سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قرآنی زندگی - دفاعِ اہلِ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قرآنی زندگی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ۞ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ ۞ ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ ۞ فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ۞

(سورة فصلت: 9 تا 12)

ترجمہ: ’’آپ کہہ دیجیے کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو اور تم اس کے شریک مقرر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین پیدا کر دی، سارے جہانوں کا پروردگار وہی ہے، اور اسی نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیے اور اس میں برکت رکھ دی اور اس میں (رہنے والوں کی) غذا بھی تجویز کر دی۔ (صرف) چار دن میں ضرورت مندوں کے لیے یکساں طور پر۔ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں (سا) تھا، پس اسے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی خوشی آؤ یا نا خوشی سے، دونوں نے عرض کیا کہ ہم بخوشی حاضر ہیں۔ پس دو دن میں سات آسمان بنا دیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب احکام کی وحی بھیج دی، اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی اور نگہبانی کی۔ یہ تدبیر اللہ غالب و دانا کی ہے۔‘‘

یہ زندگی خواہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو بہرحال اس کا انجام زوال ہے، اس کے مال و متاع کتنے ہی زیادہ گراں قدر کیوں نہ ہوں بہرحال وہ حقیر اور کمتر ہیں۔

اللہ کا ارشاد ہے:

إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتَّى إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

 (سوة یونس: آیت، 24)

ترجمہ: ’’دنیا کی زندگی کی مثال تو بس اس پانی کی سی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے ساتھ زمین سے اگنے والی چیزیں خوب مل جل گئیں، جس سے انسان اور چوپائے کھاتے ہیں، یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی آرائش حاصل کر لی اور خوب مزین ہو گئی اور اس کے رہنے والوں نے یقین کر لیا کہ بے شک وہ اس پر قادر ہیں تو رات یا دن کو اس پر ہمارا حکم آ گیا تو ہم نے اسے کٹی ہوئی کر دیا، جیسے وہ کل تھی ہی نہیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کرتے ہیں جو خوب سوچتے ہیں۔‘‘

جنت کے بارے میں آپ کا نظریہ ان آیات پر قائم تھا جو اس کی صفات کو بتاتی ہیں۔ اس طرح آپ کی زندگی کا حال ان پاکیزہ نفوس کی طرح تھا جن کے بارے میں ارشادِ الہٰی ہے:

تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ۞فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۞

(سورة السجدہ: آیت، 16 اور 17)

ترجمہ: ’’ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے، اس عمل کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔ ‘‘

جہنم کے بارے میں بھی آپ کا تصور قرآنی آیات ہی پر قائم تھا، اور یہی تصور آپ کو آپ کی زندگی میں شریعت الہٰیہ سے کسی بھی انحراف سے روکتا تھا۔ چنانچہ سیدنا عمر فاروقؓ کی زندگی کا گہرائی سے مطالعہ کرنے والا شخص یہ بخوبی محسوس کرے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کامیاب ملاقات کے اسباب پر کتنی گہری نظر رکھتے تھے، اور اللہ کے عذاب اور اس کی سزا سے کس قدر خائف رہتے تھے۔ آپ اپنے دورِ خلافت میں ایک رات مدینہ میں پاسبانی کے لیے نکلے، ایک مسلمان آدمی کے گھر سے آپ کا گزر ہوا، آپ نے اسے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہوئے پایا، آپ رک کر اس کی قرأت سننے لگے، وہ پڑھ رہا تھا:

وَالطُّورِ ۞وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ ۞فِي رَقٍّ مَنْشُورٍ ۞ وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ ۞ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ ۞ وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ ۞إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ ۞

(سورة الطور: آیت، 1 تا 8)

ترجمہ: ’’قسم ہے طور کی اور لکھی ہوئی کتاب کی، جو جھلی کے کھلے ہوئے ورق میں ہے، اور آباد گھر کی اور اونچی چھت کی، اور بھڑکائے ہوئے سمندر کی، بے شک آپ کے ربّ کا عذاب ہو کر رہنے والا ہے۔‘‘

آپ نے یہ سن کر کہا: قسم؛ کعبہ کے ربّ کی قسم یہ برحق ہے۔ پھر آپ اپنے گدھے سے اتر گئے، تھوڑی دیر ٹھہرے، پھر اپنے گھر واپس آئے، پھر ایک مہینہ بیمار رہے، لوگ آپ کی عیادت کو آتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ آپ کی بیماری کا سبب کیا ہے۔

آپ نے قضاء و قدر کا مفہوم بھی اللہ کی کتاب اور رسول اللہﷺ کی سنت سے سیکھا، آپ کے دل میں اس کا مفہوم راسخ ہو گیا، اور اس کے درجات کو کتاب الہٰی سے آپ نے بخوبی سمجھ لیا، پس آپ کامل یقین رکھتے تھے کہ اللہ ہی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے:

وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ۞

(سورة یونس: آیت، 61)

صفحہ 2 از 4