واقعہ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمررضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت |…

واقعہ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمررضی اللہ عنہ

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 5

حضرت عمرؓ سے اس وقت کسی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کے ہاتھوں بہت سے شہر فتح کروائے ہیں بےشمار علاقے مسلمانوں کو ملے آپؓ کی نیکیاں کس قدر زیادہ ہیں تو آپؓ نے جواب میں فرمایا میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے ہاں ایسے ہی چھوٹ جاؤں اجر ملے نا ملے تو بڑے نفع کا سودا سمجھوں گا لوددت انى أنجو منه لا أجر ولا وزر
(طبقات: جلد 3 صفحہ267) 
شارح مشکٰوۃ نواب قطب الدین محدث دہلوی رحمۃاللہ لکھتے ہیں کہ 
آپؓ نے یہ بات غلبۂ خوف کے سبب کہی کہ واقع ہوا ان کو اس وقت بخوف کمی کرنے کے اللہ کے حقوق میں 
(مظاهر حق: جلد 5 صفحہ107)
یعنی اللہ پاک کا جتنا حق ادا کرنا چاہیے تھا آپؓ سمجھتے تھے کہ وہ اس طرح ادا نہ ہو سکا اور اس میں آپؓ سے کمی کوتاہی رہ گئی آپؓ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت حفصہؓ جب آپؓ کے پاس آئیں تو باپ کو دیکھ کر تڑپ اٹھیں اور اپنے جذبات پہ قابو رکھتے ہوئے اپنے بابا جان سے کہا
ابا جان آپؓ کو آپؓ کے رب کے پاس جانے کا رنج نہیں اور نہ ہی کوئی آپؓ کا فضائل میں ہمسر ہے اور میرے پاس آپؓ کے لیے بشارت موجود ہے اور آپؓ کا بہترین شفاعت کنندہ آپؓ کا عدل و انصاف ہے آپؓ کی سخت زندگی اور خواہشات سے عاری ہونے پر مشرکین اور مفسدين کو پکڑنے اور روکنے کے عمل کو آپؓ الله کے ہاں ہلکا نہ جانیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 275)
پھر آپؓ نے اپنے بیٹے سیدنا عبداللهؓ سے جن کی گود میں آپؓ کا سر مبارک تھا فرمایا کہ بیٹا میرے سر کو زمین پر رکھ دو انھوں نے کہا ابا جان آپ کا سر زمین پر رکھنا میرے لیے بہت تکلیف دہ ہو گا آپ نے پھر فرمایا کہ بیٹا زمین پر رکھ دے چنانچہ انھوں نے آپؓ کا سر زمین پر رکھ دیا۔
(دیکھیے الموافقہ: صفحہ 68)
آپؓ نے فرمایا کہ شاید الله کو میری اس حالت پہ رحم  آجائے اگر الله مجھ پر رحم نہ کرے تو سوائے بربادی کے اور کیا ہاتھ آسکتا ہے۔
( اسد الغابہ: جلد 4 صفحہ 165)
سیدنا عمرؓ کی زندگی حضرت علیؓ کو کس قدر عزیز تھی، اسے دیکھیے امام محمد الباقؒر فرماتے ہیں کہ

سیدنا عمرؓ نے جب صحابہ کرامؓ کو بُلا بھیجا کہ بتاؤ جو میرے ساتھ پیش آیا کیا تم اس واقعہ پہ راضی ہو؟

 یا یہ سب تمہاری مرضی سے ہوا ہے سب نے اسکا انکار کیا اور سب پہ گریہ طاری ہو گیا
سیدنا علی المرتضیؓ بھی وہاں موجود تھے آپؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ہرگز نہیں ہم تو پسند کرتے ہیں کہ ہماری زندگی بھی حضرت عمؓر کو دے دی جائے اور ہماری عمر بھی آپؓ کو لگ جائے اور آپؓ کی زندگی لمبی ہو۔
فقال علی بن ابی طالب وددنا ان ازدنا فی عمر من أعمارنا
(حلیۃ الاولیاء: جلد 3 صفحہ 199)
( المصنف لعبد الرزاق: جلد 6 صفحہ 52)
تابعی جلیل حضرت سعید بن مسیّب رحمۃاللہ کہتے ہیں کہ حضرت کعبؓ کو جب اس حادثہ کی اطلاع ملی تو آپؓ وہاں آئے اور سب کے سامنے کہا کہ اگر حضرت عمؓر دعا کریں
(اور ایک روایت میں ہے کہ اگر وہ الله پہ قسم کھا لیں )
تو الله پاک ان کی موت کو مؤخر کر دیں گے ان سے کسی نے کہا کہ کیا قرآن میں یہ نہیں کہ جب وقت مقرر آ جاتا ہے تو نہ تقدیم ہے نہ تاخیر ہے تو حضرت کعبؓ نے کہا  کہ الله پاک نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الا فی کتاب ان ذالک علی اللّٰه یسیر

الله تعالیٰ جسکے حق میں چاھے کم زیادہ کر لیتا ہے اور یہ الله کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے

حضرت کعبؓ نے فرمایا

 لئن سأل عمر ربہ لیبقینہ اللّٰه فاخبر بذالک عمر فقال اللھم اقبضنی غیر عاجز ولا ملوم (طبقات ابن سعد،)

(کنز العمال: جلد 12 صفحہ 686)

حضرت عبدالله بن عباسؓ نے یہ بات سنی تو آپؓ نے حضرت عمر فاروقؓ سے کہا کہ حضرت کعبؓ آپؓ کے بارے میں اس طرح کہہ رہے ہیں تو آپؓ نے فرمایا کہ

اذا والله لا اسئله اب تو والله میں خدا سے سوال نہیں کروں گا
(ازالۃ الخفاء: جلد 2 صفحہ77)
حضرت کعبؓ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سچ پروردگار کی جانب سے ہے آپؓ اس میں شک نا کریں 
 میں نے آپؓ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ آپؓ شہید ہونگے۔ 

الحق من ربك فلا تكن من الممترين قد أنبأتك انك شهيد

( تاریخ عمرؓ: صفحہ 246)

ابو مطرف نے سیدنا علی المرتضیٰؓ سے نقل کیا ہے کہ آپؓ سیدنا عمؓر کے پاس پہنچے تو انہوں نے سیدنا عمرؓ کو جنت کی خوشخبری دی اور کہا کہ میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ پختہ عمر کے جنتیوں کے سردار ہونگے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اے علیؓ! کیا آپؓ اس بشارت کے گواہ ہیں حضرت علیؓ نے کہا ہاں! میں گواہ ہوں آپؓ نے اپنے صاحبزادے حضرت حسنؓ کو بھی کہا کہ تو بھی اس بات کی شہادت دے کہ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ عمرؓ اہل جنت میں سے ہیں۔

فقال شاهد أنت لى يا على بالجنة قلت نعم وأنت يا حسن فاشهد على أبيك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ان عمر من أهل الجنة

(کنزالعمال: جلد 2 صفحہ 364)

انہی دنوں ایک نوجوان آپؓ کی عیادت کو آیا اور اس نے کہا اے امیر المؤمنین آپؓ کو مبارک ہو کہ آپؓ نے حضورﷺ کے سارھ ایک طویل وقت گزارا ہے پھر اسلام کے لئے آپؓ کی بڑی خدمات ہیں آپؓ نے عدل کے ساتھ خلافت کی ہے سیدنا عمرؓ نے اس کے جواب میں فرمایا کی میری تو بس یہی خواہش ہے کہ اللہ ہاں معاملہ برابر سرابر ہو جائے تو بڑی سعادت ہوگی جب وہ نوجوان جانے لگا تو آپؓ نے اسے بلایا اور کہا اے بھتیجے تیرا کپڑا ٹخنوں سے نیچے ہے اسے اوپر کر لے اس میں کپڑے کی حفاظت ہے اور اپنے رب کے حکم کی تابعداری اور خوف بھی ہے۔

فانه أنقى لثوبك وأتقى لربك
(صحیح بخاری: جلد 1 صفحہ 524)
(صفوة الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 151)

صفحہ 3 از 5