ بعض نے یوں کیا

ترجمہ

مجھے تو کچھ بھی حکومت نہ ملی۔

حالانکہ اس کا مناسب ترجمہ یوں ہونا چاہیے

صفحہ 1 از 3