قرآنی آیات جن میں خلافت صدیقی کی طرف اشارہ ہے - دفاعِ اہلِ…

قرآنی آیات جن میں خلافت صدیقی کی طرف اشارہ ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مقصود فارس اور روم ہیں اور یہی بات امام حسن بصریؒ نے فرمائی ہے۔ امام عطاءؒ فرماتے ہیں کہ اس سے مقصود فارس کے لوگ ہیں اور ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کا بھی ایک قول یہی ہے۔ اور ان کی دوسری روایت میں ہے کہ اس سے مقصود بنو حنیفہ ہیں جن سے جنگ یمامہ ہوئی تھی۔ اگر اس سے مقصود اہلِ یمامہ ہیں تو سیدنا ابوبکرؓ کے دورِ خلافت میں ان سے جنگ ہوئی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہی مسیلمہ کذاب اور بنو حنیفہ سے قتال کی دعوت دی تھی، اور اگر اس سے مقصود فارس و روم کے لوگ ہیں۔

(جامع البیان للطبری: جلد، 26 صفحہ، 84/86 الاعتقاد للبیہقی: صفحہ، 173)

تو ان سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جنگ کی گئی۔ پھر آپؓ کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کیا اور فتح حاصل کر کے فارغ ہوئے۔ اور جب اس سے حضرت عمرؓ کی امامت لازم آتی ہے تو آپؓ کی امامت کی طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت بھی لازم آتی ہے کیونکہ حضرت عمرؓ کو منصب امامت پر فائز کرنے والے حضرت ابوبکرؓ ہی تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی امامت و خلافت پر قرآن کریم دلالت کرتا ہے۔ اور جب رسول اللہﷺ کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت لازم آئی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آپؓ مسلمانوں میں سب سے افضل ہیں۔

(الابانۃ فی اصول الدیانۃ: صفحہ، 67)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ۔

(سورۃ الحشر: آیت نمبر، 8)

ترجمہ: (مال فے) ان مہاجرین مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دیے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی راست باز لوگ ہیں۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کو صادقین (راست باز) کا نام دیا ہے، اور جس کی صداقت وراست بازی کی شہادت رب العالمین دے اس سے جھوٹ کا صدور نہیں ہو سکتا اور وہ کبھی جھوٹ کو اپنی خصلت نہیں بنائے گا۔ اور جن کو اللہ تعالیٰ نے صادق قرار دیا ہے یہ سب کے سب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ رسول اللہﷺ کا نام دینے پر متفق ہیں۔

(منہاج السنۃ: جلد، 1 صفحہ، 135 الفصل فی الملل والا ہواء والنحل: جلد، 4 صفحہ، 107)

اور اس طرح یہ آیت کریمہ حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے ثبوت پر دلیل ہے۔

(عقیدۃ اہلِ السنۃ والجماعۃ: جلد، 2 صفحہ، 538 ناصر حسن الشیخ)


صفحہ 4 از 4