حضرت عمرؓ نے بحالت روزہ جماع کیا. (کنز الایمان)
زینب بخاریحضرت عمرؓ نے بحالت روزہ جماع کیا. (کنز الایمان)
(الجواب اہلسنّت)
اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنی چاہئے کہ بندہ اللہ پاک کی نظر سے گر جائے ورنہ دنیا کی کوئی چیز بھی دنیا و آخرت کے خسارے سے نہیں بچا سکتی جب بندہ کی مت ماری جائے اور خدا تعالیٰ کی نظر سے گر جائے تو پھر دھوکہ دہی فراڈ اور جھوٹ بولنا بہت ہی ہلکا سا کام لگتا ہے محترم قارئین اندازہ فرمایئے برسات کا موسم ہے بادل چھائے ہوئے ہیں ، گھڑیوں کا رواج نہیں تھا. صحابہ کرامؓ نے روزہ رکھا ہوا تھا بادل کی وجہ سے وقت کا اندازہ نہیں ہو سکا حضرت فاروق اعظمؓ نے اس اندازے سے کہ سورج غروب ہو گیا ہے لہذا انہوں نے روزہ افطار کر لیا اور اپنی بشری ضرورت کو اپنی اہلیہ سے پورا کر لیا مگر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ بادل اسی وقت چھٹ گیا اور سورج کی موجودگی کا پتہ چل گیا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو حضرت فاروق اعظمؓ نے حیدر کرارؓ سے مسئلہ دریافت فرمایا کہ اب کیا کرنا چاہئے حیدر کرارؓ نے فرمایا کہ آپ نے حلال سے روزہ افطار فرما لیا ہے، و یوم مكان يوم اب اس ایک دن کے بدلے ایک دن کا روزہ رکھ لو۔ یہ تھا وہ واقعہ جو شیعہ مہربان کے ہاں قابل اعتراض قرار پایا ہے حالانکہ اس واقعہ میں ایک شرعی مسئلہ کا حل امت کو معلوم ہوا ہے کہ کوئی شخص بھول کر روزہ افطار کر بیٹھے خواہ وہ بیوی سے قربت کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو تو اس پر صرف قضاء ہے کفارہ نہیں ہیں، اس واقعہ کا پیش آنا یا کتاب میں لکھا ہوا ہو یا نہ گستاخی ہے نہ ہی توہین آمیز جملہ ، خود قرآن کریم میں روزہ کے وقت شروع ہونے کی جو آیت ہے اس میں موجود ہے۔
عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ (البقرہ، آیت 187)
ترجمہ اللہ کو علم تھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے۔
فَالۡـٰٔنَ بَاشِرُوۡہُنَّ (البقرہ، آیت 187)
ترجمہ چنانچہ اب تم ان سے صحبت کرلیا کرو۔ کا مطالعہ کر کے حقیقت حال سے آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مختصر سی اس سلسلے کی گزارش یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں روزہ کا آغاز رات سونے کے بعد سے ہو جاتا تھا بعض صحابہ کرامؓ سے غلطی ہو گئی کہ سونے کے بعد اپنی گھر والی سے بشری ضرورت پوری کر لی پریشان ہو کر بارگاہ نبویﷺ میں حاضر ہوئے تو یہ آیت نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے صرف صحابہؓ کو تسلی دی کہ کوئی بات نہیں تم سے غلطی ہوگئی ہے تو میں نے تمہیں معاف کر دیا بلکہ ہدیہ کہ صحابہ کرامؓ کی اس غلطی کو اللہ تعالی نے محمدیہ شریعت بنا دیا۔
(ملاحظہ فرمائیں معارف القرآن وغیره)
اللہ تعالیٰ تو صحابہ کرامؓ کے ایسے گھریلو واقعات کو نقل فرما کر اس
وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ (سورت بقرہ 187)
کا حکم دے اور اسے اچھائی قرار دے مگر یہ شیعہ ہے جو اللہ تعالی کے اس ارشاد کے برعکس اس بشری ضرورت کی تکمیل کو اعتراض بنا کر پیش کرے۔
جبکہ حیدر کرارؓ بھی فرما رہے ہوں کہ حلال سے روزہ افطار کیا ہے لہذا کوئی حرج نہیں آپ اگلے دن اس کی جگہ روزہ رکھ لینا۔ اب بھلا یہ کون سی ایسی بات ہے جس کو الزام بنایا جائے ۔