قرآن کریم کی موافقت، اسباب نزول پر خصوصی توجہ، اور بعض آیات…

قرآن کریم کی موافقت، اسباب نزول پر خصوصی توجہ، اور بعض آیات کی تفسیر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: یعنی ’’اس وجہ سے کہ تمہارے ساتھیوں نے مجھے فدیہ لینے کا مشورہ دیا، تمہارا عذاب میرے سامنے (قریبی درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) اس درخت سے بھی قریب کرکے دکھایا گیا۔‘‘

تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی

مَا كَانَ لِنَبِىٍّ اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗۤ اَسۡرٰى حَتّٰى يُثۡخِنَ فِى الۡاَرۡضِ‌ تُرِيۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡيَا وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ‌ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ‏ ۞ لَوۡلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمۡ فِيۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ‏ ۞

(سورۃ الأنفال: آیت، 67اور68)

ترجمہ: پیغمبر کو نہیں چاہیے کہ اس کے پاس قیدی رہیں جب تک ملک میں (کافروں کو) خوب قتل نہ کرے تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ تعالیٰ (تم کو) آخرت (کا ثواب دینا ) چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکم والا۔اگر اللہ تعالیٰ آگے سے ایک بات نہ لکھ چکا ہوتا توتم نے جو (مال قیدیوں سے) لیا اس (قصور ) میں تم پر بڑا عذاب اترتا۔‘‘

پھر آئندہ سال اُحد میں ان مسلمانوں میں سے ستر شہید ہوئے، اور آپﷺ کے صحابہؓ نے میدان چھوڑ دیا، آپﷺ کے رباعی دانت ٹوٹ گئے، خود آپ کے سر میں دھنس گئی، آپ کے چہرہ سے خون بہتا رہا اور اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی

اَوَلَمَّاۤ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا ۙ قُلۡتُمۡ اَنّٰى هٰذَا‌ؕ قُلۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِكُمۡ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

(سورۃ آل عمران: آیت، 165)

(صحیح مسلم: حدیث: 2400 اخبار عمر: الطنطاویات: صفحہ، 380 اور 381 )

ترجمہ: ’’(کیا بات ہے) کہ جب تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دوگنی پہنچا چکے تو یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آ گئی؟ آپ کہہ دیجیے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

4.  استئذان (اجازت طلبی) کے بارے میں موافقت

نبی کریمﷺ نے ایک انصاری بچے کو دوپہر کے وقت سیدنا عمر بن خطابؓ کو بلانے کے لیے بھیجا، وہ آپ کے پاس آیا، آپ سو رہے تھے اور جسم کا کچھ حصہ بے پردہ تھا۔ تو آپ نے دعا کی:

اَللّٰہُمَّ حَرِّمِ الدُّخُوْلَ عَلَیْنَا فِیْ وَقْتِ نَوْمِنَا۔

ترجمہ: ’اے اللہ! ہمارے سونے کے وقت میں کسی کی آمد کو حرام کر دے۔‘‘

ایک روایت میں ہے کہ آپ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ اجازت طلبی کے بارے میں امر ونہی کے احکامات نازل فرما دیں۔

پھر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِيَسۡتَـاْذِنۡكُمُ الَّذِيۡنَ مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ وَالَّذِيۡنَ لَمۡ يَـبۡلُغُوا الۡحُـلُمَ مِنۡكُمۡ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ‌ مِنۡ قَبۡلِ صَلٰوةِ الۡفَجۡرِ وَحِيۡنَ تَضَعُوۡنَ ثِيَابَكُمۡ مِّنَ الظَّهِيۡرَةِ وَمِنۡ بَعۡدِ صَلٰوةِ الۡعِشَآءِ ۞

(سورۃ النور: آیت، 58)

ترجمہ: ’’ایمان والو! تم سے تمہاری ملکیت کے غلاموں کو اور انہیں بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں (اپنے آنے کی) تین اوقات میں اجازت حاصل کرنی ضروری ہے: نماز فجر سے پہلے اور ظہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد۔‘‘


صفحہ 2 از 2