قرآنی آیات جن میں خلافت صدیقی کی طرف اشارہ ہے - دفاعِ اہلِ…

قرآنی آیات جن میں خلافت صدیقی کی طرف اشارہ ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

اس آیت کریمہ میں وارد شدہ صفات سب سے پہلے حضرت ابوبکرؓ اور آپؓ کی فوج یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر صادق آتی ہیں، جنہوں نے مرتدین سے قتال کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اکمل ترین صفات کے ذریعہ سے ان کی مدح فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس طرح خلافتِ صدیقی پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے یہ بات تھی کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد ارتداد کی لہر اٹھے گی تو اللہ رب العالمین نے ایسے لوگوں کے لانے کا وعدہ فرمایا اور اس کا وعدہ بر حق ہے جو اس کے محبوب ہوں گے اور وہ خود اللہ تعالیٰ سے محبت کریں گے، مؤمنوں کے معاملات میں نرم اور کفار کے مقابلہ میں سخت ہوں گے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کریں گے اور کسی کی ملامت کا خوف نہیں کھائیں گے۔ تو جب رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد اللہ کے علم میں جو ارتداد تھا وہ رونما ہوا تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی ثابت ہوا۔ سیدنا ابوبکرؓ ان سے قتال کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپؓ کی اطاعت قبول کرنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان لوگوں سے قتال کیا، جن لوگوں نے آپؓ کی نافرمانی کی اور کسی ملامت گر کی ملامت کا خوف ان کو دامن گیر نہ ہوا۔ یہاں تک کہ حق غالب آیا اور باطل مغلوب ہوا۔ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد اللہ کے وعدے کا صادق آنا سارے عالم کے لیے نشانی اور حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے صحیح ہونے پر دلیل ہے۔

(الاعتقاد للبیہقی: صفحہ، 173/174) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا ۖ فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْيَا ۗوَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ۔

(سورۃ التوبہ: آیت نمبر، 40)

ترجمہ: اگر تم ان نبیﷺ کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جب کہ انہیں کافروں نے (دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے، جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں۔ اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند و عزیز اللہ کا کلمہ ہی ہے۔ اللہ غالب ہے، حکمت والا ہے۔

امام قرطبیؒ فرماتے ہیں بعض علماء نے اللہ تعالیٰ کے قول:

ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْہُمَا فِی الْغَارِ

ترجمہ: دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے۔

سے استدلال کیا ہے کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد خلیفہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ کیونکہ خلیفہ ہمیشہ دوسرا ہی ہوتا ہے اور میں نے اپنے استاد ابوالعباس احمد بن عمرؒ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابوبکرؓ ثانی اثنین کہلانے کے مستحق اس لیے ہوئے کہ رسول اللہﷺ کے بعد اسلامی سلطنت کو اسی طرح سنبھالا جس طرح شروع میں رسول اللہﷺ نے سنبھالا تھا۔ وہ اس طرح کہ جب رسول اللہﷺ کی وفات ہو گئی تو عرب مرتد ہو گئے۔ اسلام صرف مدینہ و جواثا میں باقی رہا۔

(جواثا بحرین کی ایک بستی کا نام ہے۔ دیکھیے: معجم البلدان: جلد، 2 صفحہ، 174)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلامی دعوت کو لے کر اٹھے اور اس راستے میں قتال کیا جیسا کہ رسول اللہﷺ نے کیا تھا لہٰذا آپ اس طرح اس بات کے مستحق قرار پائے کہ آپؓ کے حق میں ثانی اثنین کہا جائے۔

(تفسیر القرطبی: جلد، 8 صفحہ، 147/148)

ارشاد الٰہی ہے

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ.

(سورۃ التوبہ: آیت نمبر، 100)

ترجمہ: اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

اس آیت کریمہ رسول اللہﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے سب سے زیادہ امامت کے حق دار ہونے کی اس طرح دلیل ہے کہ ہجرت نفس پر شاق اور طبیعت پر انتہائی گراں ہے۔ لہٰذا جو اس میں آگے بڑھا اور لوگوں سے سبقت لے گیا وہ اس نیکی کے کام میں دوسروں کے لیے قدوہ و نمونہ قرار پایا۔ اس سے رسول اللہﷺ کے دل کو تقویت ملی اور یہ آپﷺ کے نفس سے خوف کے زوال کا سبب بنا۔ اور اسی طرح نصرت و تائید میں آپ کا سبقت کرنا (بھی دلیل ہے) چنانچہ جب رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے تو بلاشبہ جن لوگوں نے آپﷺ کی نصرت و خدمت میں سبقت کی وہ منصب عظیم پر فائز ہوئے۔ جب یہ بات ثابت ہو گئی تو پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہجرت میں سب پر سبقت کرنے والے ہیں کیونکہ آپؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں رہے اور ہر مقام و منزل پر آپﷺ کے ساتھ رہے۔ لہٰذا آپؓ کا منصب اس سلسلہ میں دوسروں کی بہ نسبت اعلیٰ رہا اور یہ بات ثابت ہو گئی تو اس بات کا فیصلہ ہو گیا کہ آپؓ سے اللہ راضی ہوا اور آپؓ اللہ سے راضی ہوئے، اور فضیلت کا یہ سب سے اعلیٰ مقام ہے۔ پس اس ثبوت کے بعد یہ بات واجب ہو گئی کہ رسول اللہﷺ کے بعد آپؓ ہی منصبِ امامت کے حقیقی مستحق ہیں۔ لہٰذا یہ آیت کریمہ سیدنا ابوبکرؓ کی فضیلت اور ان کی امامت کی صحت پر سب سے بڑی دلیل ہے۔

(تفسیر الرازی: جلد، 16 صفحہ، 168/169) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ۔

صفحہ 2 از 4