سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قرآنی زندگی - دفاعِ اہلِ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قرآنی زندگی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

اللہ جل شانہ نے عمر بن خطابؓ کو اسلام کے ذریعہ سے عزت عطا فرمائی، وہ اسلام جس نے آپ کے سامنے صاف اور صحیح عقیدہ پیش کیا، پھر اس عقیدہ نے آپ کے پہلے عقیدہ کو پیچھے چھوڑ دیا، اور آپ کے دل سے اسے فنا کے گھاٹ اتار دیا، اس طرح بت پرستی کے ستون منہدم ہو گئے، کسی بت کے لیے قربت کا تصور نہ رہا، اللہ کی بیٹیاں ہونے کا عقیدہ نہ رہا، جنات اور اللہ کے درمیان کوئی رشتہ نہ بچا، کوئی کہانت محفوظ نہ رہی جو معاشرہ کے راستوں کی حد بندی کرتی، اور اسے بدشگونی و فال بازی کے چٹیل میدانوں میں سرگرداں رکھتی۔ اور نہ موت کے بعد عدم محض کا تصور باقی رہا۔ یہ تمام چیزیں ختم ہوگئیں اور اس کی جگہ صرف اللہ واحد پر ایمان لانے کا عقیدہ تھا، جو اس کے ساتھ شرک، اس کے لیے اولاد، کہانت اور دنیوی زندگی کے بعد عدم محض کے تصور سے بالکل پاک و صاف تھا۔ ایسا اس لیے ہوا تاکہ اس آخرت پر ایمان مکمل ہو جائے، جہاں آ کر جزا کے ایک نظام کے تحت انسان کا عمل ختم ہو جاتا ہے۔ جاہلیت کا وہ کھلواڑ ختم ہوا جس میں دنیوی زندگی کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے، اور روز جزاء کے مالک کے سامنے کسی جواب دہی کا کوئی تصور نہ تھا، اس بے مقصد اور غیر معقول عقیدہ کو آخرت کے دن پر ایمان، اور روز جزاء میں جواب دہی کی ذمہ داری نے پیچھے دھکیل دیا۔ اس طرح سیدنا عمرؓ مکمل طور پر دین اسلام میں داخل ہو گئے، اللہ اور اس کے رسولﷺ آپ کے نزدیک تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہو گئے، اور اس کامل تصور سے عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کہ گویا آپ اسے دیکھ رہے ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے قرآنی تعلیمات کے مطابق تربیت پائی، اور اللہ تعالیٰ کے بے کراں فیضان و توفیق کامل کی وجہ سے قرآنی زندگی کے ساتھ اسلامی شریعت و آداب اور تاریخ و حکمت کی باتیں سیکھتے رہے، جس کا آپ کے دل و دماغ اور نفس و روح پر اثر رہا۔ اور اس زندگی کے اثرات و نتائج بھی آپ کے اعضاء و جوارح پر نمایاں رہے۔ درحقیقت توفیق الہٰی کے بعد ان اثرات و کردار کا اہم سبب یہ تھا کہ آپ نے رسول اللہﷺ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا تھا۔


صفحہ 4 از 4