جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی روایت پر تحریف قرآن کے…

جناب عبداللہ بن عباس علیہ السلام کی روایت پر تحریف قرآن کے الزام کی حقیقت

  وقاص علی

صفحہ 2 از 3

۸۴۲۱)۔ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ أَ نَّہُمَا سَمِعَا عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُولُ: مَرَرْتُ بِہِشَامِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ فِی حَیَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَاسْتَمَعْتُ قِرَاء َتَہُ فَإِذَا ہُوَ یَقْرَأُ عَلَی حُرُوفٍ کَثِیرَۃٍ لَمْ یُقْرِئْنِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَکِدْتُ أَ نْ أُسَاوِرَہُ فِی الصَّلَاۃِ، فَنَظَرْتُ حَتّٰی سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُہُ بِرِدَائِہِ فَقُلْتُ: مَنْ أَ قْرَأَ کَ ہٰذِہِ السُّورَۃَ الَّتِی تَقْرَؤُہَا؟ قَالَ: أَ قْرَأَ نِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْتُ لَہُ: کَذَبْتَ فَوَاللّٰہِ! إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  لَہُوَ أَ قْرَأَ نِی ہٰذِہِ السُّورَۃَ الَّتِی تَقْرَؤُہَا، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَقُودُہُ إِلَی النَّبِیِا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی سَمِعْتُ ہٰذَا یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ عَلٰی حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِیہَا وَأَ نْتَ أَ قْرَأْتَنِی سُورَۃَ الْفُرْقَانِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ رْسِلْہُ یَا عُمَرُ! اِقْرَأْ یَا ہِشَامُ۔)) فَقَرَأَ  عَلَیْہِ الْقِرَاء َۃَ الَّتِی سَمِعْتُہُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰکَذَا أُنْزِلَتْ۔)) ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَأْ یَا عُمَرُ!)) فَقَرَأْتُ الْقِرَائَۃَ الَّتِی أَ قْرَأَ نِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  فَقَالَ: ((ہٰکَذَا أُنْزِلَتْ۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَۃِ أَ حْرُفٍ فَاقْرَئُ وْا مِنْہُ مَا تَیَسَّرَ۔))

(مسند احمد: ۲۹۶)

سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ہشام بن حکیم بن حزام کے پاس سے گزرا جو سورۂ فرقان پڑھ رہے تھے، یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات مبارکہ کی بات ہے، جب میں نے ان کی قراء توں کو غو رسے سنی تو سمجھا کہ وہ ایسی قراء توں پر قرآن مجید پڑھ رہے ہیں جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے نہیں پڑھائی،قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان کی طرف لپک پڑتا، لیکن میں نے انتظار کیا،یہاں تک کہ انھوں نے سلام پھیرا، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو پکڑ لیا اور کہا: تم کو کس نے یہ سورت پڑھائی ہے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پڑھائی ہے، میں نے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو، پھر میں ان کو کھینچ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے گیا اورکہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ان سے سورۂ فرقان سنی ہے، یہ ان قراء توں کے مطابق پڑھتے ہیں، جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو، اے عمر! اے ہشام پڑھو۔ انہوں نے آپ پر وہی قراء ت کی، جو میں نے سنی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم پڑھو۔ پس میں نے وہی قراء ت پڑھی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پڑھائی تھی، وہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یقینا قرآن مجید سات قراء توں پر نازل ہوا ہے، جو بھی میسر آئے اس کے مطابق پڑھ لو۔

 مسند احمد رقم حدیث نمبر 8421.

)۔ وَعَنْ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْاَنْصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  بِنَحْوِہٖوَفِیْہٖ: اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  قَالَ: ((یَا عُمَرُ! اِنَّ الْقُرْآنَ کُلَّہُ صَوَابٌ مَا لَمْ یُجْعَلْ عَذَابٌ مَغْفِرَۃً اَوْ مَغْفِرَۃٌ عَذَابًا۔))

(مسند احمد: ۱۶۴۷۹)

سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس کے آخر میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! قرآن مجید سارے کا سارا درست ہے، جب تک کہ عذاب کی جگہ مغفرت کا اور مغفرت کی جگہ عذاب کا لفظ نہ بولا جائے۔

 مسند احمد رقم حدیث نمبر 8422.

قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  : ((اُنْزِلَ الْقُرْآنُ سَبْعَۃَ اَحْرُفٍ عَلِیْمًا حَکِیْمًا غَفُوْرًا رَحِیْمًا۔)) (مسند احمد: )

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن حکیم سات قراء ات پر نازل ہوا، اسی لیے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کے بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھا جا سکتا ہے۔

 مسند احمد رقم حدیث نمبر 8426۔

پھر جناب محمد سعد سے جو روایت امام ابن جریر طبری نقل کر رہے ہیں اس میں یہ بھی موجود ہے کہ انہوں نے زیر بحث آیت جو موجودہ نسخے سے ہٹ کر دوسرے الفاظ کہے تھے وہ انہوں نے ان مشہور الفاظ کی تفسیر کی تھی ملاحظہ فرمائیں

  تفسیر ابن جریر طبری جلد 17صفحہ نمبر 241

اور تفاسیر میں اس طرح کے الفاظ تو فریقین کے ہاں تحریف میں آتے ہی نہیں ۔

 جواب سوم ۔

اب یہاں معترض یہ کہ سکتا ہے کہ اگر تمام قرآتوں پر قرآن مجید پڑھنے کی جازت ہے تو جنابِ عبداللہ بن عباس علیہ السلام اس کو خطا کیوں فرمایا

اس کا جواب یہ ہے کہ

1.ایک تو قرآت کے معاملے میں یہ ان کا اپنا اجتہاد تھا کہ آپ اس زیر بحث الفاظ کو ترجیح دیتے تھے

2.دوسرا اس میں یہ کہیں نہیں کہ یہ کس نسخے کو لکھاتےوقت انہوں نے یہ فرمایا کہ "کاتب کہ غلطی ہے"

قرین قیاس یہی ہے کہ یہ ان کے اپنے ذاتی مصحف کے بارے میں ہو۔

صفحہ 2 از 3