Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عمرؓ حضرت علیؓ کے داماد ہیں بر جواب قضیہ ازواج عمر

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد ہیں

برجواب قضیہ ازواج حضرت عمر 

امیر المومنین، خسرِ پیمبر، مراد رسولﷺ، داماد علی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ سے نکاح کے متعلق ایک مضمون ”قضیہ ازواج حضرت عمر“ کے نام سے سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے۔ 
جس میں مضمون نگار نے انتہائی درجے کی خیانت اور دجل سے کام لیتے ہوۓ علم الریاضیات کے تحت ایک مفروضہ گھڑا ہے۔۔
جو کہ بے سند اور بے دلیل ہونے کے ساتھ ساتھ بلکل غلط بیانی پر مبنی ہے۔
دراصل شیعہ حضرات اس رشتے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس نکاح کو ماننے سے لازمی طور پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان کو ماننا پڑے گا۔
 یا پھر اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے معاذاللہ اپنی بیٹی کا نکاح کافر سے کروایا۔
اسی بنا پر شیعہ حضرات اس نکاح کا انکار کرتے ہیں اور تاریخی روایات کو جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

 اس مضمون میں بھی رافضی (مضمون نگار) نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبول اسلام کے وقت عمر چالیس
(40) سال بتائی ہے اور اس بات پر کوئی حوالہ بھی پیش نہیں کیا اسی غلط بیانی اور دجل سے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اس حساب سے ام کلثوم بنت علی سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شادی کے وقت ام کلثوم کی عمر پانچ سال بنتی ہے اور عقل سلیم اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ پانچ برس کی عمر میں ایک بچی کی شادی ہوجاۓ۔

 درحقیقت یہ مفروضہ بغیر کسی دلیل کے گھڑا گیا ہے۔ یا تو مضمون نگار نے کتب تاریخ (سنی+شیعہ) کا مطالعہ ہی نہیں کیا یا پھر اہل تشیع کی سابقہ روایات کے مطابق دجل سے کام لیا ہے۔
ذیل میں ہم تاریخی حوالہ جات کے ساتھ اس ساری بحث کو نقل کرکے یہ ثابت کریں گے کہ علم الریاضیات کے تحت بھی اگر دیکھا جاۓ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جب نکاح ہوا تو اس وقت سیدہ کی عمر 12 سال تھی نہ کہ پانچ سال۔ 

درحقیقت حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کی عمر قبول اسلام کے وقت 40 چالیس سال نہیں بلکہ 33 تینتیس سال تھی۔
 حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کی پیداٸش ہجرت نبوی سے چالیس(40) سال قبل ہوئی۔(الفاروق ص41)

نبی اکرمﷺ کے اعلان نبوت کے وقت حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کی عمر ستاٸیس (27) سال تھی۔
(سیرت ابن ھشام، الفاروق ص45)

نبوت کے چھٹے سال حضرت عُمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔
(طبقات ابن سعد، ابن عساکر، انساب الاشراف، بلاذری بحوالہ الفاروق ص:47)

اس حساب سے قبول اسلام کے وقت حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کی عمر تینتیس(33) سال تھی۔(27+6)=33

شیعہ (مضمون نگار) نے اسی جگہ دجل و فریب سے کام لیا اور قبول اسلام کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر کو چالیس(40) سال بتایا حالانکہ تاریخی حوالہ جات کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کی عمر قبول اسلام کے وقت تینتیس(33) برس تھی البتہ ہجرت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر چالیس برس تھی۔
تریسٹھ (63) برس کی عمر میں یکم محرم الحرام 24 ھجری میں حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی (الفاروق)
 
دوسری جانب سیدہ ام کلثوم کبریٰ بنت علی کی تاریخ پیداٸش سن پانچ (5) ہجری ہے۔
(ذہبی،سیرالاعلام النبلاء
ج:2،ص:500،
(اعلام النساء ص:238

جبکہ 17ہجری میں حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کا سیدہ ام کلثوم سے نکاح ہوا۔
(تذکرة الاٸمہ ملا مجلسی) 
(ناسخ لتواریخ ج:2،ص:296)
 
اس حساب سے حضرت عُمر رضی اللہ عنہ سے نکاح کے وقت سیدہ ام کلثوم کبریٰ بنت علی کی عمر بارہ (12) برس تھی۔
اور اس عمر میں نکاح کرنا نہ تو خلاف عقل ہے اور نہ ہی خلاف شرع۔ عام طور پر اس عمر میں خواتین کی شادیاں ہوتی ہیں۔ جیسا کہ ام المومنین سیدہ عاٸشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نو (9) سال کی عمر میں  رخصتی بھی ہوچکی تھی اور ایرانی قانون کے مطابق ایران کی خواتین کی شادی کی کم سے کم عمر نو (9) سال ہی ہے۔ اس لیے بارہ (12) سالہ خاتون کے نکاح میں کسی قسم کے اعتراض کی گنجاٸش باقی  نہیں بچتی۔

اور شیعہ حضرات نکاح شرعی پر اعتراض کرنے سے پہلے ذرا اپنے گھر میں بھی جھاڑو پھیر لیں کہ ان کے ہاں متعہ کے لیے عمر کی کیا شراٸط ہیں۔ 
"دس سال کی بچی سے متعہ جاٸز ہے"۔
(تہذیب الاحکام ص:330۔)
(من لایحضرہ الفقیہ ص:535)

معروف شیعہ فقیہ علامہ محمد بن حسن حرالعاملی کہتے ہیں:
"نو سال کی بچی سے متعہ جاٸز ہے"۔(وساٸل الشیعہ)،

نجف کی شیعہ درسگاہ کے معروف مجتھد آیت اللہ السید حسین الموسوی نے خمینی کے متعلق اپنا چشم دید واقعہ لکھا کہ وہ کسی کے ہاں مہمان ٹھہرے اور چار یا پانچ سالہ بچی سے متعہ کیا۔(کشف الاسرار)

خمینی کے نزدیک کم عمر بچی سے متعہ جاٸز ہے۔
(تحریرالوسیلہ ج:2،ص:241، مسٸلہ نمبر 12)

اسی طرح (الاستبصار ص:551) میں ہے کہ

 ”أن تکون البکر صبیة لم تبلغ فانّہ لا یجوز التمتع بھا الّا باذن أبیھا“

ان حوالہ جات کے بعد شیعہ کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نکاح شرعی پر اعتراض کرنے سے پہلے شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔
اور شیعہ (مضمون نگار) نے اگر اپنی شیعہ کتب کا بھی مطالعہ کیا ہوتا تو یقیناً وہ ایسی جسارت کر کے اپنے اکابرین کی تحقیقات پہ پانی نہ پھیرتا۔ 
شیعہ متقدمین نے نہ صرف اس نکاح کو اپنی کتب میں تسلیم کیا بلکہ اس سے کٸ مساٸل بھی مستنبط کیے ہیں۔

جن شیعہ کتب نے اس نکاح کو تسلیم کیا۔
وہ درج ذیل ہیں۔
(فروع کافی کتاب الطلاق ج:6،ص:115,116)،
(تاریخ الیعقوبی ج:2،ص:149,150)،
(تہذیب الاحکام،کتاب المیراث ج:9،ص:262)،
سید مرتضیٰ ’’علم الہدیٰ‘‘
(الشافي، ص : 166)، 
فخر شیعہ،ابنِ شہر آشوب
(مناقب آل أبي طالب : 162/3، طبعۃ ممبئی، الہند)، شیعہ عالم اربلی
(کشف الغمّۃ في معرفۃ الأئمّۃ، ص : 10، طبع إیران، القدیم)،
ابنِ ابی الحدید
(شرح نہج البلاغۃ : 124/3)، مقدس اردبیلی
(حدیقۃ الشیعۃ، ص : 277، طبعۃ طہران)،
 قاضی نور اللہ شوشتری ملقب بہ الشہید الثالث
(مجالس المؤمنین، ص : 76، طبعۃ إیران، القدیم)

درج ذیل کتب میں اسی نکاح کے واقعہ سے شیعہ مجتھدین نے یہ مسٸلہ مستنبط کیا کہ ہاشمی لڑکی کا نکاح غیر ہاشمی سے جاٸز ہے۔
(شراٸع اسلام فی مساٸل الحلال والحرام،کتاب النکاح ج:2،ص:467)
(مسالک الافہام شرح شراٸع الاسلام باب لواحق العقد ج:7،ص:410
(شرح نہج البلاغہ ج:4،ص:575 طبعة بیروت 1475ھج)
 
جب شیعہ سنی تمام کتب اور علم الریاضیات کے تحت بھی یہ بات ثابت ہوگٸ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ سے ہوا تو اس سے  یہ بھی ثابت ہوا کہ خلفاۓ راشدین اور صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنھم کی آپس میں گہری محبت اور اتفاق و اتحاد تھا یہاں تک کہ ایک دوسرے سے رشتے بھی کرتے تھے لہذاء ان حضرات کی محبتوں کو بیان کیا جاۓ یہی ان حضرات سے عقیدت کا منشاء ہے۔
اور جو لوگ ان کی آپس میں عداوتیں بتاتے ہیں درحقیقت وہ فرقہ پرست اور دشمن دین ہیں اہل ایمان کو ان دین دشمنوں سے اپنے ایمان کو بچانا چاہیئے 
وما توفیقی الا باللہ