قرآنی آیات جن میں خلافت صدیقی کی طرف اشارہ ہے - دفاعِ اہلِ…

قرآنی آیات جن میں خلافت صدیقی کی طرف اشارہ ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

(سورۃ النور: آیت نمبر، 55)

ترجمہ: تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کیے ہیں، اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا، جیسا کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لیے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کر کے جما دے گا، جسے ان کے لیے وہ پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف و خطر کو وہ امن و امان سے بدل دے گا، وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے، اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقیناً فاسق ہیں۔

یہ آیت کریمہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اور آپؓ کے بعد خلفائے ثلاثہ (سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ) کی خلافت پر صادق آتی ہے۔ اور جب استخلاف اور تمکین کی یہ صفت حضرت ابوبکر و حضرت عمر اور حضرت عثمان و حضرت علی رضی اللہ عنہم کی خلافت میں پائی گئی تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی خلافت بر حق ہے۔

(تفسیر ابنِ کثیر: جلد، 5 صفحہ، 121)

حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں بعض سلف نے فرمایا کہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خلافت بر حق ہے اور اللہ کی کتاب میں ثابت ہے اور پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔

(تفسیر ابن کثیر: جلد، 5 صفحہ، 121)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

قُل لِّلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ فَإِن تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّـهُ أَجْرًا حَسَنًا ۖوَإِن تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا۔

(سورۃ الفتح: آیت نمبر، 16)

ترجمہ: آپ پیچھے چھوڑے ہوئے بدویوں سے کہہ دو عنقریب تم ایک سخت جنگجو قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے، پس اگر تم اطاعت کرو گے، تو اللہ تمہیں بہت بہترین بدلہ دے گا اور اگر تم نے منہ پھیر لیا جیسا کہ اس سے پہلے تم منہ پھیر چکے ہو تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔

امام ابوالحسن الاشعریؒ فرماتے ہیں کہ سورۃ براۃ (توبہ) میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت پر دلیل موجود ہے۔ اللہ نے ان لوگوں کے متعلق جو نبی کریمﷺ کی نصرت سے بیٹھ گئے تھے اور آپ کے ساتھ نکلنے سے پیچھے رہ گئے تھے فرمایا۔

فَإِن رَّجَعَكَ اللَّـهُ إِلَىٰ طَائِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَأْذَنُوكَ لِلْخُرُوجِ فَقُل لَّن تَخْرُجُوا مَعِيَ أَبَدًا وَلَن تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا ۖإِنَّكُمْ رَضِيتُم بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِينَ۔

(سورۃ التوبہ: آیت نمبر، 83)

ترجمہ: پس اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ان کی کسی جماعت کی طرف لوٹا کر واپس لے آئے پھر یہ آپ سے میدان جنگ میں نکلنے کی اجازت طلب کریں تو آپ کہہ دیجیے کہ تم میرے ساتھ ہرگز چل نہیں سکتے اور نہ میرے ساتھ تم دشمنوں سے لڑائی کر سکتے ہو۔ تم نے پہلی مرتبہ ہی بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا، پس تم پیچھے رہ جانے والوں میں ہی بیٹھے رہو۔

سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ ۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّـهِ۔

(سورۃ الفتح: آیت نمبر، 15)

ترجمہ: جب تم غنیمتیں لینے جانے لگو گے تو جھٹ سے یہ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ کہنے لگیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیجیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔

یہاں اللہ کے کلام سے مقصود لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا.

(سورۃ التوبہ: آیت نمبر، 83)

ترجمہ: تم میرے ساتھ ہرگز چل نہیں سکتے ہے۔

اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا

قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمْ قَالَ اللَّـهُ مِن قَبْلُ ۖ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا ۚ بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا.

(سورۃ الفتح: آیت نمبر، 15)

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی فرما چکا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے۔ وہ اس کا جواب دیں گے (نہیں نہیں) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔ (اصل بات یہ ہے کہ) وہ لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہیں۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا

قُل لِّلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ فَإِن تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّـهُ أَجْرًا حَسَنًا ۖوَإِن تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا.

(سورۃ الفتح: آیت نمبر، 16)

آپ پیچھے چھوڑے ہوئے بدویوں سے کہہ دو عنقریب تم ایک سخت جنگجو قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے، پس اگر تم اطاعت کرو گے، تو اللہ تمہیں بہت بہترین بدلہ دے گا اور اگر تم نے منہ پھیر لیا جیسا کہ اس سے پہلے تم منہ پھیر چکے ہو تو وہ تمہیں درد ناک عذاب دے گا۔

اور یہاں انہیں قتال کی دعوت دینے والا نبی کریمﷺ کے علاؤہ کوئی اور ہو گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَقُل لَّن تَخْرُجُوا مَعِيَ أَبَدًا وَلَن تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا۔

(سورۃ التوبۃ: نمبر، 83)

ترجمہ: تو آپ کہہ دیجیے کہ تم میرے ساتھ ہرگز چل نہیں سکتے اور نہ میرے ساتھ تم دشمنوں سے لڑائی کر سکتے ہو۔

اور سورۃ فتح میں فرمایا

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا کَـلَامَ اللہِ

ترجمہ: وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔

اللہ تعالیٰ نے ان کو نبی کریمﷺ کے ساتھ نکلنے سے منع فرمایا اور اس کو کلام الہٰی میں تبدیلی قرار دیا لہٰذا اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ ان کو قتال کی طرف دعوت دینے والا نبی کریمﷺ کے بعد ہو گا۔

(الابانۃ عن اصول الدیانۃ: صفحہ، 67 مقالات الاسلامیین: جلد، 2 صفحہ، 144)

اور امام مجاہدؒ 

اُولِیْ بَاسٍ شَدِیْدٍ

ترجمہ: سخت جنگجو قوم

صفحہ 3 از 4