حضرت عمرؓ نے ایک محفل میں شراب نوشی کی۔ (کتاب الآثار )*
زینب بخاریحضرت عمرؓ نے ایک محفل میں شراب نوشی کی۔
(کتاب الآثار )*
(الجواب اہلسنّت)
دھوکہ بازی سے جو باز نہ آئے اس کا کیا کیا جا سکتا ہے حالانکہ امام محمد ؒ نے نبیذ (’’کسی بھی خشک پھل (منقی یا چھوہارے) کو پانی میں ڈال دیا جاتا، جب وہ نرم ہو جاتا تو پھل کو ہاتھوں سے مسل کر کسی کپڑے سے اس کا پانی نچوڑ لیا جاتا تا کہ پھل کا پھوگ الگ ہو جائے،) کا باب باندھا اور روایت میں نبیذ کے پینے کا ذکر کیا پھر فرمایا کہ هذا قول ابی حنیفة یعنی امام اعظم ؒ نبیذ کے استعمال کو جائز قرار دیتے ہیں عرب میں نبیذ کا استعمال بکثرت ہوتا تھا آپﷺ نے بھی نبیذ نوش فرمائی ہے نبیذ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ کھجوریں میں پانی میں ڈال کر رکھ دی جائیں حتی کہ ان کھجوروں کے مٹھاس سے وہ پانی میٹھا شربت بن جائے یہ نبیذ ہے اگر پانی میں کھجوریں ڈال کر بند کر کے زیادہ وقت کے لئے رکھا جائے تا کہ اس میں نشہ پیدا ہو جائے تو اب یہ شراب ھے جو حرام ہے امام محمد رحمہ اللہ نے آگے کے ابواب میں وضاحت فرمائی ہے کہ جب وہی کھجوروں والا پانی نشہ آور ہو جائے اور گاڑھا ہو جائے تو وہ حرام ہو جاتا ہے۔ اس نبیذ کے پینے کو شیعہ نے شراب کا پینا بتا دیا شاباش ہے فریب کاری کے کامل ماہرین تحقیقی دستاویز والوں کو جنہوں نے دھوکہ بازی میں اپنے پچھلوں کو مات دے ڈالی ہے تو اگلوں کیلئے یہ میدان جیتنے کے واسطے مقابلہ سخت کر دیا ہے۔