شیعہ کی طرف سے پیش کردہ ماتم کے دلائل اور ان کا تحقیقی رد -…

شیعہ کی طرف سے پیش کردہ ماتم کے دلائل اور ان کا تحقیقی رد

  حنیف معاویہ

صفحہ 2 از 3

 الجواب اہلسنّت 
1- فرمائیے! کیا اس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ حضرت آدمؑ ہر سال''غم کی مجلس'' قائم کرتے تھے یا یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرشتوں نے ان کے غم کو دور کرنے کی دعا کی تھی؟ اس سے معلوم ہوا کہ غم دور کرنا ضروری ہے نہ کہ باقی رکھنا۔
2-حضرت آدم علیہ السلام نے ''منہ پیٹا'' اور نہ ''سینہ کوبی'' کی اور نہ کالے کپڑے پہنے تو ماتمی لوگ یہ کام کر کے کس کی سنت کی پیروی کرتے ہیں؟

5 شیعہ دلیل نمبر
''حضرت نوحؑ کا اصلی نام عبد الغفار تھا اور نوحہ کرنے کی وجہ سے نوح کہلاتے ہیں۔ ''(الصاوی علی الجلالین، جلد دوم صفحہ 133مطبوعہ مصر)

 الجواب اہلسنّت 
1- حضرت نوحؑ کسی مقبول بندے کی مصیبت،بشارت کی وجہ سے سے نہیں روئے بلکہ اس کی وجہ سے خود صاوی حاشیہ جلالین میں یہ لکھی ہے :

''لقب نوح لکثرة نوحة علی نفسہ حیث دعا علی قومہ فھلکوا ۔وقیل لمراجعتہ ربہ فی شان ولدہ کنعان۔

"آپؑ کا لقب نوح اس لیے ہوا کہ آپ اس بنا پر زیادہ روتے رہے کہ آپؑ نے اپنی قوم کے لیے بددعا کی تھی جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئی تھی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کے رونے کی وجہ یہ تھی کہ اپنے بیٹے کے بارے میں آپؑ نے اپنے رب تعالیٰ سے سوال کیا تھا۔"
2- اس نوحہ (رونے) سے منہ پیٹنا اور سینہ کوبی کرنا کیسے ثابت ہوگیا؟

 شیعہ دلیل نمبر 06
حضرت ابراہیم بن محمد ﷺ کے انتقال کی آنحضرت ﷺ کو خبر ہوئی تو عبد الرحمن بن عوفؓ کے ساتھ تشریف لائے۔ نزع کی حالت تھی گود میں اٹھا لیا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ (سیرت النبیؐ حصہ اول صفحہ 728)

 الجواب اہلسنّت 
1-اس کے بعد یہ الفاظ بھی ہیں کہ:
''عبد الرحمن بن عوفؓ نے کہا یا رسول اللہﷺ ! آپ کی یہ حالت؟ آپ نے فرمایا یہ رحمت ہے۔''
اس سے ثابت ہوا کہ اپنے فرزندحضرت ابراہیم کے انتقال پر رحمت کی وجہ سے حضورﷺ کی آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے تھے لیکن اس سے ماتم مروّجہ کیسے ثابت ہوا۔؟
2-اور اس گریہ کی بھی کیا ہر سال ابراہیم کی وفات کے دن رسول اللہﷺ نے کوئی مجلس بپا کیا تھی؟
3-حضرت حسینؓ کے ماتمیوں نے بھی کبھی حضرت ابراہیم بن محمد ﷺ کے ماتم کی مجلس بپا کی ہے؟ عجیب بات ہے کہ جس چیز سے استدلال کرتے ہیں خود اسی پر عمل نہیں۔

 شیعہ دلیل نمبر 7
حضرت حمزہؓ کی شہادت پر حضرت رسول اکرم ﷺ روئے اور فرمایا۔ ہائے آج حمزہ کا ماتم کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس پر صحابہؓ نے اپنی عورتوں سے کہا کہ تم حضرت حمزہؓ کا ماتم کرو اور عورتوں نے گریہ کیا اور صف ماتم بچھائی۔ آنحضرت ﷺ نے عورتوں کا گریہ سن کر خود گریہ کیا اور عورتوں کو ماتم کرنے کی وجہ سے دعائے خیر دی۔ (کتاب مغازی فتوح الشام صفحہ 108، سیرة ابن ہشام ،سیرة النبی شبلی نعمانی جلد اول)

الجواب اہلسنّت 
1- اس عبارت میں بھی منہ پیٹنا اور سینہ کوبی کرنا ثابت نہیں جس سے مروجہ ماتم ثابت ہوتا ہے۔
2-سیرة النبی شبلی نعمانی حصہ اول 387میں تو یہ الفاظ ہیں۔
''آنحضرت ﷺ نے دیکھا تو دروازہ پر پردہ نشینان انصار کی بھیڑ تھی اور حضرت حمزہؓ کا ماتم بلند تھا۔ ان کے حق میں دعائے خیر کی اور فرمایا تمہارے ہمدردی کا شکرگزار ہوں لیکن مُردوں پر نوحہ کرنا جائز نہیں''
اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حمزہؓ کے ماتم میں عورتوں نے رواج کے تحت نوحہ (بین کرکے رونا)شروع کر دیا تھا جس سے رحمة للعالمین ﷺ نے ان کو منع فرمادیا۔
4- کیا پھر ہر سال حضرت حمزہؓ کی شہادت کے دن ماتم و گریہ کی مجلس بھی قائم کی گئی تھی؟
 5- کیا آج کل کے ماتمیوں نے بھی کبھی حضرت حمزہؓ کی مجالسِ ماتم بپا کی ہیں۔اگر نہیں تو کیوں؟*

 شیعہ دلیل نمبر 8 
 "حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہؓ  کی وفات کے سال کو آنحضرتﷺ نے "عام الحزن " یعنی غم کا سال کے نام سے یاد کیا ہے۔

   الجواب اہلسنّت 
 اگر اس سال کو عام الحزن کا نام دینے کا مطلب یہی ہے کہ ہر سال ان کی وفات کے دن ماتم کی مجالس قائم کی جائیں تو کیا حضرت علی المرتضیٰؓ ،حضرت فاطمۃ الزھراءؓ،حضرت حسنؓ و حضرت حسینؓ نے ہر سال کوئی مجلس غم بپا کئ تھی؟اور کیا رحمۃ للعالمینﷺ نے بھی اپنے مہربان چچا ابو طالب اور اپنی پیاری بیوی خدیجۃ الکبریٰؓ کی وفات کا دن ہر سال مجلس ماتم کی طرح منایا تھا؟اگر نہیں تو پھر کس کی پیروی کرتے ہو؟

 شیعہ دلیل نمبر 9 
 جنگ احد میں رسول اللہﷺ  کا دانت مبارک شہید ہوگیا جس کی خبر سن کر خواجہ اویس قرنی نے اپنے دانت توڑ دیے آنحضرت ﷺ نے اس فعل کو پسند فرمایا اور خواجہ کے لیے دعا دی۔

  الجواب اہلسنّت 
 1۔ یہ روایت بلاسند اور بلا حوالہ پیش کی گئی ہے اس لیے اس کو حجت نہیں بنایا جاسکتا۔
2۔ اگر اسی طرح اپنے دانت توڑنا صحیح اور کارِ ثواب ہوتا تو پھر حضرت علی مرتضیٰؓ  بھی اپنے دانت توڑ دیتے کیا ماتمیوں کے نزدیک خواجہ اویس قرنی کا عشقِ رسالتﷺ حضرت علیؓ سے زیادہ تھا؟
 3 ۔اگر خواجہ اویس قرنی کی یہ سنت ماتمیوں کو پسند ہے تو پھر سرکارِ دو عالمﷺ کے دانت شہید ہونے کی یادگار میں اپنے دانت کیوں نہیں توڑ دیتے سارا قصہ ہی ختم ہو جائے نا مرثیہ خواں رہیں نا سوز خواں  "نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری"۔ 

  شیعہ دلیل نمبر 10
 اسلام دینِ فطرت ہے اور رونا فطرتِ انسانی ہے بچہ پیدائش کے بعد زندگی کا آغاز رونے سے کرتا ہے۔ الخ
             
  الجواب اہلسنّت 
1۔ پیدائش کے بعد رونا مروجہ ماتم کی دلیل کیسے بن گیا؟بچہ کس کے ماتم میں روتا ہے؟۔ 
2۔ اگر بچہ روتا ہے تو پیشاب پاخانہ بھی کرتا ہے تو اس فطرت انسانی کے پیش نظر پیشاب پاخانہ کی مجالس بھی قائم ہونی چاہییں واہ کیا خوب عقل ہے سبحان اللہ۔

صفحہ 2 از 3