کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی 40 سال کی عمر تک تین بیٹیوں…

کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی 40 سال کی عمر تک تین بیٹیوں کی پیدائش، شادی اور طلاق ہوئی؟؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4

ترجمہ: نبیﷺ نے خدیجہؓ سے نکاح کیا اس وقت آپ کی عمر 20 سال سے کچھ زیادہ تھی پھر خدیجہؓ سے آپﷺ کی جو اولاد بعثت (اعلانِ نبوت) سے پہلے پیدا ہوئی وہ قاسم، رقیہؓ،  زینبؓ اور ام کلثومؓ ہیں۔
اس روایت سے، جو اس کتاب میں ہے جسے شیعہ کے امامِ غائب نے اپنے شیعوں کیلئے کافی ہونے کی سند (ھذا کاف لشیعتنادی ہے، اس ذاکر کے چند جھوٹ واضح ہوتے ہیں۔ 

پہلا جھوٹ: شیعہ کی اس معتبر ترین کتاب کی اس روایت سے اس شیعہ ذاکر کی ایک تحقیق تو غلط ہو گئی کہ رسولﷺ کی شادی کے وقت عمر 25 سال نہیں بلکہ 20 سال سے کچھ زیادہ تھی۔ یعنی کہ اس ذاکر نے کبھی اپنی ہی کتبِ معتبرہ پڑھنے کی بھی کوشش نہ کی۔ 

 ایک لطیفہ: اِسی روایت میں آپ کو نبیﷺ کی اولاد جو آپﷺ کی عمر 40 سال ہونے سے پہلے ہوئی اس کے نام بھی مل جائیں گے یعنی شیعہ مذہب میں بھی چار بناتِ رسولﷺ کا ہونا مسلمات میں سے ہے۔ آگے غیرت بیغیرتی خود معلوم ہو جاتی کہ کس کی ہے۔

دوسرا جھوٹ: قاسم کی ولادت شادی کے 4 سال بعد نہیں بلکہ چوتھے سال ہوئی۔ یعنی شیعہ پہلے کہہ رہا ہے کہ 29 سال کے بعد قاسم کی ولادت ہوئی وہ درست نہیں بلکہ جب نبیﷺ کی عمر مبارک 29 سال تھی تو آپ کو اللہ نے پہلی اولاد سے نوازا۔

تیسرا جھوٹ: شیعہ ذاکر کا کہنا کہ "جنہوں نے کہا نبی کی چار بیٹیاں تھیں انہوں نے کہا نبی کریمﷺ نبی بنے چالیس سال بعد "یعنی شیعہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ اہلسنت کے ہاں نبی نبیﷺ بنے 40 سال کے بعد۔

جب کہ شیعہ کے ہاں نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے یہ بھی اس ذاکر کی جہالت کا ایک ثبوت ہے۔ تمام اہلسنت کا عقیدہ ہے انبیاء کرام پیدائشی نبی ہوتے ہیں۔ یہ اہلسنت پر بہتان لگا رہا ہے۔
اہلسنت کے عقیدہ کے مطابق 40 سال کی عمر میں بعثت ہوئی یعنی آپﷺ پر نزولِ وحی کا آغاز اور آپﷺ نے تبلیغ کا آغاز 40 سال کی عمر میں کیا۔

(مسند الإمام أحمد بن حنبل: جلد 34 صفحہ 202، مجموعہ فتاویٰ ابن تيميہ: جلد 8 صفحہ 283 ) 

 اوپر والی روایت کو غور سے دیکھیں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ قبل مبعثه کے الفاظ یقینی طور پر اس ذاکر کا منہ چڑا رہے ہوں گے کہ شیعہ مذہب کی اساس اور بنیادی کتاب اصولِ کافی میں بھی نبی پاکﷺ کی بعثت ہونے سے قبل کا ذکر ہے۔ اس کا صاف اور واضح مطلب یہی ہے کہ شیعہ کے ہاں بھی نبی پاکﷺ کی بعثت 40 سال کی عمر میں ہوئی۔ 
یہ تو شیعہ مذہب کی ایک روایت سے اس ذاکر کی علمیت کا بھانڈا پھوٹ گیا۔

 آئیے اب اس مسئلے کا اور اس ذاکر کے بیان کے دیگر پہلوؤں کا ہم اہلسنت اور اہلِ تشیع کی کتبِ معتبرہ سے تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔ تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ شیعہ ذاکر جو کہہ رہا تھا کہ سر پہ قرآن رکھیں اور صحن بیت اللہ میں آئیں ہم اس سے علمی بات کرنے کو تیار ہیں۔ آئے ذرا علمی میدان میں!!! 

 سیدہ زینبؓ کی ولادت و نکاح کی تحقیق:

ولادت: جب رسول اللہﷺ کی عمر مبارک 30 سال تھی۔
نکاح: اعلان نبوت سے پہلے۔
چونکہ سیدہ زینبؓ کی ولادت شادی کے پانچویں سال ہوئی تو اعلان نبوت کے وقت سیدہ زینبؓ کی عمر 10 سال تھی اور نکاح بھی تقریباً اسی عمر میں ہوا۔

اہلسنت کتب:
البدایہ و النہایہ: جلد 3 صفحہ 311
سیرت ابن ہشام: جلد 1 صفحہ 651، 652

شیعہ کتب:
تاریخ الخمیس: جلد 1 صفحہ 273 
ذخائر العقبیٰ: صفحہ 57 

 سیدہ رقیہؓ و سیدہ ام کلثومؓ کی ولادت و نکاح کی تحقیق:

 ولادت : سیدہ رقیہؓ جب رسولﷺ کی عمر مبارک 33 سال تھی، تب پیدا ہوئیں۔ (زرقانی جلد 3)

یعنی رسول اللہﷺ کی شادی کے آٹھویں سال اور سیدہ ام کلثومؓ جب رسولﷺ کی عمر مبارک 34 سال تھی تب پیدا ہوئیں یعنی شادی کے نویں سال۔ 
 نکاح: دونوں کے نکاح بچپن ہی سے رسولﷺ نے ابولہب کے بیٹوں عتبہ و عتیبہ سے کر دیے تھے اور رخصتی نہ ہوئی تھی۔ 

(محققین کے نزدیک یہ نکاح موجودہ مروجہ نکاح نہیں تھے بلکہ صرف نسبت طے کی گئی تھی کہ یہ نکاح ہوں گے)

وضاحت: اس کم سنی کے نکاح کی وجہ یہ تھی کہ جب سیدہ زینبؓ کا نکاح بنو امیہ میں ہوا تو بنو ہاشم کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ کہیں دوسری بیٹیوں کا رشتہ بھی خاندان سے باہر نہ ہو جائے۔ لہٰذا سیدہ  زینبؓ کے نکاح کے کچھ عرصے بعد بنو عبدالمطلب کے کچھ اشخاص حضرت ابوطالب کو ساتھ لے کر نبی پاکﷺ کے پاس حاضر ہوئے۔ جناب ابوطالب نے بات شروع کی اور کہا: اے بھتیجے! آپ نے زینبؓ کا نکاح ابوالعاص سے کر دیا ہے، بے شک وہ اچھا داماد اور شریف انسان ہے مگر آپ کے عم زاد کہتے ہیں کہ جس طرح آپ پر خدیجہؓ کی بہن ہالہ کے بیٹے کا حق ہے اس طرح ہمارا بھی آپ پر حق ہے اور حسب نسب اور شرافت میں ہم بھی اس سے کم نہیں۔
 آپﷺ نے فرمایا: اے چچا! قرابت داری اور رشتہ داری سے انکار نہیں مگر مجھے سوچنے کا موقع دیجیے۔

آخر حضرت خدیجہؓ  کے مشورے سے اور بیٹیوں کی رضامندی سے یہ نکاح ہو گئے۔

جب رسول اللہﷺ نے اعلانیہ دعوت و تبلیغ شروع کی اور ابولہب اور ام جمیل کی ایذا رسانیوں کی وجہ سے ان کی مذمت میں سورۃ لہب نازل ہوئی تو ابولہب کے کہنے پر اس کے دونوں بیٹوں نے سیدہ رقیہؓ و ام کلثومؓ کو رخصتی سے پہلے طلاق دے دی۔

 اہلسنت کتب:
 طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 24
   الاصابہ: جلد 4 صفحہ 297
   تفسیر قرطبی: جلد 9، 14 صفحہ 242، 243
   اسد الغابہ: جلد 5 صفحہ 612
   البدایہ و النہایہ: جلد 5 صفحہ 309

شیعہ کتب:
الانوار النعمانیہ: جلد 1 صفحہ 124، 367
تاریخ الخميس: جلد 1 صفحہ 275

نبیﷺ کی بیٹیاں اور مشرکوں کے گھر میں؟

شیعہ ذاکر نے یہ کہہ کر سادہ لوح عوام کو زیادہ الجھن کا شکار کیا۔ 

آئیے ذرا اس کی تحقیق کرتے ہیں:

1: حضورﷺ نے اپنی بیٹیوں کے نکاح کے وقت اس بات کا کوئی خیال نہ کیا کہ اپنی بیٹیاں کافروں یا منافقوں کے نکاح میں دے دی جائیں اس لیے عتبہ، عتیبہ پسران ابولہب اور ابوالعاص بن الربیع کو اپنی بیٹیاں بیاہ دیں۔

ازاں باشد کہ حق تعالیٰ حرام گرداند دختراں دادن بکافراں باتفاق مخالفاں حضرت زینبؓ رابابوالعاص تزویج نمود در مکہ وقتے کہ او کافر بودد ہم چنیں رقیہؓ و ام کلثومؓ بنابرمیان مخالفان بعتبہ وعتیبہ کہ پسران ابولہب بودند کافر بودند تزویج نمود بود

صفحہ 2 از 4