جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی روایت پر تحریف قرآن کے…

جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی روایت پر تحریف قرآن کے الزام کی حقیقت

  وقاص علی

صفحہ 1 از 3

 جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی روایت پر تحریف قرآن کے الزام کی حقیقت

جنابِ عبداللہ بن عباس علیہ السلام کے حوالے سے قرآن مجید کی سورہ نور کی آیت نمبر 27 کے حوالے سے یہ روایت پیش کی جاتی ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتًا غَیۡرَ  بُیُوۡتِکُمۡ  حَتّٰی تَسۡتَاۡنِسُوۡا وَ تُسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَہۡلِہَا ؕ ذٰلِکُمۡ  خَیۡرٌ لَّکُمۡ  لَعَلَّکُمۡ  تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۷﴾

تَسۡتَاۡنِسُوۡا

کی جگہ

تستاذنوا

پڑھنے کے قائل تھے اور کہتے تھے کہ

تَسۡتَاۡنِسُوۡا

کاتب کی خطا کی وجہ سے لکھا گیا۔

 مستدرک حاکم جلد دوم کتاب التفسیر ۔۔۔


 جواب اؤل ۔۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی طرف یہ نسبت مشکوک شاذ اور غریب ہے شرح اس کی یہ ہے کہ اس کی ایک روایت میں جعفر بن ایاس ہے جو جناب مجاھد رحمت اللہ علیہ سے نقل کر رہا ہے جبکہ اس کی ملاقات ہی جناب مجاھد رحمت اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں میزان الاعتدال میں موجود ہے کہ اس جعفر بن ایاس نے جناب مجاھد سے کچھ نہیں سنا اور نہ ان سے اس کی ملاقات ہوئی

 میزان الاعتدال جلد دوم

مجاہد سے جعفر بن ایاس کا سماع نہیں اور جناب سعید سے سماع ہے۔ روایت کا تمام تر دارومدار جعفر بن ایاس پر ہے یہ شخص کبھی مجاہد رحمہ اللہ تعالی سے روایت کرتا ہے اور کبھی جناب سعید رحمۃ اللہ علیہ سے۔ یہ اس کی کمزوری کی طرف اشارہ ہے۔ جو اضطراب پر دال ہے۔

2.ایک روایت میں ایک راوی معاز بن سلیمان مجہول ہے مجھے اس کے حالات نہیں ملے۔

3.ایک روایت میں وہب بن جریر ہیں ان کے بارے میں جناب عفان کلام کرتے تھے ،امام ابن عدی نے اس کی روایات نقل کر کے بعد ان کو غریب کہا ہے،زیر بحث روایت میں وہب بن جریر امام شعبہ سے نقل کر رہے ہیں جبکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں امام مہدی کہتے ہیں کہ

"یہاں کچھ لوگ ہیں جو امام شعبہ سے روایت کرتے ہیں جبکہ ہم نے انہیں کبھی شعبہ کے پاس نہیں دیکھا یہ اشارہ وہب بن جریر کی طرف تھا ۔پھر یہی بات امام شعبہ سے وہب بن جریر کا عدم سماع و ملاقات کے بارے میں امام احمد رحمہ اللہ تعالی عنہ نے بھی بالجزم بیان فرمایا۔

  میزان الاعتدال جلد ہفتم رقم9432۔

4.ایک روایت میں جناب محمد بن جریر طبری ھیشم سے روایت کر رہے ہیں جبکہ ھیشم کی وفات 183ہجری میں ہوئی تھی اور جناب محمد بن جریر طبری کی پیدائش 224ہجری ہے لہزا یہاں بھی انقطاع ہے روایت حجت نہ رہی۔

  میزان الاعتدال جلد ہفتم رقم9258.

5.ایک روایت میں جناب سفیان رحمۃ اللہ علیہ کسی نامعلوم ذرائع سے اس کو بیان کر رہے ہیں یہ بھی حجت نہیں ۔

  تفسیر ابن جریر طبری جلد 17صفحہ نمبر 241.

6.ایک روایت میں ھشیم راوی ہے جو مدلس تھا۔

  میزان الاعتدال جلد ہشتم رقم 9248۔

اور یہاں اس تفسیر طبری والی روایت میں وہ عن ابی بشر کے الفاظ سے روایت کر رہا جو کہ حجت نہیں اور اس میں یعقوب بن ابراہیم اور مصنف تفسیر طبری کے درمیان بھی انقطاع زمانہ ہے یعقوب بن ابراہیم کی وفات 208ہجری میں ہوئی جبکہ محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ تعالی کی پیدائش 220ہجری کے بعد ہوئی۔

7.ایک روایت میں ابن بشار سے ابن جریر طبری نقل کر رہے ہیں ابن بشار 230ہجری میں وفات پا گئے تھے اور ابن بشار بصری تھے  اور ابن جریر طبرستان کے۔ تو 6 سال کا بچہ سفر علم پر نکل پڑا ہو عقلاً بھی ممکن نہیں۔ لہذا عدم ملاقات پر یہ خدشات موجود ہیں ۔پھر بھی کسی طرح اس کو ممکن سمجھ لیا جائے تو کم عمری کے سماع میں بہرحال خطا کا اندیشہ باقی ہے۔

پھر علماء نے جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی طرف ان روایات کو رد کیا ہے کہ یہ سیدنا عبدالله بن عباس رضی الله عنه سے جھوٹا منسوب ہے۔ جیسا کہ علامہ ابو حیان اندلسی اور علامہ ابنِ کثیر رحمہ اللہ تعالی وغیرہ

  تفسیر ابن کثیر جلد سوم تحت تفسیر سورہ نور آیت 26

  تفسیر بحر المحیط جلد ششم صفحہ نمبر 445

علاوہ ازیں یہ اجماع کے بھی خلاف ہے اور جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی طرف سے کبھی جناب ابو بکر صدیق علیہ السلام کی طرف سے جمع قرآن کے وقت یا جناب عثمان غنی علیہ السلام کی طرف سے جمع کے وقت کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا جو ان کی طرف سے رضامندی کی دلیل ہے اس اینگل سے بھی جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی طرف ان روایات کی نسبت مشکوک ہو جاتی ہے ۔

 جواب دوم ۔

بالفرض ان روایات کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی یہ معاملہ تحریف کا نہیں بلکہ قرآت کا ہے۔جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کے بارے میں تفسیر طبری اور تفسیر ابن کثیر میں موجود ہے کہ

حتیٰ وکان ابن عباس" یقرا تستاذنوا وتسلمو "وکان یقروھا علی قرا ابی بن کعب"

اور دوسری روایت میں ہے کہ

 تفسیر طبری جلد 17 صفحہ نمبر 240

 تفسیر ابن کثیر جلد سوم

اور قرآت کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضع احادیث موجود ہیں کہ جب تک معانی تبدل نہ ہوں کوئی بھی قرآت پر قرآن مجید پڑھا جا سکتا ہے اور یہاں اس آیت میں زیر بحث الفاظ دونوں صورتوں میں تَسۡتَاۡنِسُوۡا ہوں یا تستاذنوا ہوں معانی ایک ہی بنتا ہے یعنی اجازت لینا ۔

اب اس کے جواز میں احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں

صفحہ 1 از 3