Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حقیقت لولا علی لهلك عمر

  نقیہ کاظمی

حقیقت لولا علی لهلك عمر 

شیعہ ایک شبہ ذکر کیا کرتے ہیں کہ عمر بن الخطابؓ شریعت کے عالم نہیں تھے اور دیگر لوگوں سے کم علم تھے۔" مسائل کے فیصلے کرنے میں غلطی کر بیٹھتے تو علی المرتضیؓ ان کے غلط فیصلے کو توڑ دیتے۔ اس پر حضرت عمرؓ یہ کہا کرتے: لولا علیؓ لهلک عمرؓ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔
حوالہ شیعہ کتاب آئینہ مذہب سنی از ڈاکٹر نور حسین، ص 953
شیعہ کتاب فلک النجا از حکیم علی محمد و امیر دین، صفحہ 432-443)
 شیعہ کے اعتراض کا مقصد یہ ہے کہ حضرت عمر بن الخطابؓ مسائل شرعیہ سے جاہل تھے اور امامت و خلافت کے مہمات میں سے ہے کہ امام اور خلیفہ مسائل شرعیہ کے متعلق پورا واقف اور عالم ہو لیکن وہ ناواقف تھے اور خلافت کے اہل نہیں تھے۔ آئیے زرا تحقیق کرتے ہیں حقیقت کیا ہے 

الجواب
 *اس شبہ کے ازالہ کے لیے ذیل میں ہم چند چیزیں پیش کرتے ہیں ان پر توجہ فرمائیں۔۔۔ یہ شبہ زائل ہو جائے گا۔

ایک بات تو یہ ہے کہ خلیفۂ اسلام جن اوصاف کی بنا پر منتخب کیا جاتا ہے، وہ اس کی عدالت، دیانت، تقویٰ، علم دین اور اس کے شرعی مسائل سے واقفیت اور انتظامی امور کی اہمیت اور احکام شرعیہ کے نفاذ کی صلاحیت ہے۔ اس مقام میں یہ شرط نہیں ہے کہ خلیفۂ اسلام تمام شرعی امور سے متعلقہ تمام علوم سے ہر طرح واقف ہو اور کوئی معاملہ بھی اس کے علم سے پوشیدہ نہ ہو۔ اس عدم شرط پر قرائن و شواہد موجود ہیں۔

چنانچہ حضرت علی المرتضیؓ ، جو مسلم بین الفریقین خلیفۂ عادل اور واقف علوم شرعیہ ہیں۔ ان کے متعلق بھی بعض واقعات ایسے واقعات موجود ہیں جن میں ان سے علمی فروگزاشت پائی جاتی ہے اور بعض مواقع میں تو آنموصوفؓ نے صاف طور پر اپنی لاعلمی کا اظہار فرمایا ہے، مثلاً روایات میں منقول ہے کہ

روایت نمبر 1 
أن علياؓ حرق قوما ارتدوا عـن الاسلام فبلغ ذالک ابن عباسؓ فقال: لو كنت انا لقتلـتـهـم بـقـول رسـول الـلـه ﷺ قال رسول الله ﷺ مـن بـدل دینه فاقتلوه ولم اكن لاحـرقـهـم لان رسـول اللـه قـال لا تعذبوا بعذاب الله- فبلغ ذالك علياؓ فقال صدق ابن عباسؓ- هذا حديث حسن صحيح

(جامع الترمذی، ابواب الحدود، باب ما جاء في المرتد،  مسند حمیدی ص235-244، ج اول، رقم الحدیث 533)

یعنی ایک قوم مرتد ہوگئی تو حضرت علی المرتضیؓ نے ان کو آگ میں جلوا دیا۔ جب اس چیز کی حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں ان کو سزا دیتا تو قتل کر دیتا اس لیے کہ فرمان نبوی ﷺ اس طرح ہے کہ جو شخص اپنا دین اسلام چھوڑ دے تو اس کو قتل کر دو۔ اور میں آگ میں نہ جلاتا اس لیے کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ کا عذاب نہ دیا کرو (آگ کا عذاب اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے) جب یہ خبر حضرت علی المرتضیؓ کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ ابن عباسؓ نے سچ کہا ہے۔

روایت نمبر 2
اور بعض دفعہ اس طرح ہوا ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی المرتضیؓ سے مسئلہ دریافت کیا تو حضرت علی المرتضیؓ  نے اس کو جواب دیا۔ وہ شخص کہنے لگا کہ یہ مسئلہ اس طرح نہیں ہے بلکہ اس طرح ہے۔ جواب سن کر حضرت علی المرتضیؓ نے فرمایا کہ تو نے مسئلہ ٹھیک کہا ہے اور میں چوک گیا ہوں۔ ہر علم والے سے دوسرا زیادہ عالم ہو سکتا ہے کنز العمال میں ہے کہ 

عن محمد بن كعب قال: سأل رجل علياؓ عن مسئلة فـقـال فـيـهـا فـقـال الـرجـل ليس هكذا ولـكـن كـذا وكذا قال اصبت و اخطات وفوق كل ذي عـلـم عـلـيـم
(کنز العمال ص231 خامس باب فی آداب العلم والعلماء،) 

اسی طرح حضرت علی المرتضیؓ کے متعلق اس نوع کے کئی مسائل اور واقعات کتابوں میں پائے جاتے ہیں، ہم نے یہاں صرف دو واقعات ذکر کیے ہیں جو اصل مسئلہ کی تائید میں کافی ہیں۔

روایت نمبر 3
نہج البلاغہ( شیعوں کی کتاب) میں حضرت علی المرتضیؓ کی زبان سے اقرار یوں مذکور ہے فرمایا کہ میں خطا کرنے سے بالاتر نہیں ہوں اور میں اپنے فعل میں غلطی سے بے خوف نہیں ہوں مگر یہ کہ اللہ تعالی میری کفایت کرے جو مجھ سے زیادہ قدرت والا ہے۔

فلا تـكـفـوا عـن مـقـالـه بـحـق و مـشـوره بـعـدل فانی لست في نفسى بفوق ان اخطى ولا امن ذالك من فعلى الا ان يـكـفـى الـلـه مـن نـفـسـي مـا هـو امـلـک بـه منـی.
(نہج البلاغہ، ص1437)

مندرجات بالا سے یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ بعض مسائل میں لاعلمی کا اظہار کرنا اور بعض واقعات میں خطا کرنا یا اپنی تحقیق کو ترک کر کے دوسروں کے قول کو اختیار کرنا۔ یہ کوئی نقص اور عیب کی بات نہیں اور یہ کوئی قابلِ تنقید اور لائق اعتراض فعل نہیں۔ اکابر ائمہ سے اسی طرح یہ چیز منقول ہے۔ 

اس سلسلہ میں یہ مشہور واقعہ ذکر کیا جاتا ہے کہ ایک زانیہ عورت کو حضرت عمرؓ نے رجم کرنے کا حکم فرمایا اور حضرت علی المرتضیؓ کو معلوم ہوا کہ وہ عورت حاملہ ہے تو حضرت علیؓ نے یہ چیز حضرت عمرؓ  کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپؓ کا حکم اس عورت پر تو چل سکتا ہے مگر جو چیز اس کے بطن میں ہے اس پر آپؓ کا حکم نہیں چل سکتا۔ تو اس صورت میں حضرت عمرؓ نے ان کی بات کو تسلیم کر لیا اور فرمایا 

لو لا عـلـىؓ لـهـك عـمـرؓ

یعنی اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتے
مطلب یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کو عورت کے حاملہ ہونے کا علم نہیں تھا اور حضرت علی المرتضیؓ کو معلوم تھا تو ان کے متنبہ کرنے سے حضرت عمرؓ ایک بہت بڑی غلطی سے بچ گئے اور انہوں نے اس موقع پر ادائے شکر کے طور پر مذکورہ بالا کلمہ فرمایا اور اس طرح حضرت علیؓ کی قدردانی اور حوصلہ افزائی کی۔ جیسا کہ اکابر شرفاء کا طریق کار ہے۔

 حضرت عمرؓ کی شخصیت بہت بلند ہے اور ان کا منصفانہ اخلاق باکمال پایا جاتا ہے اور مذکورہ بالا واقعہ ان کے اخلاق کی بلندی کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہوں نے اپنی ایک فروگزاشت پر دیگر صحابۂ کرامؓ کے حق میں کلمات شکر ادا کیے۔ 

 دیگر واقعہ 
   اس سلسلہ میں ہم ایک دیگر واقعہ حضرت عمرؓ کی بلندی اخلاق اور انصاف پسندی پر آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جو متعدد محدثین نے اپنی اسانید کے ساتھ ذکر کیا ہے، چنانچہ حافظ دارقطنی نے اپنی سنن میں یہ واقعہ اس طرح تحریر کیا ہے کہ 

عن ابي سفيان قال حدثني اشیاخ منا قالوا جاء رجل الى عمر ابن الخطابؓ فقال يا امير المؤمنينؓ اني غبت عن امرأتي سنتين فجئت و هي حبلىٰ فنشاور عمرؓ الناس في رجمها قال فقال معاذ بن جبلؓ ياامير المؤمنينؓ! ان كان لك عليها سبيل فليس لك على ما في بطنها سبيل فاتركها حتى تضع فتركها فولدت غلاما قد خرجت ثنياه. فعرف الرجل الشبه فيه فقال ابني ورب الكعبۃ فقال عمرؓ عجزت النساء ان يلدن مثل معاذؓ لولا معاذؓ لهلك عمرؓ. 
سنن الدارقطنی صفحہ 322، جلد 3 تحت کتاب النکاح ،طبع انصاری دہلی،
المصنف لابن ابی شیبہ صفحہ 88 جلد 15 تحت کتاب الحدود طبع کراچی 
کتاب السنن السعید بن منصور صفحہ 70) 

 


مطلب یہ ہے کہ ابو سفیان کہتے ہیں کہ مجھے اپنے مشائخ نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص حضرت عمرؓ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا اے امیر المومنینؓ میں اپنی زوجہ سے دو سال غائب رہا ہوں اور جب میں آیا ہوں تو وہ حاملہ ہے (فلہذا میری زوجہ سزا کے لائق ہے) تو حضرت عمرؓ نے دیگر صحابۂ کرامؓ سے اس عورت کے رجم کرنے کے بارے میں مشورہ کیا تو معاذ بن جبلؓ نے فرمایا امیرالمومنینؓ عورت کو رجم کرنے کا حق حاصل ہے مگر جو اس کے بطن میں ہے آپؓ کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔ اسے وضع حمل تک ملتوی کر دیں۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے اسے وضع حمل تک ملتوی کر دیا۔ پھر اس عورت نے ایک لڑکا جنا جس کے سامنے کے دانت نکل چکے تھے۔ بس اس شخص نے اس بچے میں اپنے مشابہت پائی اور کہنے لگا رب کعبہ کی قسم یہ بچہ میرا ہے۔ عمرؓ نے فرمایا کہ عورتیں معاذ بن جبلؓ جیسا شخص پیدا کرنے سے عاجز ہوچکی ہیں اور فرمایا 

لولا معاذؓ لهلك عمرؓ

 اگر معاذؓ نہ ہوتا تو عمرؓ ہلاک ہو جاتا۔
حاصل یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت معاذؓ کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے ان کے حق میں قدردانی اور عزت افزائی کے کلمات ذکر کیے۔ گویا کہ حضرت عمرؓ کی طرف سے حضرت معاذؓ کے حق میں یہ کلمات تشکر کے درجہ میں ہیں اور ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی بھی اس میں مطلوب ہے اور باکمال شخصیات کے کلام کا انداز ایسا ہی ہوتا ہے۔

خلاصۂ کلام
حاصل کلام یہ ہے کہ دو چار لوگ اس مسئلہ کو حضرت عمرؓ کی لاعلمی اور نااہلیت قرار دے کر ان کے حق میں طعن و اعتراض پیدا کرتے ہیں۔ حالانکہ اس نوع کے کلمات کا ان حضرات سے صادر ہونا ان کے کمال انصاف پسندی اور قبول حق کے نشانات میں سے ہے اور منصفانہ کردار کی علامت میں سے ہے۔ اور اگر ان لوگوں کو حضرت عمر فاروقؓ کی لاعلمی اور مسائل دینی سے نا واقفی ظاہر ہونے پر اصرار ہے تو یہ چیز تو خود حضرت علیؓ سے ان  کے اپنے کلام سابق سے ثابت ہے۔ متعدد واقعات حضرت علیؓ سے منقول ہیں۔ جن میں ان سے لا علمی اور نا واقفی کا اقرار پایا جاتا ہے۔ جو کے سابقہ سطور میں مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ 

پھر اس معاملہ میں صرف عمرؓ کو ہی کیوں ہدف اعتراضات بنایا جاتا ہے؟؟؟ مقصد یہ ہے کہ اسلام کے لئے تمام علوم کا علم ہونا اور تمام امور سے واقف ہونا شرط خلافت نہیں۔اس بارے میں بہتر طریقہ یہی ہے کہ ان دونوں اکابر ہستیوں کے بارے میں اس قسم کے اعتراضات نہ اٹھائے جائیں اور ان کے حق میں کف لسان کیا جائے۔ ایمان کی سلامتی اسی میں ہے۔

ادارہ دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ