واقعہ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمررضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت |…

واقعہ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمررضی اللہ عنہ

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 4 از 5

جب حضرت عمرؓ کو معلوم ہو گیا کہ اب آپؓ کا سفر آخرت بہت قریب ہے تو آپؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبد اللهؓ کو بلا کر کہا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو عمرؓ نے سلام کہا ہے اور یہ نہ کہنا کہ امیر المؤمنین نے سلام کہا ہے پھر میری طرف سے درخواست پیش کرنا کہ اگر آپؓ کو کوئی تکلیف یا تنگی نہ ہو تو عمرؓ کی خواہش ہے کہ اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہو سو آپؓ اپنے حجرۂ مقدسہ میں عمرؓ کو دفن ہونے کی اجازت دیں اور اگر آپ کو کوئی تکلیف ہو یا آپؓ کے لیے بوجھ کا باعث ہو تو بخدا مجھے حضورﷺَ  کے صحابہؓ اور آپکی ازواجؓ کے ساتھ بقیع میں دفن کر دینا کہ یہ سب کے سب عمرؓ سے اچھے ہیں چنانچہ آپؓ حضرت عائشہؓ کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں انھوں نے حضرت عمرؓ کا سلام اور پیغام پہنچایا تو:

 ام المؤمنینؓ نے فرمایا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لیے محفوظ کی تھی مگر آج میں عمرؓ کو خود پہ ترجیح دوں گی۔
(کنت ارید لنفسی ولاوثرنہ الیوم) اس پہ نہ تو مجھے کوئی تکلیف ہے نہ کوئی بوجھ یا تنگی کی بات ہے

حضرت عبداللهؓ نے جب یہ بات اپنے والد کو بتائی اور کہا کہ آپؓ کو اجازت مل گئی تو حضرت عمرؓ رو پڑے اور فرمایا کہ میری سب سے بڑی تمنا یہی تھی اب مجھے اپنے ان دونوں بڑوں کے ساتھ دفنا دینا

(فادفنونی معھما)

(مستدرک حاکم: جلد 3، صفحہ 99)

آپؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللهؓ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ بیٹا ایمان کی خصلتوں کو لازم پکڑنا انھوں نے پوچھا وہ کیا ہیں تو فرمایا

الصوم فی شدت الایام الصیف وقتل فی الاعداء بالسیف والصبر علی المعصیۃ و اسباغ الوضوء فی الیوم الشتاء وتعجیل الصلٰوۃ فی یوم الغیم وترک ردغۃ الخبال وھی شرب الخمر

 (الطبقات: جلد 3 صفحہ 273)

سخت گرمی کے دنوں میں روزہ رکھنا دشمنوں سے جہاد کرنا گناہوں سے رکے رہنا ٹھنڈ کے دنوں میں اچھی طرح وضو کرنا  اندھیرے میں جلدی نماز پڑھنا اور شراب سے بچے رہنا
سیدنا عمؓر نے دوسرے سب حضرات کو وصیت کرتے ہوئے کہا کہ تم سب لوگ الله کی کتاب کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور اگر تم اس پہ چلو گے تو کبھی راہ راست سے نہیں ہٹو گے۔
پھر آپؓ نے فرمایا کہ میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ اس وقت لوگ تو بڑی تعداد میں موجود ہیں مگر یہ لوگ اب خال خال رہ گئے ہیں اور میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ یہ لوگ اسلام کی پناہ گاہ ہیں جسکی طرف لوگ پناہ لیتے رہے ہیں۔
اور تمھیں دیہات میں رہنے والوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ اصل عرب ہیں اور میں تمہیں ذمیوں کے حقوق اور انکا خیال رکھنے کی تاکید کرتا ہوں۔
(کنز العمال: جلد 12 صفحہ 678)
پھر آپؓ سے لوگوں نے گزارش کی کہ اپنا جانشین مقرر فرمائیں تو آپؓ نے فرمایا کہ خلافت کے لیے وہ چھ آدمی زیادہ مستحق ہیں جن سے حضورﷺَ خوش رہے آپؓ نے چھ حضرات کے نام پیش کیے۔
حضرت عثمان بن عفانؓ
حضرت علیؓ بن ابی طالب
حضرت طلحہؓ
حضرت زبیر بن عوامؓ
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ
حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ
حضرت عمرؓ کے ذہن میں دو نام ایسے تھے جنہیں آپؓ جانشین بنانا چاہتے تھے
آپؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اگر میری موت کا وقت قریب آ جائے تو ابو عبیدہ بن الجراحؓ زندہ ہوں تو میں انہیں خلیفہ بنا دوں گا اور اس انتخاب اگر اللہ پاک دریافت فرمائیں گے تو میں کہوں گا میں نے حضورﷺ  سے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک امین ہوتا ہے اور ابو عبیدہؓ اس امت کے امین ہیں 

ان لكل امة امينا وان امیننا ايتها الامة ابو عبيدۃ بن الجراح

(صحيح بخارى: جلد 1 صفحہ 530) 

اور اگر میری زندگی میں حضرت ابو عبیدہؓ فوت ہو جائیں اور میری موت کا وقت قریب ہو تو میں معاذ بن جبلؓ کو اپنا خلیفہ بنالوں گا اور ان کے بارے میں اگر اللہ پوچھیں گے تو میں کہو گا کہ میں نے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب علماء اللہ کے دربار میں حاضر ہونگے تو معاذؓ ان سے بہت آگے ہونگے۔ 

 (تذكرة الحفاظ: جلد 1 صفحہ 40)
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 32)
سیدنا عمرؓ کا خیال حضرت سالم مولی ابی حذیفؓہ کے بارے بھی یہی تھا اور آپؓ فرماتے تھے کہ اگر میں ان کو خلیفہ بنا لوں اور کل میرا پروردگار مجھ سے اس بارے میں پوچھے گا تو میں کہوں گا کہ میں نے نبی کریمﷺ  کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سالم اللہ سے دل کی گہرائی اور سچائی سے محبت کرتا ہے۔ 

سمعت نبيك وهو يقول انه يحب الله حقا من قلبه

(كنزالعمال: جلد 12 صفحہ 675)
حضرت عمر فاروقؓ اپنی اس لیے تمنا کو عملی جامہ نا پہنا سکے کہ سیدنا ابو عبیدہؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ کا آپؓ کی حیات میں انتقال ہوچکا تھا حضرت ابو عبیدہ 18ہجری میں اور حضرت معاذ بن جبلؓ نے بھی اسی سال یعنی 18 ہجری میں وفات پائی تھی۔
سیدنا عمرؓ کی اس تمنا اور ارادہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ خلافت اور امارت کے لئے امانت اور محبت الہٰی ایک بنیاد کی طرح ہیں ان سب کے بغیر خلافت کا نظام درست نہیں رہتا اس سے آپ یہ بھی اندازہ کر سکتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ امانت و علم اور محبت الہٰی کے کس اونچے مقام پر کھڑے ہونگے۔

سیدنا عمر فاروقؓ نے اسی وصیت میں یہ بھی فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے خلافت کے کاموں میں مشورہ  لینے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن خلافت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہو گا اس کو والی اور حاکم نہ بنایا جائے۔
 حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ کے وصال کا وقت قریب آگیا تو آپ نے مجھے بلایا اور اپنے سر کے قریب بٹھا کر مجھے کہا کہ جب میں موت سے ہمکنار ہو جاؤں تو تم مجھے ان ہاتھوں سے غسل دینا جن ہاتھوں سے تم نے رسولﷺ کو غسل دیا تھا پھر کفن پہنانا پھر حجرۂ اطہر میں لے جانا۔

(الموافقہ: صفحہ 72)
 انتقال سے تھوڑا عرصہ پہلے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ میرے کفن میں بےجا صرف نہ کرنا اگر میں اللہ کے ہاں بہتر ہوں تو مجھے از خود بہتر لباس مل جائے گا اور اگر بہتر نہیں ہوں تو بہتر کفن بے فائدہ ہے۔

صفحہ 4 از 5