Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعوں سے معاملات اور میل جول رکھنے کا حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ شیعہ کے بارے میں شریعتِ اسلامیہ میں کیا حکم ہے؟ وہ اہلِ ہنود ہے یا نہیں؟ سنی عقائد کے مطابق ہمیں ان لوگوں سے کہاں تک بچنا ہے؟ اور کہاں تک میل بڑھانا ہے؟ کیونکہ محلہ میں ان کی کافی تعداد ہے، اور دعوت وغیرہ بھی کرتے ہیں۔ کیا ان کا کھانا جائزہ ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں سمجھائیں کہ کس طرح ملنساری کریں؟

جواب: شیعوں میں سے فرقہ امامیہ اثناء عشریہ کو معتبر علمائے اہلِ سنت ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس فرقہ میں شامل شیعوں کے ساتھ مسلمانوں کی طرح میل جول اور رشتہ ناطہ رکھنا جائز نہیں ہے۔

قال اللہ تعالیٰ: ولا تـركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار وما لكم من دون الله من اولياء ثـمّ لا تنصرون۔

(سورۃ هود: آيت، 113)

والركون الی الشيء هو السكون اليه بالانس والمحبة فاقتضى ذلك التهی وعين مجالسة الظالمين ومؤانستهم والانصات اليهم وهو مثل قول اللہ تعالیٰ: فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین

(احكام القرآن؛ جلد، 3 صفحہ، 243)

الرافضي اذكمان يسب الشيخينؓ ويلعنهما و العياذ بالله فهو كافر ويجب أكفار الروافض بقولهم برجعة الأموات الى الدنيا و بتناسخ الأرواح وبانتقال روح الآله الى .الائمة وبقولهم أن جبرئيل عليه السلام غلط فى الوحى على محمدﷺ دون علي بن ابی طالب وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الإسلام واحكامهم احكام المرتدين

(عالمگیری: جلد، 2 صفحہ، 264)

عن عبد الله بن مسعودؓ قال: من كثر سواد قوم فهو منهم و من رضى عمل قوم كان شريكا في عمله

(كنزالعمال: جلد، 9 صفحہ، 22)

ومنها ما هو باطل بالاتفاق نحو النكاح ولا يجوز له أن يتزوج امرأة مسلمة ولا لمرتدة ولازمية الاخرة ولا مملوة وتحرم ذبيحته وصيده بالكلب والباز و الرمي

(عالمگیری: جلد، 2 صفحہ، 264) 

(کتاب النوازل: جلد، 2 صفحہ، 60)