جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی روایت پر تحریف قرآن کے الزام کی حقیقت
وقاص علیجناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی روایت پر تحریف قرآن کے الزام کی حقیقت
جنابِ عبداللہ بن عباس علیہ السلام کے حوالے سے قرآن مجید کی سورہ نور کی آیت نمبر 27 کے حوالے سے یہ روایت پیش کی جاتی ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتًا غَیۡرَ بُیُوۡتِکُمۡ حَتّٰی تَسۡتَاۡنِسُوۡا وَ تُسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَہۡلِہَا ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۷﴾
تَسۡتَاۡنِسُوۡا
کی جگہ
تستاذنوا
پڑھنے کے قائل تھے اور کہتے تھے کہ
تَسۡتَاۡنِسُوۡا
کاتب کی خطا کی وجہ سے لکھا گیا۔
مستدرک حاکم جلد دوم کتاب التفسیر ۔۔۔
جواب اؤل ۔۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی طرف یہ نسبت مشکوک شاذ اور غریب ہے شرح اس کی یہ ہے کہ اس کی ایک روایت میں جعفر بن ایاس ہے جو جناب مجاھد رحمت اللہ علیہ سے نقل کر رہا ہے جبکہ اس کی ملاقات ہی جناب مجاھد رحمت اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں میزان الاعتدال میں موجود ہے کہ اس جعفر بن ایاس نے جناب مجاھد سے کچھ نہیں سنا اور نہ ان سے اس کی ملاقات ہوئی
میزان الاعتدال جلد دوم
مجاہد سے جعفر بن ایاس کا سماع نہیں اور جناب سعید سے سماع ہے۔ روایت کا تمام تر دارومدار جعفر بن ایاس پر ہے یہ شخص کبھی مجاہد رحمہ اللہ تعالی سے روایت کرتا ہے اور کبھی جناب سعید رحمۃ اللہ علیہ سے۔ یہ اس کی کمزوری کی طرف اشارہ ہے۔ جو اضطراب پر دال ہے۔
2.ایک روایت میں ایک راوی معاز بن سلیمان مجہول ہے مجھے اس کے حالات نہیں ملے۔
3.ایک روایت میں وہب بن جریر ہیں ان کے بارے میں جناب عفان کلام کرتے تھے ،امام ابن عدی نے اس کی روایات نقل کر کے بعد ان کو غریب کہا ہے،زیر بحث روایت میں وہب بن جریر امام شعبہ سے نقل کر رہے ہیں جبکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں امام مہدی کہتے ہیں کہ
"یہاں کچھ لوگ ہیں جو امام شعبہ سے روایت کرتے ہیں جبکہ ہم نے انہیں کبھی شعبہ کے پاس نہیں دیکھا یہ اشارہ وہب بن جریر کی طرف تھا ۔پھر یہی بات امام شعبہ سے وہب بن جریر کا عدم سماع و ملاقات کے بارے میں امام احمد رحمہ اللہ تعالی عنہ نے بھی بالجزم بیان فرمایا۔
میزان الاعتدال جلد ہفتم رقم9432۔
4.ایک روایت میں جناب محمد بن جریر طبری ھیشم سے روایت کر رہے ہیں جبکہ ھیشم کی وفات 183ہجری میں ہوئی تھی اور جناب محمد بن جریر طبری کی پیدائش 224ہجری ہے لہزا یہاں بھی انقطاع ہے روایت حجت نہ رہی۔
میزان الاعتدال جلد ہفتم رقم9258.
5.ایک روایت میں جناب سفیان رحمۃ اللہ علیہ کسی نامعلوم ذرائع سے اس کو بیان کر رہے ہیں یہ بھی حجت نہیں ۔
تفسیر ابن جریر طبری جلد 17صفحہ نمبر 241.
6.ایک روایت میں ھشیم راوی ہے جو مدلس تھا۔
میزان الاعتدال جلد ہشتم رقم 9248۔
اور یہاں اس تفسیر طبری والی روایت میں وہ عن ابی بشر کے الفاظ سے روایت کر رہا جو کہ حجت نہیں اور اس میں یعقوب بن ابراہیم اور مصنف تفسیر طبری کے درمیان بھی انقطاع زمانہ ہے یعقوب بن ابراہیم کی وفات 208ہجری میں ہوئی جبکہ محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ تعالی کی پیدائش 220ہجری کے بعد ہوئی۔
7.ایک روایت میں ابن بشار سے ابن جریر طبری نقل کر رہے ہیں ابن بشار 230ہجری میں وفات پا گئے تھے اور ابن بشار بصری تھے اور ابن جریر طبرستان کے۔ تو 6 سال کا بچہ سفر علم پر نکل پڑا ہو عقلاً بھی ممکن نہیں۔ لہذا عدم ملاقات پر یہ خدشات موجود ہیں ۔پھر بھی کسی طرح اس کو ممکن سمجھ لیا جائے تو کم عمری کے سماع میں بہرحال خطا کا اندیشہ باقی ہے۔
پھر علماء نے جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی طرف ان روایات کو رد کیا ہے کہ یہ سیدنا عبدالله بن عباس رضی الله عنه سے جھوٹا منسوب ہے۔ جیسا کہ علامہ ابو حیان اندلسی اور علامہ ابنِ کثیر رحمہ اللہ تعالی وغیرہ
تفسیر ابن کثیر جلد سوم تحت تفسیر سورہ نور آیت 26
تفسیر بحر المحیط جلد ششم صفحہ نمبر 445
علاوہ ازیں یہ اجماع کے بھی خلاف ہے اور جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی طرف سے کبھی جناب ابو بکر صدیق علیہ السلام کی طرف سے جمع قرآن کے وقت یا جناب عثمان غنی علیہ السلام کی طرف سے جمع کے وقت کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا جو ان کی طرف سے رضامندی کی دلیل ہے اس اینگل سے بھی جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی طرف ان روایات کی نسبت مشکوک ہو جاتی ہے ۔
جواب دوم ۔
بالفرض ان روایات کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی یہ معاملہ تحریف کا نہیں بلکہ قرآت کا ہے۔جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کے بارے میں تفسیر طبری اور تفسیر ابن کثیر میں موجود ہے کہ
حتیٰ وکان ابن عباس" یقرا تستاذنوا وتسلمو "وکان یقروھا علی قرا ابی بن کعب"
اور دوسری روایت میں ہے کہ
تفسیر طبری جلد 17 صفحہ نمبر 240
تفسیر ابن کثیر جلد سوم
اور قرآت کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضع احادیث موجود ہیں کہ جب تک معانی تبدل نہ ہوں کوئی بھی قرآت پر قرآن مجید پڑھا جا سکتا ہے اور یہاں اس آیت میں زیر بحث الفاظ دونوں صورتوں میں تَسۡتَاۡنِسُوۡا ہوں یا تستاذنوا ہوں معانی ایک ہی بنتا ہے یعنی اجازت لینا ۔
اب اس کے جواز میں احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں
۸۴۲۱)۔ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ أَ نَّہُمَا سَمِعَا عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُولُ: مَرَرْتُ بِہِشَامِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ فِی حَیَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، فَاسْتَمَعْتُ قِرَاء َتَہُ فَإِذَا ہُوَ یَقْرَأُ عَلَی حُرُوفٍ کَثِیرَۃٍ لَمْ یُقْرِئْنِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، فَکِدْتُ أَ نْ أُسَاوِرَہُ فِی الصَّلَاۃِ، فَنَظَرْتُ حَتّٰی سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُہُ بِرِدَائِہِ فَقُلْتُ: مَنْ أَ قْرَأَ کَ ہٰذِہِ السُّورَۃَ الَّتِی تَقْرَؤُہَا؟ قَالَ: أَ قْرَأَ نِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، قَالَ: قُلْتُ لَہُ: کَذَبْتَ فَوَاللّٰہِ! إِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَہُوَ أَ قْرَأَ نِی ہٰذِہِ السُّورَۃَ الَّتِی تَقْرَؤُہَا، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَقُودُہُ إِلَی النَّبِیِا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی سَمِعْتُ ہٰذَا یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ عَلٰی حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِیہَا وَأَ نْتَ أَ قْرَأْتَنِی سُورَۃَ الْفُرْقَانِ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((أَ رْسِلْہُ یَا عُمَرُ! اِقْرَأْ یَا ہِشَامُ۔)) فَقَرَأَ عَلَیْہِ الْقِرَاء َۃَ الَّتِی سَمِعْتُہُ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((ہٰکَذَا أُنْزِلَتْ۔)) ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِقْرَأْ یَا عُمَرُ!)) فَقَرَأْتُ الْقِرَائَۃَ الَّتِی أَ قْرَأَ نِی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((ہٰکَذَا أُنْزِلَتْ۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَۃِ أَ حْرُفٍ فَاقْرَئُ وْا مِنْہُ مَا تَیَسَّرَ۔))
(مسند احمد: ۲۹۶)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ہشام بن حکیم بن حزام کے پاس سے گزرا جو سورۂ فرقان پڑھ رہے تھے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کی بات ہے، جب میں نے ان کی قراء توں کو غو رسے سنی تو سمجھا کہ وہ ایسی قراء توں پر قرآن مجید پڑھ رہے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائی،قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان کی طرف لپک پڑتا، لیکن میں نے انتظار کیا،یہاں تک کہ انھوں نے سلام پھیرا، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو پکڑ لیا اور کہا: تم کو کس نے یہ سورت پڑھائی ہے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پڑھائی ہے، میں نے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو، پھر میں ان کو کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گیا اورکہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ان سے سورۂ فرقان سنی ہے، یہ ان قراء توں کے مطابق پڑھتے ہیں، جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو، اے عمر! اے ہشام پڑھو۔ انہوں نے آپ پر وہی قراء ت کی، جو میں نے سنی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم پڑھو۔ پس میں نے وہی قراء ت پڑھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پڑھائی تھی، وہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقینا قرآن مجید سات قراء توں پر نازل ہوا ہے، جو بھی میسر آئے اس کے مطابق پڑھ لو۔
مسند احمد رقم حدیث نمبر 8421.
)۔ وَعَنْ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْاَنْصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِنَحْوِہٖوَفِیْہٖ: اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((یَا عُمَرُ! اِنَّ الْقُرْآنَ کُلَّہُ صَوَابٌ مَا لَمْ یُجْعَلْ عَذَابٌ مَغْفِرَۃً اَوْ مَغْفِرَۃٌ عَذَابًا۔))
(مسند احمد: ۱۶۴۷۹)
سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس کے آخر میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! قرآن مجید سارے کا سارا درست ہے، جب تک کہ عذاب کی جگہ مغفرت کا اور مغفرت کی جگہ عذاب کا لفظ نہ بولا جائے۔
مسند احمد رقم حدیث نمبر 8422.
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اُنْزِلَ الْقُرْآنُ سَبْعَۃَ اَحْرُفٍ عَلِیْمًا حَکِیْمًا غَفُوْرًا رَحِیْمًا۔)) (مسند احمد: )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن حکیم سات قراء ات پر نازل ہوا، اسی لیے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کے بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھا جا سکتا ہے۔
مسند احمد رقم حدیث نمبر 8426۔
پھر جناب محمد سعد سے جو روایت امام ابن جریر طبری نقل کر رہے ہیں اس میں یہ بھی موجود ہے کہ انہوں نے زیر بحث آیت جو موجودہ نسخے سے ہٹ کر دوسرے الفاظ کہے تھے وہ انہوں نے ان مشہور الفاظ کی تفسیر کی تھی ملاحظہ فرمائیں
تفسیر ابن جریر طبری جلد 17صفحہ نمبر 241
اور تفاسیر میں اس طرح کے الفاظ تو فریقین کے ہاں تحریف میں آتے ہی نہیں ۔
جواب سوم ۔
اب یہاں معترض یہ کہ سکتا ہے کہ اگر تمام قرآتوں پر قرآن مجید پڑھنے کی جازت ہے تو جنابِ عبداللہ بن عباس علیہ السلام اس کو خطا کیوں فرمایا
اس کا جواب یہ ہے کہ
1.ایک تو قرآت کے معاملے میں یہ ان کا اپنا اجتہاد تھا کہ آپ اس زیر بحث الفاظ کو ترجیح دیتے تھے
2.دوسرا اس میں یہ کہیں نہیں کہ یہ کس نسخے کو لکھاتےوقت انہوں نے یہ فرمایا کہ "کاتب کہ غلطی ہے"
قرین قیاس یہی ہے کہ یہ ان کے اپنے ذاتی مصحف کے بارے میں ہو۔
3.تیسرا یہ کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب قرآت کا اختلاف ہوا تھا جناب عثمان غنی علیہ السلام کی طرف سے ایک قرآت پر جب تمام امت کو جمع فرما دیا گیا تو اس کے بعد جنابِ عبداللہ بن عباس علیہ السلام سمیت کسی کا اعتراض سامنے نہیں آیا۔
4.تفسیر طبری کی روایت میں اوپر بتایا جا چکا ہے کہ جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام ور اور جناب ابی بن کعب علیہ السلام کی قرآت قرآن مجید ایک ہی ہے یہ سب بھی قرآت کا ہوا نہ کہ تحریف کا۔
ایک یہ بھی قرینہ ہے کہ جناب عثمان غنی علیہ السّلام کی طرف سے اس معاملے کے حل کے بعد جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام نے اور جناب ابی بن کعب علیہ السلام نے بھی اسی قرآت پر اتفاق کر لیا تھا جو بقیہ اصحاب رسول کی تھی ۔
جواب چہارم۔
جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی طرف سے قرآت کا اختلاف ہو یا بقیہ اصحاب رسول کی طرف سے اختلاف ہو ان حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تعلیمات موجود ہیں کہ اختلاف کی صورت میں خلفائے راشدین کے عمل پیروی کی جائے گی اس پر حدیث ملاحظہ فرمائیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ يَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّهَا ضَلَالَةٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز فجر کے بعد ایک موثر نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں اور دل لرز گئے، ایک شخص نے کہا: یہ نصیحت ایسی ہے جیسی نصیحت دنیا سے ( آخری بار ) رخصت ہو کر جانے والے کیا کرتے ہیں، تو اللہ کے رسول! آپ ہمیں کس بات کی وصیت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اللہ سے ڈرتے رہنے، امیر کی بات سننے اور اسے ماننے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ تمہارا حاکم اور امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تم میں سے آئندہ جو زندہ رہے گا وہ ( امت کے اندر ) بہت سارے اختلافات دیکھے گا تو تم ( باقی رہنے والوں ) کو میری وصیت
ہے کہ نئے نئے فتنوں اور نئی نئی بدعتوں میں نہ پڑنا، کیونکہ یہ سب گمراہی ہیں۔ چنانچہ تم میں سے جو شخص ان حالات کو پالے تو اسے چاہیئے کہ وہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر قائم اور جمار ہے اور میری اس نصیحت کو اپنے دانتوں کے ذریعے مضبوطی سے دبا لے“۔ ( اور اس پر عمل پیرا رہے ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثور بن یزید نے بسند «خالد بن معدان عن عبدالرحمٰن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔
جامع ترمذی جلد اول رقم حدیث نمبر 2676
سنن ابی داؤد رقم حدیث نمبر 4607
مسند احمد رقم حدیث نمبر 16692
جواب پنجم۔
اول کہ تستانسوا قرآت متواترہ ہے۔ اور متواتر کے مقابل خبر واحد یا شاذ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
دوسرا یہ کہ تستاذن اور تستانس ہم معنی ہیں۔ سیدنا عمر فاروق اعظم علیہ السلام نے نبی کریم صلی الله علیه وسلم سے یوں اجازت طلب کی أستأنس يا رسول الله. تو ظاہر ہے پھر یہ حروف سبعه کے معنی میں ہے جیسے صحابه کرام رضوان الله علیہم اجمعین نے اس کی تشریح یوں بھی کی کہ مترادفات کے ساتھ پڑھنا جیسے کہا جائے هلم يا أقبل يا تعال يا إلي يا نحوي يا قصدي. تو ایک ہی بات مترادف الفاظ سے کہنا۔ تو ممکن ہے کہ جناب عبدالله بن عباس علیہ السلام اپنی قرآت کو اس سے بہتر سمجھتے ہوں۔
تیسرا یہ ہے کہ خود جناب عبد الله بن عباس علیہ السلام نے بھی استئناس کی تفسیر استئذان سے کی ہے۔ لہذا تحریف کا پوائنٹ ہی خارج از امکان ہے۔ اور ان روایات میں نہ تو تحریف کا لفظ ہے نہ اس کے ہم معنی بلجزم کسی کاتب کی طرف سے قرآن مجید میں تبدیلی یا اضافے وغیرہ کے الفاظ ہیں جس کی وجہ سے اس کو تحریف قرآن والے معاملے میں سرے سے پیش ہی نہیں کیا جاسکتا یہ اور بات ہے کہ امامیہ ایسی بے وقعت اخبار سے حقانیت قرآن مجید کو مشکوک بنانا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ امامیہ کے مطابق قرآن مجید میں تحریف کی چاروں صورتیں یعنی اضافہ نقصان تغیر تبدل درجہ تواتر میں ثابت ہیں اور یہ روایات درجہ تواتر میں امامت کی روایات سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔ تفصیل فصل الخطاب جیسی ضخیم کتاب ہے۔ جبکہ اس کے مقابل اہل سنت کے ہاں قرآن مجید ہی تواتر میں سب سے اعلیٰ ہے۔ باقی تمام اخبار اس کے بعد ہیں۔ اور اس جیسے شاذ اقوال تو کسی خبر واحد صحیح کے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتے کجا کہ اس کو متواتر قرات کے خلاف بطور ثبوت لایا جائے۔




مصنف کا یوٹیوب چینل
