شیعہ کی طرف سے پیش کردہ ماتم کے دلائل اور ان کا تحقیقی رد -…

شیعہ کی طرف سے پیش کردہ ماتم کے دلائل اور ان کا تحقیقی رد

  حنیف معاویہ

صفحہ 1 از 3

شیعہ کی طرف سے ماتم کے تمام دلائل اور ان کے تحقیقی جوابات

نوٹ:- (محرم الحرام کے دنوں میں آپ کو شیعہ کی طرف سے یہی دلائل سٹیٹس اور تحریر کی شکل میں ملیں گے یہ سب کے جوابات ہیں محفوظ کر لیں) 

ماتم کے حق میں دی گئی دلیلوں کے آسان اور عام فہم شافی جوابات نوجوان حضرات پڑھ کر رٹ لیں شيعوں کا منہ بند کرنے کے کام آئیں گی

  شیعہ دلیل نمبر1 
حضرت یعقوبؑ بھی تو یوسفؓ کے غم میں روئے تھے یہاں تک کہ رو رو کر ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تھی، چنانچہ قرآن پاک میں آتا ہے کہ:

’’وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ ‘‘:
 (سورة یوسف آیت 84)

''اور اس نے منہ پھیر لیا اور کہنے لگا ہائے افسوس! یوسف پر اور غم واندوہ کی وجہ سے اس کی دونوں آنکھیں سفید ہوگئیں۔''
تو جب ایک نبی دوسرے نبی کے غم میں رو رو کر آنکھیں سفید کرسکتا ہے تو امام عالی مقام کا غم منانے پر کیا اعتراض ہے؟

 الجواب اہلسنّت 
ماتمی شیعہ نے اس آیت کے لفظ *’’فَهُوَ كَظِيمٌ‘‘  پر غور نہیں کیا، جس کا ترجمہ ہے کہ ’’وہ اپنے غم کو روکنے والے تھے‘‘
معلوم ہوا کہ غم لاحق ہوناحضرت یعقوبؑ کا غیر اختیاری فعل تھا اور انہوں نے اپنا ارادہ و اختیار غم منانے پر نہیں بلکہ غم ختم کرنے پر صرف کیا۔ اسی کو صبر جمیل کہتے ہیں جس پر انعامات کی بشارتیں اللہ کا قرآن سناتا ہے۔
 2-آیت میں نہ ''منہ پیٹنے''  کا لفظ ہے نہ  ''سینہ کوبی''  اور  ''ماتم''  کا بلکہ صرف ''حزن''  کا لفظ ہے جس کا معنی صرف * ''غم واندوہ''*  ہے۔
3-حضرت یوسفؑ کے فراق کا صدمہ حضرت یعقوبؑ کو مسلسل رہا۔ لیکن جب دور فراق ختم ہوا اور آپؑ کو حضرت یوسفؑ کے تخت ِمصر پر متمکن ہونے کی بشارت ملی تو پھر آپؑ کا غم بھی جاتا رہا اور آنکھوں کی روشنی بھی واپس لوٹ آئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ جب تک کسی محبوب کی مصیبت باقی ہو اور اس کا صدمہ لاحق رہے لیکن صبر کے خلاف کوئی حرکت نہ کرے تو یہ غیر اختیاری ''غم و اندوہ ''گناہ نہیں اور جب وہ مصیبت ختم ہو جائے تو پھر غم بھی ختم ہو جاتا ہے۔
اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ میدان کربلا میں حضرت امام عالی مقام اور آپ کے اعزہ واحباب پر جو مصیبت نازل ہوئی وہ وقتی تھی۔ شہادت کا درجہ پانے کے بعد جب آپ کو جنت مل گئی تو پہلی مصیبت ختم ہوگئی۔
اب شہدائے کربلا کی روحوں کو حسبِ آیاتِ قرآنی جنت کا رزق ملتا ہے اور وہ وہاں خوش ہیں تو اب رونے اور ماتم کرنے کا کیا موقعہ ہے؟ ہم تو حضرت یعقوبؑ کی پیروی کرتے ہیں کہ جب تک آپؑ مصیبت میں مبتلا تھے اس وقت بھی صبر کیا اور جب حضرت یوسفؑ کے بلند مقام کی بشارت ملی تو پہلا غم بھی بالکل ختم ہوگیا۔ مصر کے تخت سے جنت کا مقام تو اعلیٰ درجہ رکھتا ہے کیا ماتمیوں کو حضرت حسینؓ کے جنتی ہونے اور وہاں خوشیاں منانے کا یقین نہیں ہے اور اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جنت میں بھی وہ مصیبت میں ہیں۔
4- حضرت یوسفؑ کو مصر کی سلطنت ملنے کے بعد بھی کیا حضرت یعقوبؑ نے اس گزری ہوئی مصیبت کی یادگار میں ہر سال غم کی مجلس منعقد کی تھی؟
5-حضرت حسینؓ کے لیے سانحہ کربلا ایک بہت بڑا ایمانی امتحان تھا۔ جس میں آپؓ اعلیٰ نمبروں سے پاس ہوئے تو اب  ''واہ واہ حسینؓ'' امام کربلا کی شان کے لیے مناسب ہے یا ''ہائے حسینؓ، ہائے حسینؓ''  جو امام عالی مقام کو پاس سمجھتا ہے وہ ''واہ واہ'' کرے اور جو نعوذ باللہ فیل سمجھتا ہے وہ ''ہائے ہائے'' کرتا رہے ۔ نگاہ اپنی اپنی، پسند اپنی اپنی.
6- پاکستان میں کتنے ماتمی شیعہ ایسے ہیں جو امام حسینؓ کے غم میں اندھے ہوئے ہیں؟

 شیعہ دلیل نمبر 2
ماتمی شیعہ حضرات اپنے ماتم کی حمایت میں پارہ 7المائدہ آیت 83 بھی پیش کرتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے:
"اور جب وہ سنتے ہیں اس کو جو رسول ﷺ کی طرف اتارا گیا تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے حق پہچان لیا۔" الخ۔

 الجواب اہلسنّت 
1- یہ آیت ان عیسائیوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو ملک حبشہ سے حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ مدینے شریف پہنچے تھے اور جب رسول خدا ﷺ کی زبان مبارک سے انہوں نے قرآن مجید سنا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور وہ مسلمان ہوگئے۔ یہاں تو صرف آنکھوں سے آنسو جاری ہونے کا ذکر ہے اور وہ بھی قرآن سننے پر۔ اس کو تمہارے ماتم سے کیا تعلق ہے؟ 
 2-اگر ماتمیوں کے نزدیک اس آیت کا مطلب ماتم کرنا ہے تو پھر قرآن سننے پر ماتم کیوں نہیں کرتے؟

 شیعہ دلیل نمبر 3
ماتمی شیعہ حضرات کا ایک استدلال یہ بھی ہے کہ فرعون کے غرق ہونے کے واقعے کے دوران اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ:

’’فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠‘‘:

''نہ ان پر آسمان رویا نہ زمین نے گریہ کیا۔ اور نہ انہیں اللہ کی طرف سے مہلت دی گئی۔''
معلوم ہوا کہ جو برے لوگ ہیں وہ اس قابل نہیں کہ ان پر رویا جائے، اس کے بالمقابل ثابت ہوتا ہے کہ اچھے لوگوں پر روناچاہئیے۔'

 الجواب اہلسنّت 
1- اس آیت میں نہ شہادت کا ذکر ہے نہ ماتم کا تو اس سے مروجہ ماتم کیسے ثابت ہوگیا۔
2- اس آیت میں کوئی حکم نہیں ہے کہ نیک لوگوں پر رونا چاہیے۔
3- کیا ماتمی لوگ زمین وآسمان کے مذہب کے پیروکار ہیں؟
4- اگر اللہ کے مقبول اور صالح بندے مستحق گریہ ہیں تو پھر حضرت امام حسنؓ اور دیگر صلحائے امت کی وفات پر ہر سال کیوں گریہ وماتم کی مجلس بپا نہیں کرتے؟
5- نیک لوگوں کی وفات پر طبعاً انسان کو افسوس ہوتا ہے اور غیر اختیاری طور پر رونا بھی آتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں، اعتراض تو سال بسال اس دن کی یادگار منانے اور بے صبری و نوحے کے اعمال کرنے پر ہے جن کے کسی ثبوت کا اشارہ بھی اس آیت سے نہیں نکلتا.

 شیعہ دلیل نمبر 4
بعض ماتمی تفسیر ابن کثیر کے ایک حوالے سے بھی اپنے مروجہ ماتم کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تفسیر ابن کثیر میں ہابیل و قابیل کے واقعہ کے تحت لکھا ہے کہ:
''کہتے ہیں کہ اس صدمہ سے حضرت آدمؑ بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی۔ آخر فرشتوں نے ان کے غم دور ہونے اور ہنسی آنے کی دعا کی۔''الخ
(تفسیر ابن کثیر مترجم جلد اول صفحہ86)

صفحہ 1 از 3