جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام پر دو سورتوں معوذتین کے…

جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام پر دو سورتوں معوذتین کے حوالے سے امامیہ کے الزام کا تحقیقی محاسبہ ۔

  وقاص علی

صفحہ 2 از 2

وأن (المعوذتين) من الرقية، ليستا من القرآن دخلوها في القرآن و قيل: أن جبرئيل عليه السلام علمها رسول الله صلى الله عليه وآله. فإن أردت قراءة بعض هذه السور الأربع فاقرأ (والضحى) و (ألم نشرح) ولا تفصل بينهما وكذلك (ألم تر كيف) و (لايلاف). وأما (المعوذتان) فلا تقرأهما في الفرائض، ولا بأس في النوافل

 فقہ الرضا صفحہ نمبر 113

جواب سوم ۔ عبداللہ بن مسعود علیہ السلام معوذتین کے کلام اللہ ہونے کے معتقد تھے۔

1.جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام معوذتین کے کلام اللہ ہونے کے معتقد تھے اس کا ثبوت حسن سند سے ملاحظہ فرمائیں

جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود نقل کرتے ہیں کہ

النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لقد انزل علی آیات کم ینزل علی مثلھن الموذتین۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر چند آیات ایسی نازل کی گئی ہیں جس کے  کو اپنی مثال آپ ہیں وہ معوذتین کی آیات ہیں۔

 طبرانی اوسط جلد دوم رقم حدیث نمبر 2658۔

در منثور جلد خامس عشرہ تفسیر سورہ فلق صفحہ نمبر 786.

اسی طرح جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام گھر والوں کو نفع اٹھانے کے لیے یہ دو سورتیں معوذتین دم کرنے کا حکم فرماتے تھے

طبرانی کبیر جلد ہشتم رقم روایت نمبر 8863۔

 در منثور جلد خامس عشرہ صفحہ نمبر 792

2.دوسرا ثبوت یہ ہے کہ جناب ابوبکر صدیق علیہ السلام اور جناب عثمان غنی علیہ السلام نے جب قرآن مجید جمع و قرآت پر کام فرمایا تو ان کے مصاحف پر جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام نے یہ اعتراض کبھی  نہیں کیا کہ ان حضرات نے معوذتین جو کلام اللہ نہیں اس کو داخل قرآن کر دیا ۔

3.تیسرا شاہد جو اس  بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام  معوذتین کو قرآن مجید کا حصہ جانتے تھے،شرح اس کی یہ ہے کہ جو متواتر قراتیں منقول ہیں ان میں معوذتین شامل ہیں قرآت عشرہ میں سے جناب عاصم رحمۃ اللہ علیہ کی قرات حضرت ابو عبدالرحمان سلمی ، زر بن جیش اور حضرت ابو عمرو الشیبانی سے منقول  ہیں یہ تینوں حضرات جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں،اسی طرح حضرت حمزہ کی قرآت جناب علقمہ،جناب اسود بن وہب ،مسروق،عاصم بن ضمرہ اور جناب حارث سے منقول ہیں یہ سب حضرات جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں۔اس کے علاؤہ قرآت عشرہ میں سے جناب کسانی اور جناب حلف  کی قراتین بھی  بالآخر  جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام  پر ختم ہوتی ہیں  اور اس میں معوذتین شامل ہیں ۔

 کتاب النشر محمد بن جزری جلد اول 156,166صفحہ نمبر

 کشف النظر شرحِ جلد اول صفحہ نمبر 84 ۔

خلاصہ یہ کہ

1.جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام سے منسوب روایات جن میں معوذتین کے قرآن نہ ہونے کا تزکرہ ہے وہ اسنادی حیثیت سے اس قابل نہیں کہ ان کے بنیاد پر اہل سنت کے قرآن کو ناقص یا اصحاب رسول کو تحریف کرنے والا دیکھایا ثابت کیا جا سکے ۔

2.ان روایات کا متن اس پر دلالت نہیں کرتا کہ معوذتین کو قرآن میں داخل کرنے والا غیر اللہ کے کلام کو قرآن مجید میں لکھنے والا تحریف قرآن کا مرتکب گردانا جائے جبکہ تحریف قرآن تب ثابت ہوتی ہے کہ کسی انسانی کلام کو قرآن بنا کر مصحفی میں نقل کر دیا جائے ۔

3.جناب عبداللہ مسعود علیہ السلام کی مرجوع  روایت میں جو مضمون ہے اس کی تائید امامیہ کتب میں بھی نقل ہوئی ہے جس کو کسی شیعہ مجتہدین جو تحریف قرآن کے قائل ہیں ،نے بھی تحریف قرآن کے ثبوت میں پیش نہیں کیا کیونکہ کہ اس کا متن تحریف قرآن  پر دلالت ہی نہیں کرتا

4۔معوزتین کا کلام الٰہی ہونا جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام کی اپنی روایت سے ثابت  اور ان سے نقل کرنے والے دوسرے تابعین نے بھی معوذتین کو ان سے نقل کیا نقل کیا ہے۔


مصنف کا یوٹیوب چینل 

لنکmail


صفحہ 2 از 2