سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قرآنی زندگی - دفاعِ اہلِ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قرآنی زندگی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

ترجمہ: ’’اور تو نہ کسی حال میں ہوتا ہے اور نہ اس کی طرف سے (آنے والے) قرآن میں سے کچھ پڑھتا ہے اور نہ تم کوئی عمل کرتے ہو، مگر ہم تم پر شاہد ہوتے ہیں، جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو اور تیرے رب سے کوئی ذرہ برابر (چیز) نہ زمین میں غائب ہوتی ہے اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی مگر ایک واضح کتاب میں موجود ہے۔‘‘

نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس چیز کو لکھ دیا ہے جو ہونے والی ہے:

وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا۞

(سورة فاطر: آیت، 44)

ترجمہ: ’’اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو عاجز کر دے، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ وہ بڑے علم والا بڑی قدرت والا ہے۔‘‘

اور یہ کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے:

ذَلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ

(سورة الانعام: آیت، 102)

ترجمہ: ’’یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا ربّ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، تو تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا کارساز ہے۔‘‘

قضا و قدر کا حقیقی معنی ومفہوم، اور اسی پر پختہ عقیدہ کی وجہ سے آپ کی زندگی میں نفع بخش اور نہایت مفید نتائج ظاہر ہوئے جسے آپ ان شاءاللہ اس کتاب میں جا بجا ملاحظہ فرمائیں گے۔

آپ نے قرآن کے ذریعہ سے اپنے اور دیگر بنی نوع انسان کے وجود کی حقیقت کو جانا اور یہ معرفت حاصل کی کہ انسان کی بس دو ہی بنیادیں ہیں جہاں سے وہ وجود میں آیا: پہلی بنیاد سے مراد مٹی سے اس کی پہلی خلقت ہے، جب کہ اللہ نے اسے سنوارا اور اس میں روح پھونکی۔ اور دوسری بنیاد سے مراد نطفہ سے انسان کا وجود میں آنا ہے۔(الرقۃ والبکاء: عبداللہ بن احمد المقدسی: صفحہ، 166)

ارشادِ ربانی ہے:

الَّذِىۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَىۡءٍ خَلَقَهٗ‌ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ‌۞ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ‌ ۞ثُمَّ سَوّٰٮهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ‌ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡــئِدَةَ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ۞

(سورة السجدة: آیت، 9تا7)

ترجمہ: جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی۔پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے نطفے سے بنائی۔پھر اسے درست کیا اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی اور تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ تم بہت کم شکر کرتے ہو۔ ‘‘

آپ نے پہچان لیا کہ اس انسان کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے وجود بخشا، اسے بہترین صورت اور معتدل قد و قامت سے مکرم و محترم بنایا۔ اسے عقل، گویائی اور اچھے برے کی تمیز کا ملکہ عطا فرمایا، زمین اور آسمان کی چیزوں کو اس کے لیے مسخر کر دیا، اسے اپنی دیگر مخلوقات پر فضیلت و برتری سے نوازا، اس کے لیے اپنے رسولوں کو مبعوث فرما کر اسے سرفراز کیا، اور انسان کی عزت و تکریم کا سب سے اعلیٰ و افضل مظہر اس نے یہ عطا کیا کہ اسے ہی اپنی محبت اور رضا مندی کے لیے منتخب کیا، جو صرف اس نبیﷺ کی اتباع ہی سے میسر آ سکتی ہے، جس نے لوگوں کو دینِ اسلام کی دعوت دی تاکہ سارے انسان دنیا میں پاک اور بہترین زندگی گزار سکیں اور آخرت میں ہمیشگی والی نعمتوں سے مالا مال ہوں:

مَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَـنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً‌ وَلَـنَجۡزِيَـنَّهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ۞

(سورۃ النحل: آیت، 97)

ترجمہ: ’’جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقیناً ہم انہیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘

سیّدنا عمرؓ نے شیطان اور انسان کے درمیان حقیقی معرکہ آرائی کو بھی پہچان لیا، اور جان گئے کہ یہی وہ دشمن ہے جو انسان پر آگے پیچھے دائیں اور بائیں سے حملہ آور ہوتا ہے، اسے گناہ کا وسوسہ دلاتا ہے، خفیہ شہوتوں کو ابھارتا ہے۔ چنانچہ آپ اپنے دشمن ابلیس پر ظفر یابی کے لیے اللہ سے مدد مانگتے رہے اور اپنی زندگی میں اس پر غالب بھی رہے، جیسا کہ آپ کی سیرت سے یہ چیز ظاہر ہے۔ قرآنِ کریم میں آدم علیہ السلام اور شیطان کے درمیان پیش آنے والے واقعہ سے یہ بات بخوبی جانی جا سکتی ہے کہ آدم علیہ السلام ہی سے انسانوں کا آغاز ہے اور اسلام کا حقیقی جوہر یہ ہے کہ اللہ ذات واحد کی مطلقاً عبادت کی جائے، نیز یہ کہ انسان غلطیوں اور گناہوں کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ آدم علیہ السلام کی لغزش سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ مسلمان کا اپنے رب پر بھروسہ کرنا بے حد ضروری ہے، اور یہ کہ مومن کی زندگی میں توبہ و استغفار کی بڑی اہمیت ہے۔ اسے حسد اور تکبر سے بچنا چاہیے۔ نیز یہ کہ صحابہ کرامؓ کے ساتھ اور ان کے بارے میں بہترین انداز میں گفتگو کرنے کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اس لیے کہ اللہ کا فرمان ہے:

وَقُلْ لِّعِبَادِىۡ يَقُوۡلُوا الَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ‌ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا ۞

(سورۃ الاسراء: آیت، 53)

ترجمہ: ’اور میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ بہت ہی اچھی بات منہ سے نکالا کریں، کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے۔ بے شک شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔‘‘

آپ نے اپنے رفقاء اور ساتھیوں کی عبادات کے ذریعہ سے روحانی تربیت ان کی قلبی تطہیر اور ان کو قرآن کی روشنی میں متعین کیے ہوئے اخلاق کریمہ کا عادی بنانے کے لیے نبیﷺ کے طریقۂ تربیت کو اختیار کیا۔

صفحہ 3 از 4