کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی 40 سال کی عمر تک تین بیٹیوں…

کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی 40 سال کی عمر تک تین بیٹیوں کی پیدائش، شادی اور طلاق ہوئی؟؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

کیا رسول اللہﷺ کی 40 سال کی عمر تک تین بیٹیوں کی پیدائش، شادی اور طلاق ہوئی؟؟

عرصہ دراز سے سوشل  میڈیا پر ایک پُر فریب کلپ وائرل ہے جس میں شیعہ ذاکر آصف علوی غلط حساب لگا کر رسولﷺ کی تین بیٹیوں کا انکار کرتے ہوئے کہتا ہے:
جب نبیﷺ کی شادی ہوئی تو اس وقت نبی کریمﷺ کی عمر مبارک 25 تھی۔ شیعہ سنی تمام نے لکھا 25 سال کی عمر میں نبی کریمﷺ کی شادی ہوئی۔ اب جنہوں نے چار بیٹیاں لکھی انہوں نے کہا نبیﷺ نبی بنے تھے 40 سال کے بعد، 29 سال کی عمر تک نبیﷺ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی ہے شیعوں نے بھی لکھا اور سُنی سیرت نگاروں نے بھی لکھا۔ پہلا بیٹا پیدا ہوا چار سال کے بعد عمر مبارک تھی 29 سال بیٹے کا نام تھا قاسم جس کی وجہ سے مشہور ہوئے ابوالقاسم۔ اب جس نے لکھی چار بیٹیاں اب اس نے لکھا: ابن خلدون سے شبلی نعمانی شبلی نعمانی سے لیکر ڈاکٹر طاہر القادری تک سب نے لکھا اعلان نبوت سے 5 سال پہلے معاذاللہ ثم معاذاللہ نقل کفر کفر نہ باشد نبیﷺ نے اپنی 3 بیٹیوں کا عقد مشرکوں سے کیا تھا اب یہ سُنی تاریخ ہے عتبہ، عتیبہ، ابوالعاصؓ، اب بچے پوچھتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کی بیٹیاں اور مشرک کے گھر؟

تو مولوی کہتا ہے کیونکہ وہ اس وقت نبی نہیں بنے تھے نبی بنے 40 سال بعد اس لیے 40 سال سے پہلے ہی شادی کر دی تھی۔ اب 25 سال کی عمر میں شادی اور 40 سال کی عمر میں نبی۔ انہوں نے کہا اعلان نبوت سے 5 سال پہلے شادیاں کر دی تھیں 25 اور 40 سال کے درمیان بچتے ہیں 15 سال 4 سال تک کوئی اولاد نہیں 15 میں سے 4 نکالے تو سال بچ گئے 11،

 اعلانِ نبوت سے 5 سال پہلے شادیاں کرا دیں تو 11 میں سے 5 نکال دو تو  6 سال بچ گئے۔ کس بےغیرت مذہب میں ہے 6 سال میں 3 بیٹیاں پیدا بھی ہوگئیں جوان بھی ہو گئیں اور شادیاں بھی ہو گئی؟ لیجیے یہ تھی اس کی تحقیق

 آئیے اب اسے علم کے میدان میں کھڑا کر کے اس کی تحقیق کی حقیقت اسی کے مذہب کی معتبر ترین کتاب سے دکھاتے ہیں!!

 پہلا جھوٹ: قارئین کرام! شیعہ ذاکر کا یہ کہنا (ابن خلدون سے شبلی نعمانی شبلی نعمانی سے لیکر ڈاکٹر طاہر القادری تک سب نے لکھا اعلان نبوت سے 5 سال پہلے معاذاللہ ثم معاذاللہ نقل کفر کفر نہ باشد نبیﷺ نے اپنی 3 بیٹیوں کا عقد مشرکوں سے کیا تھا اب یہ سنی تاریخ ہے عتبہ، عتیبہ، ابوالعاص) سراسر جھوٹ ہے۔
ہم نے تاریخ ابن خلدون میں بہت تلاش و جستجو کے باوجود یہ بات کہیں نہیں پائی کہ ان صاحبزادیوں کا نکاح اعلان نبوت سے 5 سال پہلے ہوا بلکہ پوری کتاب میں عتبہ اور عتیبہ کے نکاح کا ذکر تک نہیں البتہ ایک جگہ عتبہ کا صرف اتنا ذکر آتا ہے۔ و من عقب أبي لهب ابنه عتبة صحابي

(تاریخ ابن خلدون: جلد 2 صفحہ 393 ناشر بیروت)

کہ ابولہب کی نسل میں سے اس کا بیٹا عتبہ صحابی ہے۔ لیکن ان دونوں بھائیوں کے شادی کا تذکرہ تاریخ ابن خلدون میں تلاش کے باوجود کہیں نہیں ملا۔ لہٰذا یہ شیعہ کا جھوٹ نمبر ایک ہے۔

 دوسرا جھوٹ: شیعہ ذاکر کا یہ کہنا کہ شبلی نعمانی نے بھی یہی بات لکھی ہے یہ جھوٹ نمبر دو ہے۔ ہم نے شبلی نعمانی کی کتاب سیرۃ النبیﷺ میں جب اس حوالے کی تحقیق کی تو ہمیں اس کے خلاف بات نظر آئی وہ یہ کہ شبلی نعمانی صرف اتنا بتا رہے ہیں کہ رقیہؓ اور ام کلثومؓ کا نکاح ابوجہل کے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے نبوت سے پہلے ہوا۔ لہٰذا اس میں 5 سال کا لفظ شیعہ نے اپنی فیکٹری سے بنایا ہے۔

اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں:
(سیدہ رقیہؓ) مشہور روایت یہ ہے کہ حضرت زینبؓ کے تقریباً 3 سال بعد یعنی بعثت سے7 سال پہلے پیدا ہوئیں، جب رسول اللہﷺ کی عمر مبارک 33 سال تھی پہلے ابولہب کے بیٹے عتبہ سے شادی ہوئی۔

ابن سعد نے لکھا ہے کہ یہ شادی قبل نبوت ہوئی تھی، آنحضرتﷺ کی دوسری صاحبزادی ام کلثومؓ کی شادی بھی ابولہب کے دوسرے لڑکے عتیبہ سے ہوئی تھی جب آنحضرتﷺ کی بعثت ہوئی اور آپﷺ نے دعوت اسلام کا اظہار کیا تو ابولہب نے بیٹوں کو جمع کر کے کہا: "اگر تم محمد کی بیٹیوں سے علیحدگی اختیار نہیں کرتے تو تمہارے ساتھ میرا سونا بیٹھنا حرام ہے۔

دونوں فرزندوں نے باپ کے حکم کی تعمیل کی۔

 (سیرت النبیؐ شبلی نعمانی: صفحہ 436)

 شیعہ اپنی اس تقریر (کس بے غیرت مذہب میں ہے کہ 6 سال میں 3 بیٹیاں پیدا بھی ہو گئیں جوان بھی ہوگئیں اور شادیاں بھی ہو گئیں؟) سے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ سنیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اس 6 سال کے عرصہ کے دوران صاحبزادیاں جوان بھی ہو گئیں اور ان کی شادی بھی ہو گئیں حالانکہ ان مذکورہ کتابوں میں سے کسی بھی کتاب میں یہ بات نہیں لکھی ہے کہ وہ صاحبزادیاں جوان ہو گئیں اور ان کی جوانی کی حالت میں شادی ہو گئی اور رخصتی بھی ہو گئی یہ سراسر دھوکہ اور شیعہ کا جھوٹ ہے۔

درحقیقت اعلانِ نبوت سے کچھ عرصہ قبل نکاح ہوا تھا جب سیدہ زینبؓ کی عمر 10 سال تقریباً اور سیدہ رقیہؓ و سیدہ ام کلثومؓ کی عمر بالترتیب 7 اور 6 سال تھی۔ اور سیدہ رقیہؓ اور ام کلثومؓ  کو طلاق اعلانِ نبوت کے 3 سال بعد ہوئی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا 13 سال کے دوران تین بچیوں کا پیدا ہونا محال ہے ہر عاقل کہے گا ہرگز نہیں۔ کیا بچپن میں کم عمر ہونے کی حالت میں صرف نکاح کا ہونا محال ہے؟ تو شیعہ سنی مذہب کو جاننے والا ہر شخص کہے گا کہ ہرگز محال نہیں بلکہ ممکن ہے کیونکہ شیعہ سنی مذہب میں وضاحت موجود ہے کہ چھوٹی بچی کا نکاح جائز ہے اس کی دلیل سیدہ عائشہؓ  کا نکاح ہے وہ اس طرح کہ رسول اللہﷺ نے سیدہ عائشہؓ کے ساتھ 6 سال کی عمر میں نکاح کیا جیسے کہ سنی شیعہ کتب سے ظاہر ہے۔
ملا حظہ فرمائیں:

عن عائشة رضي الله عنها، قالت: تزوجنى النبيﷺ وأنا بنت ست سنين (صحیح البخاری رقم الحدیث 3894)

سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میری عمر 6 سال کی تھی کہ نبیﷺ سے میرا نکاح ہوا۔

 اب آئیے اس کے ریاضی کے حساب کا جائزہ شیعہ مذہب کے مطابق ہی لیتے ہیں۔
شیعہ مذہب کی سب سے معتبر کتاب اصول کافی میں دیکھیں لکھا ہے: وتزوج خديجة وهو ابن بضع وعشرين سنة، فولد له منها قبل مبعثه عليه السلام القاسم، ورقية، وزينب، وأم كلثوم(الكافي: جلد 1 صفحہ 487)

صفحہ 1 از 4