قرآنی آیات جن میں خلافت صدیقی کی طرف اشارہ ہے - دفاعِ اہلِ…

قرآنی آیات جن میں خلافت صدیقی کی طرف اشارہ ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

قرآنی آیات جن میں خلافتِ صدیقی کی طرف اشارہ ہے:

قرآن پاک میں ایسی آیات ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کے بعد آپﷺ کی خلافت کے سب سے زیادہ مستحق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔

ارشاد ربانی ہے

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ۞ صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ۞

(سورۃ الفاتحہ: آیت نمبر، 6/7)

ترجمہ: ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا، ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انہیں ان کے طریقہ پر ہدایت عطا فرمائے اور ان کے راستہ پر چلائے اور وہ اللہ کے انعام یافتہ بندے ہیں اور ان انعام یافتہ بندوں میں اللہ تعالیٰ نے صدیقین کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے

وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا۔

(سورۃ النساء: آیت نمبر، 69)

ترجمہ: اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسولﷺ کی فرمانبرداری کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے جیسے نبی اور صدیق و شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں۔

اور رسولﷺ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ صدیقین میں سے ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آپؓ گروہ صدیقین کے ایک فرد ہی نہیں بلکہ ان میں سب سے آگے ہیں اور یہ بات واضح ہو گئی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کا طریقہ مستقیم ہے۔ لہٰذا کسی عقل مند کو اس میں ادنیٰ شک بھی باقی نہ رہا کہ وہ اس امت میں رسول اللہﷺ کی خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔

(عقیدۃ اہلِ السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ: ناصر حسن الشیخ جلد، 2 صفحہ، 532)

امام رازیؒ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ۞ صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ۞

(سورۃ الفاتحہ: آیت نمبر، 6/7)

ترجمہ: ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا، ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی راہ۔

سیدنا ابوبکرؓ کی امامت پر دلیل ہے کیونکہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ یہاں صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ۔ سے قبل اِھٌدِنَا مقدر ہے۔ یعنی اصل میں اِھٌدِنَا صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ۔ ہمیں منعم علیہ بندوں کا راستہ دکھا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں ان منعم علیہ بندوں کی تفصیل ذکر فرمائی ہے

فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ

ترجمہ: وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جیسے نبی اور صدیق۔

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ صدیقین کے رئیس و قائد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، تو آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم فرمایا ہے کہ ہم اس ہدایت کو طلب کریں جن پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور دیگر صدیقین قائم تھے۔ اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گمراہ ہوتے تو ان کی اقتداء جائز نہ ہوتی۔ لہٰذا ہم نے جو بیان کیا ہے وہ سیدنا ابوبکرؓ کی امامت پر دلیل ہے۔

(تفسیر الرازی: جلد، 1 صفحہ، 260)

علامہ محمد بن امین شنقیطیؒ فرماتے ہیں اس آیت کریمہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ ان لوگوں میں داخل ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سبع مثانی یعنی فاتحہ کے اندر ہمیں حکم فرمایا ہے کہ ہم ان کے راستہ کی ہدایت کے لیے اللہ سے دعا کریں، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ۞ صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ۞

ترجمہ: ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا۔

اور اللہ تعالیٰ نے منعم علیہ لوگوں کو بیان کرتے ہوئے ان میں صدیقین کا ذکر کیا اور رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا کہ سیدنا ابوبکرؓ صدیقین میں سے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ آپؓ ان منعم علیہ لوگوں میں داخل ہیں جن کے راستہ کی ہدایت کے لیے دعا کرنے کا اللہ نے ہمیں حکم فرمایا ہے۔ اب اس بات میں شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ صراط مستقیم پر ہیں اور آپؓ کی امامت حق ہے۔

(اضواء البیان: جلد، 1 صفحہ، 36)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّـهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ۚذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّـهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ  وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

(سورۃ المائدہ: آیت نمبر، 54)

ترجمہ: اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو لائے گا، جو اللہ کی محبوب ہو گی اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہو گی، وہ نرم ہوں گے مسلمانوں پر اور سخت اور تیز ہوں گے کفار پر۔ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا بھی نہ کریں گے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل، جسے چاہے دے، اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور زبردست علم والا ہے۔

صفحہ 1 از 4