مالک بن حارث الاشتر النخعی (منافقین کا سردار) - ردِ رافضیت…

مالک بن حارث الاشتر النخعی (منافقین کا سردار)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 4

مالک بن حارث الاشتر النخعی نامی منافقین کا سردار، خلیفہ راشد حضرت عثمان رضی اللہ کا قاتل، ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ کی توہین کرنے والا، امی عائشہ رضی اللہ کا اس کے مومن ہونے کا انکار کرنا، حضرت عمرؓ کا اس کو مسلمانوں کے لیے سخت فتنہ کا حدشہ ظاہر کرنا۔ امام اہلسنت امام احمد ابن حنبل کا اس کو خوارج کے سردار کی طرح مترک قرار دینا۔ حضرت علی رضی اللہ کے ساتھ بھی ذاتی مفاد کیلئے نتھی ہو گیا تھا۔

 1: امی عائشہؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے ایک دن حضرت عثمانؓ کو بلایا اور فرمایا:

وَقَالَ: «يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ، فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي، 

(مسند الإمام: أحمد بن حنبل)

عثمان عنقریب اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اُسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھے آ ملو (یعنی شہید کردیے جاؤ) یہ بات تین مرتبہ بیان فرمائی تھی۔(رجال ثقہ)

1۔-الشهرة : عبد القدوس بن الحجاج الخولاني , الكنيه: أبو المغيرة(ثقة)-

2۔الشهرة : الوليد بن سليمان القرشي(ثقة)

03-الشهرة : ربيعة بن يزيد الإيادي(ثقة)-

4۔الشهرة : عبد الله بن عامر اليحصبي(ثقة) -

5۔ النعمان بن بشير الأنصاري (متوفی 65)(صحابي صغير)

(اس روایت سے ثابت ہوگیا کہ حضرت عثمانؓ کے قاتل مسلمان یا صحابہ کرامؓ نہیں بلکہ منافقین تھے)

2: مالک بن حارث منافقین کا سردار تھا، محمد بن سعد نے طبقات میں حضرت عثمانؓ کی شہادت کا واقعہ نقل فرمایا:

یعنی حضرت عثمانؓ نے الاشتر کو بلایا، اور فرمایا اے الاشتر تیرے گماشتے مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔

قَالَ: "يَا أَشْتَرُ، مَا يُرِيدُ النَّاسُ مِنِّي؟

الاشتر نے جواب دیا:

قَالَ: ثَلَاثٌ، لَيْسَ لَكَ مِنْ إِحْدَاهُنَّ بُدٌّ، قَالَ: مَا هُنَّ؟ قَالَ: يُخَيِّرُونَكَ بَيْنَ أَنْ تَخْلَعَ لَهُمْ أَمَرَهُمْ فَتَقُولَ: هَذَا أَمْرُكُمْ فَاخْتَارُوا لَهُ مَنْ شِئْتُمْ، وَبَيْنَ أَنْ تَقُصَّ مِنْ نَفْسِكِ , فَإِنْ أَبَيتَ هَاتَيْنِ فَإِنَّ الْقَوْمَ قَاتِلُوكَ۔

تین باتوں جن میں سے ایک کے بغیر آپ کے لیے چارہ نہیں فرمایا وہ کیا ہیں؟ الاشتر نے کہا وہ لوگ آپ کو اختیار دیتے ہیں کہ یا آپ ان کے حق میں حکومت سے دست بردار ہو جائیں اور کہہ دیں کہ یہ تہماری حکومت ہے، تم جسے چاہو امیر بناؤ، یا آپ اپنی جان سے ان لوگوں کو قصاص لینے دیں، اگر آپ کو ان دونوں سے انکار ہے تو یہ لوگ آپ سے جنگ کریں گے۔

حضرت عثمانؓ نے جواب دیا: 

قَالَ:أَمَّا أَنْ أَخْلَعَ لَهُمْ أَمَرَهُمْ فَمَا كُنْتُ لِأَخْلَعَ سِرْبَالًا سَرْبَلَنِيهُ اللَّهُ، قَالَ: وَقَالَ غَيْرُهُ: وَاللَّهِ لِأَنْ  أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَخْلَعَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ،

یہ ممکن نہیں کہ میں حکومت سے دست بردار ہو جاؤں، میں اس کرتے کو اتارنے والا نہیں، جو اللہ نے مجھے پہنایا ہے۔ واللہ اگر مجھے آگے کر کے گردن مار دی جائے تو یہ زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ امت محمدیہ کو بعض پر بعض کو چھوڑ دو۔(رجال ثقہ)

00-محمد بن سعد بن منيع الہاشمی (ثقۃ )

1: إسماعيل بن عليہ الاسدی, الكنيہ: أبو بشر(ثقہ حجۃ حافظ)

2: عبد الله بن عون المزنی، الكنيہ: أبو عون(ثقہ)

3: الحسن البصری الكنيہ: أبو سعيد(ثقۃ)

4: وَثَّابٌ مولی عثمان

حافظ ابن حجر نے لکھا:

وقال ابن أبي خيثمة في تاريخه سمعت ابن معين يقول: "إذا روى الحسن البصري عن رجل فسماه فهو ثقة يحتج بحديثه" وذكره ابن حبان في الثقات،تهذيب التہذیب 

3: امام ابو بکر ابن ابی شیبہ نے مصنف میں کلیب بن شہاب الجرمی سے نقل فرمایا:

كِتَابُ الْجَمَلِ وَصِفِّينَ وَالْخَوَارِجِ وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ وَآلِهِ وَسلّم

37757: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ

(الكتاب المصنف فی الأحاديث والآثار)

جب حضرت علیؓ نے عبداللہ بن عباس کو بصرہ کا عامل مقرر کیا۔ تو الاشتر النخعی کا ساتھی عتاب التغلبی الاشتر کے پاس آیا اس کے گلے میں تلوار لٹک رہی تھی،  اور اس نے کہا: 

قَالَ: فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ جَاءَ عَتَّابٌ التَّغْلِبِيُّ وَالسَّيْفُ يَخْطِرُ أَوْ يَضْطَرِبُ فِي عُنُقِهِ فَقَالَ: هَذَا أَمِيرُ مُؤْمِنِيكُمْ قَدِ اسْتَوْلَى ابْنُ عَمِّهِ عَلَى الْبَصْرَةِ ,

یہ تمہارے مؤمنین کے امیر نے اپنے چچے کے بیٹے کو بصرہ کی حکومت دے دی۔

تو الاشتر غصہ سے مسکرایا اور بولا:

 فَتَبَسَّمَ تَبَسُّمًا فِيهِ كُشُورٌ , قَالَ: فَقَالَ: فَلَا نَدْرِي إِذًا عَلَامَ قَتَلْنَا الشَّيْخَ بِالْمَدِينَةِ؟

اگر ایسا ہوا تو ہم نہیں جانتے کہ ہم نے شیخ (امیر المؤمنین عثمان غنیؓ) کو مدینہ میں کیوں قتل کیا:

00-ابن ابی شيبہ العبسی، الكنيہ: أبو بكر( ثقہ حافظ)

01-حماد بن اسامہ القرشی، الكنيہ: أبو اسامہ ( ثقہ ثبت)

02-العلاء بن منهال الغنوی(ثقہ، أبو زرعہ و عجلی، و ابن حبان)

03- عاصم بن كليب الجرمی(ثقہ)

04-كليب بن شهاب الجرمی (ثقہ)

04- محمد بن جریر الطبری نے اپنی سند سے یہی واقعہ اس طرح نقل کیا: قَالَ أَبُو جَعْفَر: أخرج إلي زياد بن أيوب كتابا فِيهِ أحاديث عن شيوخ ذكر أنه سمعها مِنْهُمْ، قرأ علي بعضها ولم يقرأ علي بعضها، فمما لم يقرأ علي من ذَلِكَ فكتبته مِنْهُ، قَالَ:حَدَّثَنَا مُصْعَب بن سلام التميمي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن سوقة، عن عاصم بن كليب الجرمي، عَنْ أَبِيهِ

الاشتر کو جب معلوم ہوا کہ علیؓ نے عبداللہؓ بن عباسؓ کو بصرہ کا عامل بنا دیا تو غصہ میں بولا:

وأتاه الخبر باستعمال عَلِيّ ابن عباس فغضب وقال: علام قتلنا الشيخ! إذ اليمن لعبيد اللَّه، والحجاز لقثم، والبصرة لعبد اللَّه، والكوفة لعلي

(تاريخ الطبری)

صفحہ 1 از 4