واقعہ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمررضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت |…

واقعہ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمررضی اللہ عنہ

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 5 از 5

سیدہ عائشہؓ کی جانب سے جب آپ کو حجرۂ مقدسہ میں تدفین کی اجازت ملی تو آپؓ نے ایک عصا لانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس سے میری پیمائش کر لو  کیونکہ آپؓ طویل القامت تھے پھر فرمایا کہ حضرت عائشہؓ کا حجرہ مبارکہ چھوٹا ہے اس لئے میں نے ایسا کیا ہے جاؤ اب اس پیمائش کے مطابق قبر کھودنا۔
(کنز العمال: جلد 12 صفحہ 689)

آپؓ یہ دعا پڑھا کرتے تھے

 اللهم توفنى مع الابرار ولا تخلفنى فى الاشرار وقنى عذاب النار والحقني بالاخیار

(طبقات جلد 3، صفحہ 252) 

 سیدنا عمر فاروقؓ نے تین دن زخم کی تکلیف میں گزارے تاہم اس دوران بھی آپؓ مسلمانوں کو ان کی دینی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے رہے اور اپنے ماتحت حضرات کو انتظامی ہدایات دیتے رہے یکم محرم 24ھ جب نئے اسلامی سال کا آغاز ہو رہا تھا آپؓ کا آخری وقت آپہنچا اور اللہ کا نام لیتے لیتے آپؓ اللہ کے ہاں پہنچ گئے انا لله وانا اليه راجعون 
      اس وقت آپؓ کی عمر مبارک 63 سال تھی 
 مروی ہے کہ جب ملک الموت آپؓ کے پاس آیا تو اس نے فرشتوں سے کہا دیکھو یہ امیرالمؤمنین کا گھر ہے اس میں کچھ بھی نہیں ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے قبر ہے حضرت عمرؓ نے جب اس کی یہ بات سنی تو کہا کہ اے ملک الموت آپ جس کے پیچھے ہوں اس کا گھر ایسا ہی ہونا چاہیے۔

 هذا بيت أمير المؤمنين مافيه شیئ كانه القبر فقال الموت من تكون أنت خلفه هكذا يكون بيته 

(رياض: جلد 1، صفحہ 418) 

حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ کا انتقال 63 سال کی عمر میں ہوا، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ نے بھی اسی عمر میں وفات پائی۔
 (شعب الایمان: جلد 2 صفحہ 161) 
حضرت امیر معاویہؓ جب 63 سال کے ہوئے تو فرمایا حضورﷺ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سب نے 63 سال میں دنیا چھوڑ دی تھی۔
 مات رسول الله ﷺ وهو ابن ثلاث وستين ومات ابوبكرؓ وهو  ابن ثلاث وستين ومات عمؓر وهو ابن ثلاث وستين وانا اليوم ابن ثلاث وستين
( مسند الامام الطحاوی: جلد 6 صفحہ 315)

 حضرت شعبیؒ کہتے ہیں وان عمر قبض وهو ابن ثلاث وستين
(صفوۃ: جلد 1 صفحہ 152) 
حضرت عبدالرحمٰن بن بسیارؓ نقل کرتے ہیں کہ جس دن حضرت عمر فاروقؓ نے وفات پائی اس دن سورج گرہن تھا (جمع الفوائد جلد 4 صفحہ 509) 
حضرت حسن بن ابو جعفر کہتے ہیں کہ اس دن ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے ہر طرف اندھیرا چھا گیا ہے اس منظر کو دیکھ کر ایک بچے نے اپنی ماں سے پوچھا کہ امی جان کیا قیامت واقع ہو گئی ماں نے کہا نہیں بیٹا بلکہ سیدنا عمر فاروقؓ نے رحلت فرمالی ہے۔
(ریاض: جلد 1 صفحہ 419)۔

 آپؓ کے احباب و اصحاب نے حسبِ وصیت آپؓ کو غسل دیا اور کفن پہنا کر جب چٹائی پر رکھ دیا تو کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اشکبار نہ ہو اور کوئی دل ایسا نہ تھا جو غمزدہ نہ ہوا ہو۔

ادارہ دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ


 


صفحہ 5 از 5