شیعہ کی طرف سے پیش کردہ ماتم کے دلائل اور ان کا تحقیقی رد -…

شیعہ کی طرف سے پیش کردہ ماتم کے دلائل اور ان کا تحقیقی رد

  حنیف معاویہ

صفحہ 3 از 3

 شیعہ دلیل نمبر 11 
سانحہ کربلا کے وقت اسلام میں کوئی فرقہ بندی نا تھی قاتلانِ امام دائرہ اسلام سے خارج ہو چکے تھے آج امام حسینؓ کا ذکر اور ان کی حمایت کرنا گویا امام مظلوم کا ساتھ دینا ہے۔ الخ 
    
  الجواب اہلسنّت
1۔ ماتم کرنے کو امام حسینؓ کی حمایت سے کیا تعلق ہے؟ حسینیت تو یہ کہ امام حسینؓ نے جس شریعت اور سنت مقدسہ کے لیے اپنی جان قربان کی تھی اس کی اتباع کی جائے اور اعمال صالحہ کو رائج کیا جائے شرک و بدعت اور بت پرستی کے مظاہر کو مٹایا جائے۔
    امام عالی مقام کو دعوت دینے والے بھی کوفی ہیں اور یزیدیت کی حمایت میں شہید کرنے والے غدار بھی کوفی لوگ ہیں جو ماتم امام حسینؓ نے ساری عمر نہیں کیا اس کا ارتکاب حسینیت کی حمایت ہے یا مخالفت؟ 
2۔ اخبار ماتم ص 967 میں ہے کہ سب سے پہلے شہادت حسینؓ کا ماتم یزید کے گھر میں اس کی بیوی ہندہ نے بپا کیا تھا اب یہ نتیجہ نکالنا آسان ہے کہ حسینیت کیا ہے اور یزیدیت کیا؟ 

   شیعہ دلیل نمبر 12
 فریقین کی معتبر روایتوں میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ حضرت جابر بن عبداللؓہ اور حضرت انسؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ جناب رسالت مآب ﷺ نے فرمایا جو شخص کربلا میں امام حسینؓ کی زیارت کرے اس حال میں کہ ان کے حق کو پہچانتا ہو تو اس پر بہشت واجب ہو جاتی ہے۔  

 الجواب اہلسنّت              
 1 ۔فریقین (یعنی سنی اور شیعہ) کی کتابوں کا حوالہ نہیں لکھا گیا تاکہ معلوم ہو کہ یہ روایت کیسی ہے۔
 2۔ امام حسینؓ کے مزار کی زیارت کرنے سے ماتم کا عبادت ہونا کیسے ثابت ہوگیا؟۔
 3۔ جو شخص امام حسینؓ کے صبر اور نماز کی پیروی نہیں کرتا اور سنت کو ترک کرتا ہے اور بدعات کا مرتکب ہے وہ امام حسینؓ کا حق پہچاننے والوں میں شامل ہی نہیں ہوسکتا پھر جنت کا مستحق کیسے ہوگیا۔؟

  شیعہ دلیل نمبر 13 
 حضرت محمدﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص حضرت حسینؓ پر ان کا حق پہچانتے ہوئے روئے اس پر جنت واجب ہے۔
                
 الجواب اہلسنّت
 1۔ اس روایت کا بھی حوالہ پیش نہیں کیا گیا۔              
2 ۔پھر اس میں ماتم مروجہ کا تو کوئی ذکر نہیں.                
3۔ اگر صرف رونے سے جنت ملتی ہے پھر شریعت کی کیا ضرورت ہے۔
4 ۔آئمہ اہل بیت امام زین العابدینؒ ,امام محمد باقؒر اور امام جعفرؒ صادقؒ نے ایسی مجالس ماتم کیوں نہیں قائم کیں؟بلکہ ان امور کوحرام قرار دیا ہے جیسا کہ آئندہ حوالہ جات میں پیش کیا جائے گا۔

  شیعہ دلیل نمبر 14
      حضرت حسینؓ کا غم تو وہ غم ہے جس پر انسان تو کجا جن و ملک, چرند و پرند, آسمان و درخت سب نے گریہ کیا چناچہ لکھا ہے آسمان حضرت حسین ؓپر  40 دن تک روتا رہا. (ینابیع المودات از علامہ شیخ سلیمان حنفی قندوزی مطبوعہ قسطنطنیہ ص 39)   
            ثابت ہوا کہ مرثیہ پڑھنا, رونا اور ماتم کرنا انبیاء کی سنت اور اصحاب رسول اکرم ﷺ ہے۔
 الجواب اہلسنّت
 1 ۔"ینابیع المودات "حنفیوں کی کوئی مستند کتاب نہیں پھر قرآن و حدیث کے صریح ارشادات کے خلاف ایسی روایات کیونکر قابل قبول ہو سکتی ہیں۔
   2 ۔اس عبارت میں بھی منہ پیٹنے اور سینہ کوبی کا کوئی ذکر تک نہیں۔
  3 ۔کیا فرشتوں کی فطرت بھی رونا اور ماتم کرنا ہے.؟العیاذباللہ!
4۔کیا ہر سال زمین آسمان ماتم کرتے ہیں ؟

  شیعہ دلیل نمبر 15 
   اے منکر غم گر میرے پیر ناہوتے, مسمارمحل دین کے تعمیر نا ہوتے, حسینؓ کی قربانی سے زندہ ہے یہ اسلام,  مٹ جاتا اگر دنیا میں شبیر نا ہوتے۔

      الجواب اہلسنّت 
 1۔ ان اشعار میں تو دعویٰ ہے نہ کہ دلیل۔                       
 2 ۔اس کو ماتم سےکیاتعلق؟
 3 ۔کیا دین کے محل میں رحمت للعالمین حضرت محمد ﷺنے کوئی ماتم کی اینٹ بھی لگائی ہے یا دین کا محل نماز، روزہ،صبرورضا جیسے اعمال صالحہ سے تعمیر کیا گیا ہے؟


 شیعہ دلیل نمبر 16 
 شیعہ دلیل نمبر 17 
شیعہ دلیل نمبر 18
دلیل نمبر 16 ،17، 18  میں
 تورات کی عبارتیں پیش کی گئی ہیں جن میں گریہ،ماتم رونے کے الفاظ ہیں۔

 الجواب اہلسنّت 
 1- ان عبارتوں میں بھی منہ پیٹنے اور سینہ کوبی کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے مروّجہ ماتم کیونکر ثابت ہوا۔

 2- قرآن کے بعد تورات انجیل وغیرہ آسمانی کتابیں منسوخ ہوچکی ہیں ،جن کی عبارتیں مسلمانوں کے لئے حجت نہیں ہیں۔کیوں کہ اصلی آسمانی کتابوں میں تبدیلی ہو گئی ہے۔

 3- اگر تورات انجیل کے مذہب کی پیروی کرنی ہے تو کیا اس پر بھی ایمان لاؤگے جو تورات میں لکھا ہے کہ:
 (ا) حضرت یعقوبؑ نے خدا کے ساتھ کُشتی کی تھی۔نعوذ باللہ (پیدائش صفحہ 46) 

 (ب) حضرت لوطؑ نے اپنی بیٹیوں سے بدکاری کی تھی. استغفراللہ (پیدائش صفحہ 24)

   خلاصہ جوابات 
 یہ ہے کہ مذکورہ 18 دلائل میں سے کسی ایک دلیل سے بھی مروجہ ماتم ثابت نہیں ہوسکتا اور اگر یہ ماتم عبادت ہوتا تو اولاً قرآن میں اس کا صریح حکم ہوتا اور ثانیاً احادیث مبارکہ میں اس کی تصریح ہوتی اور نعوذ باللہ خود رسول ﷺ ماتم کی مجالس بپا کرتے جیسا کہ نماز روزہ وغیر عبادات پہلے خودحضورﷺ نےادا کی ہیں
۔


صفحہ 3 از 3