کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی 40 سال کی عمر تک تین بیٹیوں…

کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی 40 سال کی عمر تک تین بیٹیوں کی پیدائش، شادی اور طلاق ہوئی؟؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4

ترجمہ: اس سے پہلے کہ کافروں کو لڑکی کا رشتہ دینا حرام قرار دیا گیا مکہ میں حضورﷺ نے زینبؓ کا نکاح ابو العاصؓ بن الربیع سے کیا جب کہ وہ کافر مشہور تھا اور رقیہؓ اور ام کلثومؓ کا نکاح ابولہب کے بیٹوں سے کیا جب کہ کافروں سے لڑکی لینا دینا حرام نہیں کیا گیا تھا۔
 (حیات القلوب: جلد 2 صفحہ 718)

دوسری جگہ: ومشہور آنست کہ دختران آ نحضرت چہار نفر بودند وہمہ از حضرت خدیجہؓ بوجود آمدند اول  زینبؓ و حضرت ﷺ پیش از بعثت وحرام شدن دختر بکافراں دادن او را بابی العاص بن الربیع تزویج نمود

ترجمہ: مشہور مذہب یہی ہے کہ حضرت محمدﷺ کی چار بیٹیاں تھیں اور چاروں خدیجہؓ کے بطن سے تھیں؛ اول زینبؓ جن کا نکاح نبیﷺ نے اس وقت کیا جب کافر کو لڑکی دینا حرام قرار نہیں دیا گیا تھا۔
 (حیات القلوب: جلد 2 صفحہ 719) 

رہی یہ بات کہ اب بچے پوچھتے ہیں کہ نبی کی بیٹیاں اور مشرک کے گھر؟

تو مولوی کہتا ہے کیونکہ وہ اس وقت نبی نہیں بنے تھے نبی بنے 40 سال بعد اس لیے چالیس سال سے پہلے ہی شادی کر دی تھی تو شیعہ کا مولوی کی طرف سے یہ کمزور جواب نقل کرنا محض اپنا الو سیدھا کرنا ہے ورنہ مولوی کو ایسے جواب دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مولوی یعنی اہلِ سنت عالم کا جواب یہ ہوگا کہ آپﷺ نے جو اپنی بیٹیاں کافروں کے نکاح میں دی تھیں یہ اس لیے کہ اس وقت تک آپﷺ پر یہ حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ 

وَلَا تُنكِحُوااْلمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُواْ (سورۃ البقرہ: آیت 221)

ترجمہ: اور اپنی عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کراؤ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔

یہاں اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے ہی ابولہب کے بیٹوں نے تو آپﷺ کی بیٹیوں کو رخصتی سے پہلے ہی طلاق دے دی تھی لیکن جب حکم آ گیا تو آپﷺ نے ابوالعاصؓ اور زینبؓ کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی۔ دونوں میاں بیوی میں شدید محبت تھی اس کے باوجود سیدہ زینبؓ اور ابوالعاصؓ کو تقریباً چھ سال جدا رہنا پڑا۔ بعد ازاں 7 ہجری میں جب ابوالعاصؓ نے اسلام قبول کیا تو نبی پاکﷺ نے ان دونوں کا دوبارہ نکاح پڑھوایا۔ دوبارہ نکاح کے قلیل عرصہ بعد سیدہ زینبؓ کی وفات ہو گئی اور ان کے شوہر ابوالعاصؓ نے زندگی بھر دوبارہ نکاح نہ کیا۔

 ثبوت ملا حظہ فرمائیں
اگرچہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ رسولﷺ زمانہ جاہلیت میں بھی اللہ پاک کے پسندیدہ دین پر تھے لیکن آنحضرتﷺ کو تمام احکام شرعیہ اکٹھے نہیں بھیجے گئے تھے بلکہ اللہ کے رسول پر جب بھی کوئی حکم شرعی نازل ہوتا تو آپﷺ اس پر عمل کرتے جاتے اپنی طرف سے کوئی حکم شرعی نہیں بناتے تھے۔ اور زینبؓ و رقیہؓ کی شادی کے وقت ایمان میں کفائت کی شرط شرعاً نہیں لگائی گئی تھی اس لیے اللہ کے رسول نے ان دونوں کا نکاح دونوں آدمیوں سے شرعاً صحیح کیا۔ پھر جب اللہ پاک نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی (جس کا ترجمہ یہ ہے کہ) اپنی عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کراؤ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔)

تو رسول اللہﷺ نے ابوالعاص اور زینبؓ کے درمیان علیحدگی کرا دی۔ اگر اسلام میں اس سے پہلے کفائت شرط ہوتی تو اللہ پاک یہ آیت نازل نہ کرتے لہٰذا ابوالقاسم کوفی نے جو وجہ بیان کی وہ وجہ، وجہ ہی نہیں ہے۔

(شیعہ کتاب تنقیح المقال: جلد 3 صفحہ 790) 

اور جہاں تک تعلق ہے اس بات کا (جس نے لکھی چار بیٹیاں اب اس نے لکھا۔ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ نقل کفر کفر نہ باشد) نبیﷺ نے اپنی تین بیٹیوں کا عقد تین مشرکوں سے کیا تھا اب یہ سنی تاریخ ہے عتبہ، عتیبہ، ابوالعاص) تو یہ شیعہ ذاکر کی غلط بیانی ہے کیونکہ جس طرح سنیوں نے یہ بات (نبی نے اپنی تین بیٹیوں کا عقد تین مشرکوں سے کیا تھا) لکھی ہے تو اسی طرح شیعہ نے بھی یہی بات لکھی جیسے کہ ابھی ابھی مامقانی کے حوالے سے گزرا۔ اب اگر یہ بات کفر ہے تو سب سے پہلے شیعہ کو اپنے رجال کے امام عبداللہ مامقانی کی تکفیر کرنی پڑے گی۔ اگر اس کو کافر نہیں کہہ سکتے ہو تو اہلسنت پر یہ الزام (نقل کفر کفر نہ باشد) نبی نے اپنی تین بیٹیوں کا عقد 3 مشرکوں سے کیا تھا) کیوں لگاتے ہو۔ 

تین بیٹیوں کا انکار سب سے پہلے کس بدبخت نے کیا؟!

سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنات رسولﷺ سے انکار کا شوشہ سب سے پہلے کس خبیث نے چھوڑا؟؟؟ 
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلا رافضی جس نے بنات رسول کے حقیقی ہونے کا انکار کیا وہ ابوالقاسم کوفی تھا جو 352 ہجری میں مرا۔ اس نے اپنی کتاب الاستغاثہ فی بدع الثلاثہ

میں یہ لغو نظریہ پیش کیا کہ سیدہ زینب، سیدہ رقیہ، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہن حضورﷺ کے حقیقی بیٹیاں نہیں تھیں بلکہ "ربیبہ" تھیں۔

مشہور شیعہ علامہ عبداللہ نے تنقیح المقال صفحہ79 پر ابوالقاسم کوفی کے اس باطل قول کی اچھی طرح تردید کرتے ہوئے لکھا ہے:
ابوالقاسم کوفی نامی رافضی کا "الاستغاثۃ فی بدع الثلاثہ" نامی کتاب میں یہ قول کہ زینب، کلثوم، رقیہ بیٹیاں نہیں تھیں "قول بلا دلیل" ہے محض اپنی اجتہادی رائے ہے جس کی نصوص کے مقابلے میں حیثیت مکڑی کے جالے کے برابر بھی نہیں۔ کتب فریقین میں حضور کی چار بیٹیوں پر نصوص موجود ہیں اور شیعوں کے پاس اپنے ائمہ کے اقوال موجود ہیں کہ رسول خدا کی بیٹیاں چار تھیں۔
اکثر علمائے شیعہ نے نہ صرف ابوالقاسم کوفی کی "ہفوات" پر تنقید کی ہے بلکہ اسے بےدین قرار دیا ہے۔ 

صفحہ 3 از 4