سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قرآنی زندگی - دفاعِ اہلِ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قرآنی زندگی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

سیدنا عمرؓ کی قرآنی زندگی 

اللہ، کائنات، زندگی، جنت، جہنم اور قضاء وقدر کے بارے میں آپ رضی اللہ عنہ کا تصور:

سیدنا عمر بن خطابؓ اور تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جس تربیتی نظام میں پرورش ہوئی وہ قرآنی نظام تھا۔ جو اللہ ربّ العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ کسی نظام حیات کو سیکھنے کا وہی ایک مصدر ہے ۔رسولِ اکرمﷺ اس بات کے حریص تھے کہ نظام زندگی کو سیکھنے کا فقط ایک ہی سرچشمہ ہو اور یہ کہ قرآنِ مجید ہی طریقۂ کار اور طرزِ فکر کا ایسا بنیادی محور و مرکز ہو جس پر مسلم فرد، اسلامی خاندان اور جماعت تربیت پا سکیں۔ چنانچہ سیدنا عمر بن خطابؓ نے جن آیات کریمہ کو آپﷺ سے بہ نفس نفیس سنا تھا آپ کی اسلامی شخصیت سازی میں ان کا نمایاں اثر رہا، ان آیات نے آپ کے دل کو پاک و صاف اور روح کا تزکیہ کیا، اور اس طرح آپ اپنے نیک ارادوں، کردار سازی، اعلیٰ مقاصد، پاک جذبات اور اخلاقی قدروں کے ذریعہ سے ایک نئے انسان کی شکل میں نمودار ہوئے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے قرآنِ کریم کے ذریعہ سے پہچان لیا کہ حقیقی معبود کون ہے کہ صرف اسی کی عبادت فرض ہے، معاً نبی کریمﷺ قرآن کی عظیم آیات سے سیدنا عمرؓ کی روح کی آبیاری بھی کرتے رہتے تھے، اور آپﷺ کی ہمیشہ یہ کوشش بھی رہتی کہ آپ کے صحابہ کرامؓ اپنے حقیقی ربّ اور بندوں پر اس کے حقوق کے بارے میں صحیح تصور پر تربیت پائیں، کیونکہ آپﷺ بخوبی واقف تھے کہ جب روحیں صاف شفاف ہو جائیں گی اور فطرت کی درستگی ہو جائے گی تو یہی سچا تصور یقین اور تصدیق کو دل میں جا گزیں کر دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم، قضاء و قدر، انسان کی حقیقت اور شیطان سے اس کی جنگ کے بارے میں آپ کا نظریہ قرآن کریم اور سنت نبویﷺ پر قائم ہو گیا۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہے، اور ان اوصاف کاملہ سے متصف ہے جن کی کوئی انتہا نہیں۔ اس کی ذات یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی کوئی بیوی ہے نہ اولاد۔

 اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور اس کا مالک و مدبر ہے:

إِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ۞

(سورة الاعراف: آیت، 54)

ترجمہ: بے شک تمھارا رب اللہ ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا، رات کو دن پر اوڑھا دیتا ہے، جو تیز چلتا ہوا اس کے پیچھے چلا آتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے (پیدا کیے) اس حال میں کہ اس کے حکم سے تابع کیے ہوئے ہیں، سن لو! پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کا کام ہے، بہت برکت والا ہے اللہ جو سارے جہانوں کا رب ہے۔‘

 اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات میں تمام نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے خواہ وہ چھوٹی ہوں یا بڑی، ظاہر ہوں یا پوشیدہ:

وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ۞

(سورة النحل: آیت، 53)

ترجمہ: ’’اور تمھارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم گڑگڑاتے ہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ زمین اور آسمان کی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ نہ انسان کی ظاہری باتیں یا سربستہ راز اس سے پوشیدہ ہیں۔

 اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے ذریعہ سے انسانوں کے تمام اعمال کو تحریر کروا رہا ہے، ایسی کتاب میں تحریر ہو رہا ہے جو نہ چھوٹے عمل کو چھوڑے گی اور نہ بڑے عمل کو۔ وہ کتاب مناسب موقع اور مناسب وقت پر کھل کر سامنے آئے گی:

مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيد۞

(سورة ق: آیت، 17)

’’وہ کوئی بھی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک تیار نگران ہوتا ہے ۔‘‘

’’(انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر یہ کہ اس کے پاس نگہبان تیار رہتا ہے۔‘‘

 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان چیزوں سے آزماتا ہے جو ان کی مرضی اور پسند کے خلاف ہوتی ہیں تاکہ لوگوں کی حقیقت سامنے آ جائے اور یہ واضح ہو جائے کہ ان میں کون شخص اللہ کی قضا و قدر سے راضی ہے، اور ظاہر و باطن میں اس کے سامنے سرنگوں ہے، تاکہ وہ خلافت، امامت اور سیاست کے لائق ہو جائے۔ اور کون شخص ہے جو اللہ کی قضاء و قدر سے خفا اور ناراض ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور وہ کسی ذمہ داری کا اہل نہیں ہے۔

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ۞

(سورة الملک: آیت، 2)

’’وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہی سب پر غالب، بے حد بخشنے والا ہے۔‘‘

 اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کو توفیق دیتا ہے اور تائید ونصرت عطا کرتا ہے جو اس کی پناہ چاہتا ہے، اس کا سہارا لیتا ہے اور امر و نہی کے بارے میں جو احکامات ہیں ان پر پورا اترتا ہے:

إِنَّ وَلِيِّيَ اللّٰهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ۞

(سورة الاعراف: آیت، 196)

ترجمہ: ’’یقیناً میرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی اور وہ نیک بندوں کی مدد کرتا ہے۔‘‘

 اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اسی کی وحدانیت کا اعتراف و اقرار کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں:

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ۞

(سوة الزمر: آیت، 66)

’’بلکہ تو اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا۔‘‘

 اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس عبودیت و بندگی اور توحید کے مضمون کی مکمل حدبندی کر دی ہے۔

کائنات کے بارے میں آپ کا نظریہ قرآن کی اس آیت سے ماخوذ ہے:

صفحہ 1 از 4