واقعہ شہادتِ خلیفہ دوم سیدنا عمرؓ
نقیہ کاظمیواقعہ شہادتِ خلیفہ دوم سیدنا عمرؓ
حضورﷺ کی پیش گوئی سیدنا عمرؓ کی پُرخلوص دعا اور خواب کی تعبیر سچ بن کر سامنے آئی آپؓ نے اللہ تعالیٰ سے جو مانگا اور جس طرح مانگا اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا آپ کو مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے اعلی درجہ شہادت کی موت نصیب فرمائی۔
آپؓ کی شہادت کا واقعہ اس طرح رونما ہوا کہ مدینہ منورہ میں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے پاس ابو لولو فیروز نامی ایک غلام تھا جو عیسائی مذہب رکھتا تھا اور روم سے قید ہو کر آیا تھا مگر اصل سے فارسی (مجوسی) تھا کسی زمانہ میں اہل روم میں سے قیدی بنا کر لے گئے تھے یہ غلام اپنے مذہب پر پختگی سے قائم رہنے کے ساتھ قوی تعصب اور حمیت کو بھی پوری طرح دل میں لیے ہوئے تھا.
نہاوند کا معرکہ ختم ہو کر بہت سے قیدی جب مدینہ منورہ لائے گئے تو ابو لولو پر غم کا پہاڑ ٹوٹا قیدیوں میں سے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرتا اور کہتا تھا
*کل عمر کبدی ۔۔۔۔ عمر نے میرا جگر کھا لیا ہے۔
مگر باوجود ان خیالات کے مسلمانوں میں رہ کر بے خوف و خطر نہایت آزادی سے زندگی بسر کر رہا تھا آدمی ہوشیار اور طرح طرح کی صنعت و دستکاریوں میں ماہر تھا۔ اس لیے سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ نے پوری آزادی دے کر دو درہم یومیہ کا ٹیکس اس پر لگا دیا تھا ایسے ماہر اور صناع پر یومیہ دو درہم کچھ بھی نہ تھے۔
(اشاعت اسلام صفحہ 229)
ایک دن اس نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ میرے مالک مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے مجھ پر بڑا بھاری محصول مقرر کیا ہے آپ کم کرا دیجیئے سیدنا عمرؓ نے تعداد پوچھی تو اس نے کہا روزانہ دو درہم آپؓ نے پوچھا کہ تو کون سا کام کرتا ہے اس نے کہا نجاری و نقاشی آہن گری ۔ارشاد فرمایا ان صنعتوں کے مقابلے میں یہ کوئی بڑی رقم نہیں فیروز کو اس جواب سے سخت غصہ آیا اور وہ اس وقت وہاں سے نکل کر چلا گیا تاہم سیدنا عمرؓ نے ارادہ کر لیا تھا کے آپؓ اس بارے میں حضرت مغیرہؓ سے گفتگو کریں گے ۔
وفي نيته ان يلقى المغيرۃ ويكلمه يخفف
(المقصد العلی فی زوائد ابی یعلی الموصلی جلد 3، صفحہ 170)
پھر سیدنا عمرؓ نے اس سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تو ایسی چکی بنا سکتا ہے جو ہوا کے ذریعے سے آٹا پیسے اگر ایسا ہے تو مسلمانوں کے لیے ایک چکی بنا دے اس نے کہا بے شک ایسی چکی میں آپ کے لیے بنادوں گا جس کا چرچہ مشرق و مغرب میں ہو جائے گا اس نے اس گفتگو میں آپؓ کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی اور سیدنا عمرؓ بھی اس کو فوراً سمجھ گئے تھے چنانچہ اس کے چلے جانے کے بعد فرمایا
لقد اوعدني العبد الان۔۔۔۔۔
غلام مجھ کو قتل کی دھمکی دے کر گیا ہے
مگر آپؓ نے اس پر اس سے کسی قسم کی کوئی باز پرس نہیں کی اور نہ اس کو نظر بند کیا اور نہ اپنی حفاظت کا خاص سامان کیا۔ پھر آپؓ نے سیدنا مغیرہؓ کو بلایا اور ان کو تقوی سے کام لینے کی تاکید کی اور فرمایا کہ جن کو خدا نے تمہارا دست نگر بنایا ہے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
(الموافقہ صفحہ 67)
اس واقعہ کے دو تین دن بعد جب سیدنا عمرؓ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو فیروز زہریلا خنجر لے کر بہت پہلے مسجد میں چھپا بیٹھا تھا جب نماز کے لیے صفیں درست ہو چکیں تو سیدنا عمرؓ امامت کے لیے آئے اور جونہی نماز شروع کی اس نے اچانک آپؓ پر خنجر سے حملہ کر دیا اور آپؓ پر چھ وار کیے جن میں سے ایک آپؓ کے ناف کے نیچے جا لگا سیدنا عمر فاروقؓ نے فوراً حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کا ہاتھ پکڑ کر امامت کے لیے آگے کر دیا اور خود زخم لگنے کی وجہ سے گر پڑے اور آپؓ کے منہ سے یہ الفاظ نکلے
كان امر الله قدرا مقدورا۔۔۔۔۔۔ اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہنے والا تھا
(طبقات جلد 3 صفحہ 265)
( سیرت عمرؓ بن خطاب صفحہ 241 امام ابن جوزی رحمہ اللہ)
سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ نے مختصر نماز پڑھائی اس دوران فیروز ملعون نے تقریباً 12 مزید لوگوں پر بھی خنجر سے وار کیے جن میں سے چھ حضرات وہیں شہید ہوگئے جب وہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرنے لگا تو ایک شخص نے اس پر اپنی چادر پھینک دی جس سے وہ قابو آگیا اور جب اسے فرار کی کوئی راہ نہ ملی تو اس نے وہیں اپنے ہی خنجر سے خودکشی کرلی۔
(مستدرک جلد3، صفحہ 98)
( تاریخ الخلفاء صفحہ 137)
( مروج الذہب جلد 2، صفحہ 258)
سیدنا عمر فاروقؓ نے اسی حال میں نماز ادا کی اور پھر اسی زخمی حالت میں آپؓ کو گھر لایا گیا.
صحابہؓ پر اور تمام مسلمانوں پر صدمے کی یہ کیفیت تھی کہ گویا آج تک ان پر اس قسم کی کوئی مصیبت پیش نہیں آئی اور ان کا صدمہ حق بجانب تھا دوربین اور خواص حضرات تو جانتے تھے کہ آپؓ کی بابرکت زندگانی فتن اور حوادثات کے لیے سد راہ ہے۔ آپؓ کا اس عالم سے اٹھ جانا اور مسلمانوں میں اختلاف و فتن کا ظہور پذیر ہونا گویا لازم و ملزوم ہیں مگر وہ طبقہ جو ان احساسات سے خالی الذہن لیکن آپؓ کے عدل ورافت کے خوشگوار سایہ میں تربیت پا رہا تھا اس پر خاص سے زیادہ اس صدمہ کا اثر تھا۔
امتثال احکام شرع کی بنا پر بظاہر گو صبر و سکون تھا مگر دلوں میں قلق و اضطراب کے دریا معجزن تھے۔ چہرہ پر اداسی چھائی ہوئی تھی مسلمانوں کی تو یہ حالت تھی مگر حضرت عمرؓ کو نہ اپنی جان کا کچھ خیال تھا اور نہ ان مہلک زخموں کی تکالیف پر کچھ اظہار کلفت بلکہ وہی مسلمانوں کی محبت و ہمدردی اب بھی انہیں مشغول کیے ہوئے تھی۔
(اشاعت اسلام صفحہ 231)۔
سیدنا عمرؓ نے سب سے پہلے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے؟لوگوں نے کہا کہ فیروز آپؓ نے فرمایا
الحمد لله الذي لم يجعل قاتلي يحاجني عند الله بسجدة سجدها له قط
(طبقات جلد 3 ،صفحہ 263)
خدا کا شکر ہے کہ میری موت کسی مسلمان کے ہاتھ سے نہیں ہوئی
(تاریخ الخلفاء صفحہ 138)
آپؓ کے خادم خاص حضرت اسلم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمرؓ کو یہ دعا کرتے سنا ہے۔
اللهم لا تجعل قتلي على يدي عبد قد سجد لك سجدة يحاجني بها يوم القيامة
(طبقات جلد 3،صفحہ 263)
اے اللہ میرا قتل اس شخص کے ہاتھوں نہ ہو جس نے تیرے سامنے کبھی ایک سجدہ بھی کیا ہو تاکہ وہ روز قیامت اس سجدہ کو لے کر میرے مقابلہ میں نہ آئے آپؓ کو فکر ہوئی کہ شاید کوئی مسلمان اس مشورہ میں شریک ہو اس لئے جب صحابۂ کرامؓ آپؓ کی عیادت کیلئے آتے تو آپؓ پوچھتے تھے۔ أعن ملأ منكم كان هذا
(تاریخ کامل جلد 3 صفحہ 21 لابن اثیر )
کیا تمھاری جماعت کے مشورہ و اتفاق سے یہ کام ہوا ہے ؟
صحابہؓ اس کے جواب میں فرماتے معاذاللہ(خدا کی پناہ ہم ایسا کیونکر کر سکتے تھے )
سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے سیدنا عمؓر کو مقام شہادت پر فائز فرمایا اور آپؓ کی شہادت میں کسی ایک مسلمان کا ہاتھ نہ تھا یہ ایک بدترین آدمی فیروز پارسی تھا ۔
فساقها الله إليه على يد شر خلقه عبد مملوك للمغيرة
(در السحابة صفحہ 175)
وکان مجوسیا
(تاریخ عمرؓ صفحہ 241 )
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:
ولم یقتل عمرؓ من المسلمین لرضاء المسلمین عنہ وانما قتلہ کافر فارسی مجوسی
(منہاج السنہ جلد، 6 صفحہ 13)
کے خون میں کسی مسلمان کا ہاتھ تھا نہ کسی مسلمان کی خوشی اس میں شامل تھی آپؓ کو ایک کافر ایرانی مجوسی نے شہید آپؓ کیا۔
آپ یہ بھی لکھتے ہیں
فان ابا لؤلؤة کافر قتل عمر کما یقتل الکافر المؤمن وهذہ الشھادة أعظم من شھادة من یقتلہ مسلم فان قتیل الکافر أعظم درجة من قتیل المسلمین
(منہاج السنہ جلد 6، صفحہ 31)
ابو لولو کافر نے حضرت عمؓر کو شہید کیا جس طرح کوئی کافر کسی مسلمان کو شہید کر دیتا ہے اور یہ اس سے بڑی شہادت ہے کہ آپؓ کے خون سے کسی مسلمان کا ہاتھ رنگین ہوتا کیونکہ کافر کے ہاتھ سے شہید ہونا بہ نسبت کسی مسلمان کے ہاتھ سے زیادہ مرتبہ والی شہادت ہے ۔
سیدنا عمر فاروقؓ کے فوری علاج کیلئے لوگوں نے ایک طبیب بلایا جس نے آپؓ کو انگور کا شربت اور دودھ پلانے کی کوشش کی مگر یہ دونوں چیزیں زخم کی راہ سے باہر نکل پڑیں اس وقت لوگوں کو یہ پتہ چل گیا کہ زخم گہرا ہے اور اب آپؓ شاید زیادہ دیر زندہ نہیں رہیں گے اس صورت حال پر بعض حضرات نے عرض کیا کہ آپؓ اپنا جانشین مقرر کر جائیں نیز وہاں موجود لوگوں میں سے کسی نے آپؓ کی تعریف و توصیف میں چند کلمات کہے تو آپؓ نے اس پر فرمایا
اللہ کی قسم میری تمنا یہ ہے کہ میں دنیا سے ہلکا ہوکر روانہ ہو جاؤں میں کسی کا مقروض نہ ہوں اور میرا بھی کسی پر قرضہ نہ ہو حضور انور ﷺ پر درود و سلام ہو جن کی صحبت نے مجھے تمام آلام و مصائب سے محفوظ رکھا
( تاریخ الخلفاء صفحہ 137)
اس دوران حضرت عبداللہ بن عباسؓ آپؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے امیر المؤمنین آپؓ کو جنت کی خوشخبری ہو آپؓ اس وقت ایمان لائے جبکہ لوگ کافر تھے آپ نے حضورﷺ کے ساتھ جہاد کیا حضورﷺ آپ سے راضی ہو کر دنیا سے گئے اور آپؓ کی خلافت میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہیں تھا اور اب آپؓ مقام شہادت پا رہے ہیں ۔
ابشر بالجنۃ یا امیر المؤمنین اسلمت حین کفر الناس وجاھدت مع رسول اللّٰہ حین خذلہ الناس وقبض رسول اللّٰہ وھو عنک راض ولم یختلف فی خلافتک اثنان وقتلت شھیدا
( مستدرک حاکم صفحہ 98)
سیدنا عمرؓ نے یہ بات سنی تو سیدنا ابن عباسؓ سے فرمایا کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو حضرت ابن عباسؓ ابھی کچھ نہ کہہ پائے تھے کہ پاس ہی کھڑے حضرت علؓی نے کہا جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔
فقال علیؓ نعم نشھد بذلک
(کتاب الاثار صفحہ 207 )
حضرت عمر فاروقؓ کو حضرت علیؓ کی بات سے بہت خوشی اور راحت ملی۔ وفرح بذلک عمرؓ وأعجبہ
(طبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 270)
ابن ابی حدید شیعی نے یہ واقعہ شرح نہج البلاغہ میں جناب ہیثم کے حوالے سے نقل کیا ہے
(جلد 3 صفحہ 146 الآثار فی موت عمرؓ)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے آپؓ کے بدن پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ اس جسم کو دوزخ کی آگ کبھی بھی نہ چھوئے گی (جلد لاتمسہ النار ابدا) آپؓ نے حضورﷺ کی بہت اچھی صحبت پائی ہے حضورﷺ آپؓ سے خوش ہوکر گئے ہیں سیدنا ابوبکؓر بھی آپؓ سے خوش ہوکر گئے، مسلمانوں نے آپؓ کے ساتھ ایک لمبا عرصہ گزارا اور آپؓ اس حال میں ان کو چھوڑ کر جارہے ہیں کہ وہ سب کے سب آپؓ سے خوش ہیں۔
وصحبت المسلمین وتفارقھم وھم عنک راضون
(سیرت عمرؓ صفحہ 250 )
حضرت ابن عباسؓ نے اسوقت آپؓ سے یہ بھی کہا کہ
واللہ ان کان اسلامک لنصرا وان کانت امامتک لفتحا
واللہ لقد ملأت امارتك الارض عدلا
(طبقات جلد3،صفحہ 270)
وان كانت ولايتك لعدلا ولقد قتلت مظلوما(تاريخ عمر صفحہ 250)
آپؓ کا اسلام لانا مسلمانون کے لیئے باعث عزت تھا آپؓ کی امارت و خلافت انصاف پر مبنی رہی اور آپؓ کو شہادت کی موت نصیب ہے حضرت عمرؓ نے اس پر فرمایا کہ واللہ تم محض اس کی وجہ سے مجھے عزیز نا جانو اگر حق تعالی نے اپنا رحم میرے شامل حال نا کیا تو عمرؓ ہلاک ہوجائے گا
(الموافقہ صفحہ 27)
آپؓ نے حضرت ابن عباسؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اگر دنیا میں میرے پاس سونے کے دو پہاڑ بھی ہوتے تو میں انہیں قیامت کے خوف سے راہ خدا میں خرچ کر دیتا
تاريخ الخلفاء صفحہ 137)
والله لو ان لى طلاع الارض ذهبا لا فتديت به من عذاب الله قبل ان أراہ
(صحيح بخارى جلد 1،صفحہ 521)
(طبقات جلد3،صفحہ 270)
حضرت عمرؓ سے اس وقت کسی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کے ہاتھوں بہت سے شہر فتح کروائے ہیں بےشمار علاقے مسلمانوں کو ملے آپؓ کی نیکیاں کس قدر زیادہ ہیں تو آپؓ نے جواب میں فرمایا میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے ہاں ایسے ہی چھوٹ جاؤں اجر ملے نا ملے تو بڑے نفع کا سودا سمجھوں گا لوددت انى أنجو منه لا أجر ولا وزر
(طبقات جلد3،صفحہ267)
شارح مشکٰوۃ نواب قطب الدین محدث دہلوی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں کہ
آپؓ نے یہ بات غلبۂ خوف کے سبب کہی کہ واقع ہوا ان کو اس وقت بخوف کمی کرنے کے اللہ کے حقوق میں
(مظاهر حق جلد5،صفحہ107 )
یعنی اللہ پاک کا جتنا حق ادا کرنا چاہیے تھا آپؓ سمجھتے تھے کہ وہ اس طرح ادا نہ ہو سکا اور اس میں آپؓ سے کمی کوتاہی رہ گئی آپؓ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت حفصہؓ جب آپؓ کے پاس آئیں تو باپ کو دیکھ کر تڑپ اٹھیں اور اپنے جذبات پہ قابو رکھتے ہوئے اپنے بابا جان سے کہا
ابا جان آپؓ کو آپؓ کے رب کے پاس جانے کا رنج نہیں اور نہ ہی کوئی آپؓ کا فضائل میں ہمسر ہے اور میرے پاس آپؓ کے لیے بشارت موجود ہے اور آپؓ کا بہترین شفاعت کنندہ آپؓ کا عدل و انصاف ہے آپؓ کی سخت زندگی اور خواھشات سے عاری ہونے پر مشرکین اور مفسدين کو پکڑنے اور روکنے کے عمل کو آپؓ اللّٰه کے ہاں ہلکا نہ جانیں
(سیر اعلام النبلاء جلد 2،صفحہ 275)
پھر آپؓ نے اپنے بیٹے سیدنا عبداللهؓ سے جن کی گود میں آپؓ کا سر مبارک تھا فرمایا کہ بیٹا میرے سر کو زمین پر رکھ دو انھوں نے کہا ابا جان آپ کا سر زمین پر رکھنا میرے لیے بہت تکلیف دہ ہو گا آپ نے پھر فرمایا کہ بیٹا زمین پر رکھ دے چنانچہ انھوں نے آپؓ کا سر زمین پر رکھ دیا
(دیکھیے الموافقہ صفحہ 68)
آپؓ نے فرمایا کہ شاید اللّٰه کو میری اس حالت پہ رحم آجائے اگر اللّٰه مجھ پر رحم نہ کرے تو سوائے بربادی کے اور کیا ہاتھ آسکتا ہے
( اسد الغابہ جلد 4،صفحہ 165)
سیدنا عمرؓ کی زندگی حضرت علیؓ کو کس قدر عزیز تھی،اسے دیکھئے امام محمد الباقؒر فرماتے ہیں کہ
سیدنا عمرؓ نے جب صحابہ کرامؓ کو بُلا بھیجا کہ بتاؤ جو میرے ساتھ پیش آیا کیا تم اس واقعہ پہ راضی ہو؟
یا یہ سب تمہاری مرضی سے ہوا ہے سب نے اسکا انکار کیا اور سب پہ گریہ طاری ہو گیا
سیدنا علی المرتضیؓ بھی وہاں موجود تھے آپؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ہرگز نہیں ہم تو پسند کرتے ہیں کہ ہماری زندگی بھی حضرت عمؓر کو دے دی جائے اور ہماری عمر بھی آپؓ کو لگ جائے اور آپؓ کی زندگی لمبی ہو۔
فقال علی بن ابی طالب وددنا ان ازدنا فی عمر من أعمارنا
(حلیۃ الاولیاء جلد 3 صفحہ 199
( المصنف لعبد الرزاق جلد 6 صفحہ، 52)
تابعی جلیل حضرت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت کعبؓ کو جب اس حادثہ کی اطلاع ملی تو آپؓ وہاں آئے اور سب کے سامنے کہا کہ اگر حضرت عمؓر دعا کریں
(اور ایک روایت میں ہے کہ اگر وہ اللّٰه پہ قسم کھا لیں )
تو اللّٰه پاک ان کی موت کو مؤخر کر دیں گے ان سے کسی نے کہا کہ کیا قرآن میں یہ نہیں کہ جب وقت مقرر آ جاتا ہے تو نہ تقدیم ہے نہ تاخیر ہے تو حضرت کعبؓ نے کہا کہ اللّٰه پاک نے یہ بھی فرمایا ہے کہ
وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الا فی کتاب ان ذالک علی اللّٰه یسیر
اللّٰه تعالیٰ جسکے حق میں چاھے کم زیادہ کر لیتا ہے اور یہ اللّٰه کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے
حضرت کعبؓ نے فرمایا
لئن سأل عمر ربہ لیبقینہ اللّٰه فاخبر بذالک عمر فقال اللھم اقبضنی غیر عاجز ولا ملوم (طبقات ابن سعد،)
(کنز العمال جلد12،صفحہ 686)
حضرت عبداللّٰه بن عباسؓ نے یہ بات سنی تو آپؓ نے حضرت عمر فاروقؓ سے کہا کہ حضرت کعبؓ آپؓ کے بارے میں اس طرح کہہ رہے ہیں تو آپؓ نے فرمایا کہ
اذا والله لا اسئله اب تو والله میں خدا سے سوال نہیں کروں گا
(ازالۃ الخفاءجلد2، صفحہ77)
حضرت کعبؓ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سچ پروردگار کی جانب سے ہے آپؓ اس میں شک نا کریں
میں نے آپؓ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ آپؓ شہید ہونگے۔
الحق من ربك فلا تكن من الممترين قد أنبأتك انك شهيد
( تاریخ عمرؓ صفحہ 246)
ابو مطرف نے سیدنا علی المرتضیؓ سے نقل کیا ہے کہ آپؓ سیدنا عمؓر کے پاس پہنچے تو انہوں نے سیدنا عمرؓ کو جنت کی خوشخبری دی اور کہا کہ میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ پختہ عمر کے جنتیوں کے سردار ہونگے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اے علیؓ کیا آپؓ اس بشارت کے گواہ ہیں حضرت علیؓ نے کہا ہاں میں گواہ ہوں آپؓ نے اپنے صاحبزادے حضرت حسنؓ کو بھی کہا کہ تو بھی اس بات کی شہادت دے کہ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ عمرؓ اہل جنت میں سے ہیں ۔
فقال شاهد أنت لى يا على بالجنة قلت نعم وأنت يا حسن فاشهد على أبيك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ان عمر من أهل الجنة
(کنزالعمال جلد2، صفحہ 364)
انہی دنوں ایک نوجوان آپؓ کی عیادت کو آیا اور اس نے کہا اے امیر المؤمنین آپؓ کو مبارک ہو کہ آپؓ نے حضورﷺ کے سارھ ایک طویل وقت گزارا ہے پھر اسلام کے لیئے آپؓ کی بڑی خدمات ہیں آپؓ نے عدل کے ساتھ خلافت کی ہے سیدنا عمرؓ نے اس کے جواب میں فرمایا کی میری تو بس یہی خواہش ہے کہ اللہ ہاں معاملہ برابر سرابر ہو جائے تو بڑی سعادت ہوگی جب وہ نوجوان جانے لگا تو آپؓ نے اسے بلایا اور کہا اے بھتیجے تیرا کپڑا ٹخنوں سے نیچے ہے اسے اوپر کر لے اس میں کپڑے کی حفاظت ہے اور اپنے رب کے حکم کی تابعداری اور خوف بھی ہے۔
فانه أنقى لثوبك وأتقى لربك
(صحیح بخاری جلد 1،صفحہ 524)
(صفوة الصفوۃ جلد1،صفحہ 151)
جب حضرت عمرؓ کو معلوم ہو گیا کہ اب آپؓ کا سفر آخرت بہت قریب ہے تو آپؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبد اللّٰهؓ کو بلا کر کہا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو عمرؓ نے سلام کہا ہے اور یہ نہ کہنا کہ امیر المؤمنین نے سلام کہا ہے پھر میری طرف سے درخواست پیش کرنا کہ اگر آپؓ کو کوئی تکلیف یا تنگی نہ ہو تو عمرؓ کی خواہش ہے کہ اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہو سو آپؓ اپنے حجرۂ مقدسہ میں عمرؓ کو دفن ہونے کی اجازت دیں اور اگر آپ کو کوئی تکلیف ہو یا آپؓ کے لیے بوجھ کا باعث ہو تو بخدا مجھے حضورﷺَ کے صحابؓہ اور آپکی ازواجؓ کے ساتھ بقیع میں دفن کر دینا کہ یہ سب کے سب عمؓر سے اچھے ہیں چنانچہ آپؓ حضرت عائشہؓ کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں انھوں نے حضرت عمؓر کا سلام اور پیغام پہنچایا تو:
ام المؤمنینؓ نے فرمایا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لیے محفوظ کی تھی مگر آج میں عمرؓ کو خود پہ ترجیح دوں گی۔
(کنت ارید لنفسی ولاوثرنہ الیوم) اس پہ نہ تو مجھے کوئی تکلیف ہے نہ کوئی بوجھ یا تنگی کی بات ہے
حضرت عبداللّٰهؓ نے جب یہ بات اپنے والد کو بتائی اور کہا کہ آپؓ کو اجازت مل گئی تو حضرت عمرؓ رو پڑے اور فرمایا کہ میری سب سے بڑی تمنا یہی تھی اب مجھے اپنے ان دونوں بڑوں کے ساتھ دفنا دینا
(فادفنونی معھما)
(مستدرک حاکم جلد3، صفحہ 99)
آپؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللهؓ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ بیٹا ایمان کی خصلتوں کو لازم پکڑنا انھوں نے پوچھا وہ کیا ہیں تو فرمایا
الصوم فی شدت الایام الصیف وقتل فی الاعداء بالسیف والصبر علی المعصیۃ و اسباغ الوضوء فی الیوم الشتاء وتعجیل الصلٰوۃ فی یوم الغیم وترک ردغۃ الخبال وھی شرب الخمر
(الطبقات جلد 3،صفحہ273)
سخت گرمی کے دنوں میں روزہ رکھنا دشمنوں سے جہاد کرنا گناہوں سے رکے رہنا ٹھنڈ کے دنوں میں اچھی طرح وضو کرنا اندھیرے میں جلدی نماز پڑھنا اور شراب سے بچے رہنا
سیدنا عمؓر نے دوسرے سب حضرات کو وصیت کرتے ہوئے کہا کہ تم سب لوگ اللّٰه کی کتاب کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور اگر تم اس پہ چلو گے تو کبھی راہ راست سے نہیں ہٹو گے۔
پھر آپؓ نے فرمایا کہ میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ اس وقت لوگ تو بڑی تعداد میں موجود ہیں مگر یہ لوگ اب خال خال رہ گئے ہیں اور میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ یہ لوگ اسلام کی پناہ گاہ ہیں جسکی طرف لوگ پناہ لیتے رہے ہیں
اور تمھیں دیہات میں رہنے والوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ اصل عرب ہیں اور میں تمہیں ذمیوں کے حقوق اور انکا خیال رکھنے کی تاکید کرتا ہوں
(کنز العمال جلد12، صفحہ 678)
پھر آپؓ سے لوگوں نے گزارش کی کہ اپنا جانشین مقرر فرمائیں تو آپؓ نے فرمایا کہ خلافت کے لیے وہ چھ آدمی زیادہ مستحق ہیں جن سے حضورﷺَ خوش رہے آپؓ نے چھ حضرات کے نام پیش کیے.
حضرت عثمان بن عفانؓ
حضرت علیؓ بن ابی طالب
حضرت طلحہؓ
حضرت زبیر بن عوامؓ
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ
حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ
حضرت عمرؓ کے ذہن میں دو نام ایسے تھے جنہیں آپؓ جانشین بنانا چاہتے تھے
آپؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اگر میری موت کا وقت قریب آ جائے تو ابو عبیدہ بن الجراحؓ زندہ ہوں تو میں
انہیں خلیفہ بنادوں گا اور اس انتخاب اگر اللہ پاک دریافت فرمائیں گے تو میں کہوں گا میں نے حضورﷺ سے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک امین ہوتا ہے اور ابو عبیدہؓ اس امت کے امین ہیں
ان لكل امة امينا وان امیننا ايتها الامة ابو عبيدۃ بن الجراح
(صحيح بخارى جلد 1،صفحہ530)
اور اگر میری زندگی میں حضرت ابو عبیدہؓ فوت ہوجائیں اور میری موت کا وقت قریب ہو تو میں معاذ بن جبلؓ کو اپنا خلیفہ بنالوں گا اور ان کے بارے میں اگر اللہ پوچھیں گے تو میں کہو گا کہ میں نے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب علماء اللہ کے دربار میں حاضر ہونگے تو معاذؓ ان سے بہت آگے ہونگے۔
(تذكرة الحفاظ جلد1،صفحہ40)
(مسند احمد جلد1،صفحہ32)
سیدنا عمؓر کا خیال حضرت سالم مولی ابی حذیفؓہ کے بارے بھی یہی تھا اور آپؓ فرماتے تھے کہ اگر میں ان کو خلیفہ بنا لوں اور کل میرا پروردگار مجھ سے اس بارے میں پوچھے گا تو میں کہوں گا کہ میں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سالم اللہ سے دل کی گہرائی اور سچائی سے محبت کرتا ہے۔
سمعت نبيك وهو يقول انه يحب الله حقا من قلبه
(كنزالعمال جلد12،صفحہ 675)
حضرت عمر فاروقؓ اپنی اس لیے تمنا کو عملی جامہ نا پہنا سکے کہ سیدنا ابو عبیدہؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ کا آپؓ کی حیات میں انتقال ہوچکا تھا حضرت ابو عبیدہ 18ہجری میں اور حضرت معاذ بن جبلؓ نے بھی اسی سال یعنی 18 ہجری میں وفات پائی تھی۔
سیدنا عمرؓ کی اس تمنا اور ارادہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ خلافت اور امارت کے لیئے امانت اور محبت الٰہی ایک بنیاد کی طرح ہیں ان سب کے بغیر خلافت کا نظام درست نہیں رہتا اس سے آپ یہ بھی اندازہ کر سکتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ امانت و علم اور محبت الٰہی کے کس اونچے مقام پر کھڑے ہونگے۔
سیدنا عمر فاروقؓ نے اسی وصیت میں یہ بھی فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے خلافت کے کاموں میں مشورہ لینے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن خلافت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہو گا اس کو والی اور حاکم نہ بنایا جائے
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ کے وصال کا وقت قریب آگیا تو آپ نے مجھے بلایا اور اپنے سر کے قریب بٹھا کر مجھے کہا کہ جب میں موت سے ہمکنار ہو جاؤں تو تم مجھے ان ہاتھوں سے غسل دینا جن ہاتھوں سے تم نے رسولﷺ کو غسل دیا تھا پھر کفن پہنانا پھر حجرۂ اطہر میں لے جانا
(الموافقہ صفحہ 72)
انتقال سے تھوڑا عرصہ پہلے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ میرے کفن میں بےجا صرف نہ کرنا اگر میں اللہ کے ہاں بہتر ہوں تو مجھے از خود بہتر لباس مل جائے گا اور اگر بہتر نہیں ہوں تو بہتر کفن بے فائدہ ہے۔
سیدہ عائشہؓ کی جانب سے جب آپ کو حجرۂ مقدسہ میں تدفین کی اجازت ملی تو آپؓ نے ایک عصا لانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس سے میری پیمائش کرلو کیونکہ آپؓ طویل القامت تھے پھر فرمایا کہ حضرت عائشہؓ کا حجرہ مبارکہ چھوٹا ہے اس لئے میں نے ایسا کیا ہے جاؤ اب اس پیمائش کے مطابق قبر کھودنا
(کنز العمال جلد 12 صفحہ 689)
آپؓ یہ دعا پڑھا کرتے تھے
اللهم توفنى مع الابرار ولا تخلفنى فى الاشرار وقنى عذاب النار والحقني بالاخیار
(طبقات جلد3، صفحہ 252)
سیدنا عمر فاروقؓ نے تین دن زخم کی تکلیف میں گزارے تاہم اس دوران بھی آپؓ مسلمانوں کو ان کی دینی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے رہے اور اپنے ماتحت حضرات کو انتظامی ہدایات دیتے رہے یکم محرم 24ھ جب نئے اسلامی سال کا آغاز ہو رہا تھا آپؓ کا آخری وقت آپہنچا اور اللہ کا نام لیتے لیتے آپؓ اللہ کے ہاں پہنچ گئے انا لله وانا اليه راجعون
اس وقت آپؓ کی عمر مبارک 63 سال تھی
مروی ہے کہ جب ملک الموت آپؓ کے پاس آیا تو اس نے فرشتوں سے کہا دیکھو یہ امیرالمؤمنین کا گھر ہے اس میں کچھ بھی نہیں ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے قبر ہے حضرت عمرؓ نے جب اس کی یہ بات سنی تو کہا کہ اے ملک الموت آپ جس کے پیچھے ہوں اس کا گھر ایسا ہی ہونا چاہئیے۔
هذا بيت أمير المؤمنين مافيه شیئ كانه القبر فقال الموت من تكون أنت خلفه هكذا يكون بيته
(رياض جلد 1، صفحہ 418)
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا انتقال 63 سال کی عمر میں ہوا، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ نے بھی اسی عمر میں وفات پائی
(شعب الایمان جلد2،صفحہ161)
حضرت امیر معاویہؓ جب 63 سال کے ہوئے تو فرمایا حضورﷺ،حضرت ابو بکرؓاور حضرت عمرؓ سب نے 63 سال میں دنیا چھوڑ دی تھی۔
مات رسول الله ﷺ وهو ابن ثلاث وستين ومات ابوبكرؓ وهو ابن ثلاث وستين ومات عمؓر وهو ابن ثلاث وستين وانا اليوم ابن ثلاث وستين
( مسند الامام الطحاوی جلد6,صفحہ 315)
حضرت شعبیؒ کہتے ہیں وان عمر قبض وهو ابن ثلاث وستين
(صفوۃ جلد1،صفحہ 152)
حضرت عبدالرحمن بن بسیارؓ نقل کرتے ہیں کہ جس دن حضرت عمر فاروقؓ نے وفات پائی اس دن سورج گرہن تھا (جمع الفوائد جلد4، صفحہ 509)
حضرت حسن بن ابو جعفر کہتے ہیں کہ اس دن ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے ہر طرف اندھیرا چھا گیا ہے اس منظر کو دیکھ کر ایک بچے نے اپنی ماں سے پوچھا کہ امی جان کیا قیامت واقع ہو گئی ماں نے کہا نہیں بیٹا بلکہ سیدنا عمر فاروقؓ نے رحلت فرمالی ہے
(ریاض جلد1،ص 419)۔
آپؓ کے احباب و اصحاب نے حسبِ وصیت آپؓ کو غسل دیا اور کفن پہنا کر جب چٹائی پر رکھ دیا تو کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اشکبار نہ ہو اور کوئی دل ایسا نہ تھا جو غمزدہ نہ ہوا ہو۔