حضرت عمؓر سنت رسولﷺ کی مخالفت کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے. (حضرت عمرؓ کے سرکاری خطوط ، از ڈاکٹر خورشید احمد فاروق)
زینب بخاری(حضرت عمرؓ کے سرکاری خطوط ، از ڈاکٹر خورشید احمد فاروق)
(الجواب اہلسنت)
حضرت فاروق اعظمؓ کی ذات گرامی پر رائے زنی کیلئے ارباب علم کی پوری جماعت کو چھوڑ کر اب یار لوگ ڈاکٹروں کے حضور جا کھڑے ہوئے اور اس مذکورہ ڈاکٹر صاحب کی تصنیف کردہ حضرت عمرؓ کے سرکاری خطوط نامی کتاب لائے ہیں، ہم عرض کرتے ہیں کہ مذکورہ صاحب کی رائے ڈاکٹری میں تو معتبر ہوگی مگر سیرت فاروق اعظمؓ کے بارے میں ان کی رائے ایسی ہی ہو گی جیسے کسی لوہار کی رائے جہاز کے پرزه جات فٹ کرنے میں! جبکہ وہ جہاز کے پرزه جات کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ فاروق اعظمؓ کے بارے میں کتاب اللہ اور ارشاد رسولﷺ معلومات حاصل کرنے کا بہتر راستہ ہے ڈاکٹر صاحب کو شاید علم نہیں کہ مدینہ منورہ کے باسی دہلی کے سٹوڈنٹ نہیں تھے رحمت عالمﷺ کے تربیت یافتہ تھے یہاں تو قرآن پاک یا سنت نبویہ کے خلاف کوئی بات سنائی دیتی تو حضرت عمرؓ جیسے نڈر خلیفہ کے سامنے عورت اور دیہاتی کھڑے ہو جاتے تھے اور بالآخر حضرت عمرؓ یہ فرماتے تھے کہ ایک عورت کو بھی (اس خاص مسئلہ میں ) اتنا علم ہے کہ عمرؓ کو اتنا علم نہیں۔ پھر شاید ڈاکٹر جی کی معلومات اتنی کمزور ہیں کہ اللہ تعالی کے نزدیک جو مرتبہ فاروق اعظمؓ کو حاصل ہے اس کو بھی نہیں جانتے کہ فاروق اعظمؓ عرض کریں اے اللہ کے رسول عبد اللہ ابن ابی منافق کا جنازہ نہ پڑھائے اور رحمت عالمﷺ اپنی شفقت اور کمال عنائت سے جنازہ پڑھا دیں تو آسمانوں سے حکم آجاتا ہے
وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا (سورةالتوبہ آیت 84)
ترجمہ اور ان میں سے کسی کی میّت پر کبھی نماز نہ پڑھنا۔
اگر فاروق اعظمؓ عرض کریں بدر کے قیدیوں کو قتل کر دیا جائے اور رحمت عالمﷺ اپنی کمال رحم دلی سے فدیہ لے کر چھوڑ دیں تو حکم آ جاتا ہے کہ
مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ۔(سورة الانفال آیت67)
کہ نبیﷺ کیلئے ان قیدیوں کا رہا کرنا مناسب نہ تھا الغرض علامہ سیوطی 27 آیات کی نشاندہی فرماتے ہیں کہ زمین پر حضرت عمرؓ نے عرض کیا تو اللہ رب العزت نے اسے قرآن بنا دیا اب جس ڈاکٹر صاحب کو یہ موٹی موٹی باتیں بھی معلوم نہ ہوں ان کی رائے فاروق اعظمؓ جیسی عظیم المرتبت ذات کے بارے میں کیا خاک وزن رکھیں گی لہذا تحقیقی دستاویز والے حیاء کو ہاتھ ماریں ہر مودودی و ڈاکٹر کو جو کچھ لکھنے کے شوق میں قلم ہاتھ میں لے بیٹھے اسے اہل سنت کا نمائندہ بنا کر پیش نہ کریں۔ کسی بھی مسلک کے ماہرین علوم دینیہ کی بات معتبر و مقبول ہوتی ہے نہ کہ ادھر ادھر کے ڈاکٹر کی۔