مالک بن حارث الاشتر النخعی (منافقین کا سردار) - ردِ رافضیت…

مالک بن حارث الاشتر النخعی (منافقین کا سردار)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

مالک بن حارث الاشتر النخعی نامی منافقین کا سردار، خلیفہ راشد حضرت عثمان رضی اللہ کا قاتل، ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ کی توہین کرنے والا، امی عائشہ رضی اللہ کا اس کے مومن ہونے کا انکار کرنا، حضرت عمرؓ کا اس کو مسلمانوں کے لیے سخت فتنہ کا حدشہ ظاہر کرنا۔ امام اہلسنت امام احمد ابن حنبل کا اس کو خوارج کے سردار کی طرح مترک قرار دینا۔ حضرت علی رضی اللہ کے ساتھ بھی ذاتی مفاد کیلئے نتھی ہو گیا تھا۔

 1: امی عائشہؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے ایک دن حضرت عثمانؓ کو بلایا اور فرمایا:

وَقَالَ: «يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ، فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي، 

(مسند الإمام: أحمد بن حنبل)

عثمان عنقریب اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اُسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھے آ ملو (یعنی شہید کردیے جاؤ) یہ بات تین مرتبہ بیان فرمائی تھی۔(رجال ثقہ)

1۔-الشهرة : عبد القدوس بن الحجاج الخولاني , الكنيه: أبو المغيرة(ثقة)-

2۔الشهرة : الوليد بن سليمان القرشي(ثقة)

03-الشهرة : ربيعة بن يزيد الإيادي(ثقة)-

4۔الشهرة : عبد الله بن عامر اليحصبي(ثقة) -

5۔ النعمان بن بشير الأنصاري (متوفی 65)(صحابي صغير)

(اس روایت سے ثابت ہوگیا کہ حضرت عثمانؓ کے قاتل مسلمان یا صحابہ کرامؓ نہیں بلکہ منافقین تھے)

2: مالک بن حارث منافقین کا سردار تھا، محمد بن سعد نے طبقات میں حضرت عثمانؓ کی شہادت کا واقعہ نقل فرمایا:

یعنی حضرت عثمانؓ نے الاشتر کو بلایا، اور فرمایا اے الاشتر تیرے گماشتے مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔

قَالَ: "يَا أَشْتَرُ، مَا يُرِيدُ النَّاسُ مِنِّي؟

الاشتر نے جواب دیا:

قَالَ: ثَلَاثٌ، لَيْسَ لَكَ مِنْ إِحْدَاهُنَّ بُدٌّ، قَالَ: مَا هُنَّ؟ قَالَ: يُخَيِّرُونَكَ بَيْنَ أَنْ تَخْلَعَ لَهُمْ أَمَرَهُمْ فَتَقُولَ: هَذَا أَمْرُكُمْ فَاخْتَارُوا لَهُ مَنْ شِئْتُمْ، وَبَيْنَ أَنْ تَقُصَّ مِنْ نَفْسِكِ , فَإِنْ أَبَيتَ هَاتَيْنِ فَإِنَّ الْقَوْمَ قَاتِلُوكَ۔

تین باتوں جن میں سے ایک کے بغیر آپ کے لیے چارہ نہیں فرمایا وہ کیا ہیں؟ الاشتر نے کہا وہ لوگ آپ کو اختیار دیتے ہیں کہ یا آپ ان کے حق میں حکومت سے دست بردار ہو جائیں اور کہہ دیں کہ یہ تہماری حکومت ہے، تم جسے چاہو امیر بناؤ، یا آپ اپنی جان سے ان لوگوں کو قصاص لینے دیں، اگر آپ کو ان دونوں سے انکار ہے تو یہ لوگ آپ سے جنگ کریں گے۔

حضرت عثمانؓ نے جواب دیا: 

قَالَ:أَمَّا أَنْ أَخْلَعَ لَهُمْ أَمَرَهُمْ فَمَا كُنْتُ لِأَخْلَعَ سِرْبَالًا سَرْبَلَنِيهُ اللَّهُ، قَالَ: وَقَالَ غَيْرُهُ: وَاللَّهِ لِأَنْ  أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَخْلَعَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ،

یہ ممکن نہیں کہ میں حکومت سے دست بردار ہو جاؤں، میں اس کرتے کو اتارنے والا نہیں، جو اللہ نے مجھے پہنایا ہے۔ واللہ اگر مجھے آگے کر کے گردن مار دی جائے تو یہ زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ امت محمدیہ کو بعض پر بعض کو چھوڑ دو۔(رجال ثقہ)

00-محمد بن سعد بن منيع الہاشمی (ثقۃ )

1: إسماعيل بن عليہ الاسدی, الكنيہ: أبو بشر(ثقہ حجۃ حافظ)

2: عبد الله بن عون المزنی، الكنيہ: أبو عون(ثقہ)

3: الحسن البصری الكنيہ: أبو سعيد(ثقۃ)

4: وَثَّابٌ مولی عثمان

حافظ ابن حجر نے لکھا:

وقال ابن أبي خيثمة في تاريخه سمعت ابن معين يقول: "إذا روى الحسن البصري عن رجل فسماه فهو ثقة يحتج بحديثه" وذكره ابن حبان في الثقات،تهذيب التہذیب 

3: امام ابو بکر ابن ابی شیبہ نے مصنف میں کلیب بن شہاب الجرمی سے نقل فرمایا:

كِتَابُ الْجَمَلِ وَصِفِّينَ وَالْخَوَارِجِ وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ وَآلِهِ وَسلّم

37757: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ

(الكتاب المصنف فی الأحاديث والآثار)

جب حضرت علیؓ نے عبداللہ بن عباس کو بصرہ کا عامل مقرر کیا۔ تو الاشتر النخعی کا ساتھی عتاب التغلبی الاشتر کے پاس آیا اس کے گلے میں تلوار لٹک رہی تھی،  اور اس نے کہا: 

قَالَ: فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ جَاءَ عَتَّابٌ التَّغْلِبِيُّ وَالسَّيْفُ يَخْطِرُ أَوْ يَضْطَرِبُ فِي عُنُقِهِ فَقَالَ: هَذَا أَمِيرُ مُؤْمِنِيكُمْ قَدِ اسْتَوْلَى ابْنُ عَمِّهِ عَلَى الْبَصْرَةِ ,

یہ تمہارے مؤمنین کے امیر نے اپنے چچے کے بیٹے کو بصرہ کی حکومت دے دی۔

تو الاشتر غصہ سے مسکرایا اور بولا:

 فَتَبَسَّمَ تَبَسُّمًا فِيهِ كُشُورٌ , قَالَ: فَقَالَ: فَلَا نَدْرِي إِذًا عَلَامَ قَتَلْنَا الشَّيْخَ بِالْمَدِينَةِ؟

اگر ایسا ہوا تو ہم نہیں جانتے کہ ہم نے شیخ (امیر المؤمنین عثمان غنیؓ) کو مدینہ میں کیوں قتل کیا:

00-ابن ابی شيبہ العبسی، الكنيہ: أبو بكر( ثقہ حافظ)

01-حماد بن اسامہ القرشی، الكنيہ: أبو اسامہ ( ثقہ ثبت)

02-العلاء بن منهال الغنوی(ثقہ، أبو زرعہ و عجلی، و ابن حبان)

03- عاصم بن كليب الجرمی(ثقہ)

04-كليب بن شهاب الجرمی (ثقہ)

04- محمد بن جریر الطبری نے اپنی سند سے یہی واقعہ اس طرح نقل کیا: قَالَ أَبُو جَعْفَر: أخرج إلي زياد بن أيوب كتابا فِيهِ أحاديث عن شيوخ ذكر أنه سمعها مِنْهُمْ، قرأ علي بعضها ولم يقرأ علي بعضها، فمما لم يقرأ علي من ذَلِكَ فكتبته مِنْهُ، قَالَ:حَدَّثَنَا مُصْعَب بن سلام التميمي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن سوقة، عن عاصم بن كليب الجرمي، عَنْ أَبِيهِ

الاشتر کو جب معلوم ہوا کہ علیؓ نے عبداللہؓ بن عباسؓ کو بصرہ کا عامل بنا دیا تو غصہ میں بولا:

وأتاه الخبر باستعمال عَلِيّ ابن عباس فغضب وقال: علام قتلنا الشيخ! إذ اليمن لعبيد اللَّه، والحجاز لقثم، والبصرة لعبد اللَّه، والكوفة لعلي

(تاريخ الطبری)

کیا اسی لئے  ہم نے اس بوڑھے (عثمانؓ)  کو قتل کیا تھا کہ یمن عبداللہ بن عباس کو دے دیا جائے، حجاز قثم بن عباس کو دے دیا جائے، بصرہ عبداللہ بن عباس کو اور کوفہ خود علیؓ اپنے لئے رکھ لیں۔

00- محمد بن جرير بن يزيد (ثقہ)

01-زياد بن أيوب الطوسی (ثقہ حافظ)

02-مصعب بن سلام التميمی(الصدق)

03-محمد بن سوقہ الغنوی (ثقہ)

04-عاصم بن كليب الجرمی (ثقہ)

05-كليب بن شهاب الجرمی (ثقہ)

05-حافظ ذہبی نے مالک بن الحارث الاشتر کے ترجمہ میں لکھا:

6: الأَشْتَرُ مَالِكُ بنُ الحَارِثِ النَّخَعِيُّ زَعِراً أَلَبَّ عَلَى عُثْمَانَ، وَقَاتَلَهُ، وَكَانَ ذَا فَصَاحَةٍ وَبَلاَغَةٍ.شَهِدَ صِفِّيْنَ   مَعَ عَلِيٍّ۔(سير أعلام النبلاء)

  بہتان لگا کر اس نے حضرت عثمانؓ کو قتل کردیا تھا، اور فصیح اور بلیغ تھا اور صفین میں علی کا ساتھی تھا۔

06-حافظ ابن حجرؒ نے ابن حبان کی کتاب الثقات سے نقل فرمایا:

وذكره بن حبان في الثقات قال شهد اليرموك فذهبت عينه يومئذ وكان رئيس قومه وكان ممن يسعى في الفتنة والب على عثمان وشهد حصره

(تهذيب التهذيب)

یعنی ابن حبان نے اس کا ذکر الثقات میں کر کے لکھا کہ یرموک میں یہ موجود تھا، اور اپنی قوم کے سرداروں میں سے تھا اور یہ وہ شخص تھا جس نے فتنہ کی سب سے زیادہ کوشش کی، اور عثمان کے خلاف فتنہ اور شر انگیزی پھیلانے والوں میں شامل تھا اور حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کرنے والوں میں یہ آدمی شامل تھا۔

07-حافظ ابن کثیرؒ نے تاریخ البدايہ والنهايہ میں لکھا:

ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنِّي مُرْتَحِلٌ غَدًا فَارْتَحِلُوا، وَلَا يَرْتَحِلُ مَعِي أَحَدٌ أَعَانَ عَلَى عُثْمَانَ بِشَيْءٍ مِنْ أُمُورِ النَّاسِ.

حضرت علیؓ نے فرمایا کہ کل میں کوچ کرنے والا ہوں، اور ہمارے ساتھ کوئی ایسا شخص کوچ نہ کرے جس نے حضرت عثمانؓ کے قتل میں لوگوں کی کچھ بھی مدد کی ہو۔

تو ابن کثیرؒ نے لکھا:

هَذَا اجْتَمَعَ مِنْ رُءُوسِهِمْ جَمَاعَةٌ ; كَالْأَشْتَرِ النَّخَعِيِّ، وَشُرَيْحِ بْنِ أَوْفَى، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبَأٍ، الْمَعْرُوفِ بِابْنِ السَّوْدَاءِ، وَسَالِمِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، وَعِلْبَاءَ بْنِ الْهَيْثَمِ، وَغَيْرِهِمْ فِي أَلْفَيْنِ وَخَمْسِمِائَةٍ وَلَيْسَ فِيهِمْ صَحَابِيٌّ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

روساء کی ایک جماعت جسمیں الاشتر النخعی، شریح بن اوفی، عبداللہ بن سبا، بابن السوداء، سالم بن ثعلبہ، غلاب بن الہیثم، اور اڑھائی ہزار آدمی جمع ہو گئے اور ان میں ایک بھی صحابہؓ نہیں تھا۔

اس کے بعد الاشتر نے کہا: 

فَقَالَ الْأَشْتَرُ: قَدْ عَرَفْنَا رَأْيَ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ فِينَا، وَأَمَّا رَأْيُ عَلِيٍّ فَلَمْ نَعْرِفُهُ

إِلَى الْيَوْمِ، فَإِنْ كَانَ قَدِ اصْطَلَحَ مَعَهُمْ فَإِنَّمَا اصْطَلَحُوا عَلَى دِمَائِنَا،

طلحہ اور زبیر کی رائے تو معلوم ہے، علی کی ہمارے بارے میں رائے کا پتہ نہیں چلا، اگر انہوں نے اُن کے ساتھ صلح کر لی ہے تو انہوں نے ہمارے خون پر صلح کی ہے۔

فَإِنْ كَانَ الْأَمْرُ هَكَذَا أَلْحَقْنَا عَلِيًّا بِعُثْمَانَ، فَرَضِيَ الْقَوْمُ مِنَّا بِالسُّكُوتِ.

اگر بات ایسی ہی ہے تو ہم حضرت علیؓ کو بھی حضرت عثمانؓ کے ساتھ ملا دے گے اور لوگ ہمارے ساتھ خاموشی اختیار کر کے راضی ہو جائیں گے۔

08۔ امی عائشہؓ نے حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو بددعا دیتے ہوئے اس میں مالک الاشتر کا بھی ذکر فرمایا:

133 -حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا حَزْمٌ،عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلِيقَ بْنَ خَشَّافٍ، يَقُولُ:------

امام طبرانی نے طلیق بن خشاف بن بکر سے نقل فرمایا کہ امی عائشہؓ سے پوچھا کہ عثمانؓ کو کیوں قتل کیا گیا: تو جواب دیا: 

يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فِيمَ قُتِلَ عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَتْ: «قُتِلَ وَاللهِ مَظْلُومًا، لَعَنَ اللهُ قَتَلَتَهُ،

پھر امی عائشہؓ نے فرمایا: وَسَاقَ اللهُ إِلَى الْأَشْتَرِ سَهْمًا مِنْ سِهَامِهِ

اللہ مالک الاشتر کی طرف اپنے تیروں میں سے ایک تیر بھیج یعنی اسے ہلاک کر دے۔ اور طلیق نے فرمایا:

فَوَاللهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ إِلَّا أَصَابَتْهُ دَعْوَتُهَا

(المعجم الكبير)

اللہ کی قسم لوگوں میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں جس پر امی کی بددعا نہیں پہنچی ہو۔

(علامہ ہیثمی نے لکھا رجال الصحیح غیر طلق وھو ثقہ)

00: سليمان بن أحمد، الطبرانی (حافظ ثبت)

01: الفضل بن الحباب الجمحی، أبو خليفہ ( ثقہ ثبت)

02: عبد الله بن عبد الوهاب الحجبی (ثقہ)

03: حزم بن ابی حزم القطعی (صدوق حسن الحديث)

04:  ظالم بن عمرو ،أبو الأسود الدؤلی (ثقہ)

05: طلق،طَلِيقَ  بن خشاف بن بكر

(ہیثمی نے کہا ثقہ، ذہبی نے اور ابن سعدؒ نے ان کو صحابیِ رسولﷺ قرار دیا ہے۔)

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ آپؒ نے فرمایا:

سَاقَ اللهُ إِلَى الْأَشْتَرِ سَهْمًا مِنْ سِهَامِهِ

ترجمہ: اور اے اللہ مالک اشتر سے بدلہ لے، اور اپنے تیروں میں سے خاص تیر بھیج کر اس کا کام تمام کر دے۔

(المعجم الكبير للطبرانی، جلد 1 صفحہ 88، رقم: 133)

9: حضرت عمرؓ اور الاشتر النخعی: علامہ قرطبی نے سورہ الحجرات 75 کی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی:

یعنی مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ علامہ ہیثمی نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔

اور قرطبی نے عمر بن خطابؓ کا اثر نقل کیا، جس کی سند

العلل ابن حنبل میں موجود ہے۔

540-قَالَ أبي فِي حَدِيث يزِيد بن زُرَيْع عَن شُعْبَة قَالَ أنبأني عَمْرو بن مرّة عَن عبد الله بن سَلمَة قَالَ دَخَلنَا على عمر معاشر وَفد مذْحج وَكنت من أقربهم مِنْهُ مَجْلِسا فَجعل عمر نظر إِلَى الأشتر وَيصرف بَصَره فَقَالَ لي أمنكم هَذَا قلت نعم يَا أَمِير الْمُؤمنِينَ قَالَ مَا لَهُ قَاتله الله كفى الله أمة مُحَمَّد شَره وَالله أَنِّي لأحسب أَن للْمُسلمين مِنْهُ يَوْمًا عصيبا

(العلل ومعرفہ الرجال)

یعنی حضرت عمر بن خطابؓ  مذحج کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے ان میں الاشتر بھی تھا، پس آپؓ نے اس میں نظر جمادی اور خوب غور سے دیکھا اور فرمایا: یہ کون ہے؟ انہونے کہا: یہ مالک بن حارث ہے۔ تو آپؓ نے فرمایا:ا سے کیا ہے اللہ اسے قتل کرے۔ بے شک میں مسلمانوں کے لیے اس کی طرف سے انتہائی سخت (تکلیف دہ) دن دیکھ رہا ہوں۔

علامہ قرطبی نے لکھا:

فَكَانَ مِنْهُ فِي الْفِتْنَةِ مَا كَانَ (تفسير القرطبی)

پھر اس کی طرف سے فتنہ میں وہی ہوا جو ہوا۔ (سند صحیح)

00: أحمد بن حنبل الشيبانی(ثقہ حافظ فقيہ حجہ)

01: يزيد بن زريع العيشی( ثقہ ثبت)

02: شعبہ بن الحجاج العتكی( ثقہ حافظ متقن عابد)

03: عمرو بن مرة المرادی (ثقہ)

04: عبد الله بن سلمہ المرادی (ثقہ، تغير فی آخر عمره)

اس صحیح اثر کی سند پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ عبداللہ سلمہ آخری عمر میں تغیر کا شکار ہو گے تھے۔ اس کا جواب ہے کہ جب عمرو بن مرہ ان سے روایت کرتے ہیں تو وہ تغیر سے قبل ہوتی ہے، نیز عمرو بن مرۃ عن عبداللہ بن سلمہ سے مروی سند کی توثیق 21 محدثین سے پوسٹ میں موجود ہے۔

10: ام المؤمنین عائشہؓ کی طرف جنگ جمل میں زخمی ہونے کے بعد الاشتر النخعی نے اونٹ کا تحفہ کلیب کے ہاتھوں بھیجا اور سلام عرض کروایا۔

37757 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ

(المصنف في الأحاديث والآثار)

کہ آپکا بیٹا آپ کو سلام کہتا ہے۔

قَالَ: يَا كُلَيْبُ , إِنَّكَ أَعْلَمُ بِالْبَصْرَةِ مِنَّا-- قَالَ: اذْهَبْ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ وَقُلْ:يُقْرِئُكَ

ابْنُكَ مَالِكٌ السَّلَامَ 

مگر جواب میں امی عائشہؓ نے جواب دیا:

فَقَالَتْ: لَا سَلَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ , إِنَّهُ لَيْسَ بِابْنِي , (المصنف في الأحاديث والآثار)

اس پر سلامتی نہ ہو اور وہ میرا بیٹا نہیں ہے اور اونٹ لینے سے انکار کر دیا۔

امی عائشہؓ کیونکہ مؤمنین کی ماں تھیں پس ثابت ہو گیا کہ الاشتر النخعی ایک منافق انسان تھا۔ اس کیلئے دعا نہیں کی جاۓ گی۔

(نوٹ بعض جہلا منکر الحدیث نے یہاں بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر عبداللہ بن یونس پر جرح کرنے شروع کر دی، جبکہ عبداللہ بن یونس اس روایت کا راوی نہیں بلکہ پوری کی پوری مصنف کا مرکزی راوی ہے۔ اور مصنف ایک مشہور معروف کتاب ہے اس لیے اس کی سند پر اعتراض کرنے والا جرح اور تعدیل کے علم سے نابلد ہے۔) پھر بھی اگر کسی کو تکلیف ہے تو اسی اثر کی دوسری سند محمد بن جریر طبری سے موجود ہے۔

11: ام المؤمنین حضرت صفیہؓ کی توہین:

کنانہ جو امی صفیہؓ کے غلام تھے ان سے مروی ہے کہ:

2666 - حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، أَنَا زُهَيْرٌ، نَا كِنَانَةُ قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ لِتَرُدَّ عَنْ عُثْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَقِيَهَا الْأَشْتَرُ فَضَرَبَ وَجْهَ بَغْلَتِهَا حَتَّى مَالَتْ، فَقَالَتْ: " رُدُّونِي لَا يَفْضَحُنِي هَذَا الْكَلْبُ قَالَ: فَوَضَعْتُ خَشَبًا بَيْنَ مَنْزِلِهَا وَبَيْنَ مَنْزِلِ عُثْمَانَ، يَنْقُلُ عَلَيْهِ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ "

(مسند ابن الجعد)

حضرت عثمانؓ کے دفاع میں سیدہ صفیہؓ ایک خچر پر سوار ہو کر نکلیں، میں اُن کے خچر کو ہانک رہا تھا، راستہ میں الاشتر ملا ا س نے خچر کے منہ پر مارا یہاں تک کہ وہ مڑ گیا۔ اور امی صفیہؓ نے فرمایا:

فَقَالَتْ:  رُدُّونِي لَا يَفْضَحُنِي هَذَا الْكَلْبُ

مجھے واپس جانے دو تاکہ یہ کتا مجھے بےنقاب نہ کر دے۔

پھر میں نے سیدہ صفیہؓ اور عثمانؓ کے گھر کے درمیان لکڑی رکھ دی جس پر کھانا پینا لایا جاتا تھا۔

اس روایت کی سند بالکل صحیح اور رجال ثقہ ہیں۔

00-علي بن الجعد الجوهری، الكنيہ: أبو الحسن(ثقہ )

01- زهير بن معاويہ الجعفي، الكنيہ: أبو خيثمہ(ثقہ ثبت)

02-كنانة مولى صفیہ بنت حيی(ثقہ)

(نوٹ بعض جہلا نے کنانہ پر بلاوجہ جرح کرنے کی ناکام کوشش کی جبکہ اس کی توثیق کئی محدثین سے موجود ہے۔

1: حافظ ابن حجرؒ نے اس کو چوتھے طبقہ کا مقبول راوی قرار دیا اور چوتھے طبقہ کے بارےمیں مقدمہ میں لکھا ہے کہ اس میں شامل راوۃ ثقہ ہیں۔

2: امام عجلی نے اس کو ثقہ قرار دیا۔

3: نور الدین ہیثمی نے اس کو ثقہ قرار دیا۔

4: امام حاکمؒ نے کنانہ عن صفیہ سے مروی ایک روایت پر صحیح الاسناد کا حکم لگایا (اور ذہبی نے تلخیص میں موافقت کی ہوئی ہے۔)

5: کچھ جہلا نے ذہبی کے کلمہ وثق سے اسکی توثیق کا رد کرنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ وثق کا کلمہ ہر جگہ پر راوی کی توثیق کی نفی کیلئے استعمال نہیں ہوتا۔ اس پر بعد میں تفصیلی پوسٹ کی جائے گی 

12: امام اہلسنت امام احمد ابن حنبل سے انکی ثقہ شاگرد مھنی بن یحییٰ الشامی نے انکے منہج کو سمجھتے ہوئے الاشتر النخعی اور عبداللہ بن الکواء دونوں کے بارے میں سوال کیا تو امام احمد ابن حنبلؒ نے دونوں سے روایت حدیث لینے سے منع کر دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ الاشتر النخعی کا درجہ عبداللہ بن الکواء کی طرح ہے جو خوارجیوں کا سردار تھا۔

837 - وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: ثَنَا مُهَنَّى وَدَفَعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ سَمِعَ مُهَنَّى، قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ عَنْ مَالِكٍ الْأَشْتَرِ، يُرْوَى عَنْهُ الْحَدِيثَ؟ قَالَ: لَا، وَسَأَلْتُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْكَوَّاءِ؟ قَالَ: كُوفِيُّ , قُلْتُ: يُرْوَى عَنْهُ الْحَدِيثُ؟ قَالَ: لَا "(السنة للخلال)

12: امام ابو نعیم الاصبہانی متوفی 430ھ نے لکھا:

بعده على اسْتِخْلَاف عُثْمَان بن عَفَّان رَضِي الله عَنهُ وأرضاه، وَشهد لَهُ بهَا فِي غير مجْلِس مَعَ إخْبَاره أَنه وَأَصْحَابه عِنْد ظُهُور الْفِتْنَة على الْهدى وَأَن مخالفيه على ضلال، وَذَلِكَ عِنْد ظُهُور من حرم صُحْبَة رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم 

اور اس کے بعد عثمانؓ کی خلافت پر اللہ ان سے راضی اور خوش ہو۔ اور ان کے ساتھی فتنہ کے وقت ہدایت پر تھے، اور انکے مخالفین گمراہ تھے۔

قائدهم الأشتر فِي إخوانه من أهل الْجَهْل والغي من أهل الْكُوفَة من قبائل عبس أول قوم أَحْدَثُوا وانتهكوا حُرْمَة الْمَدِينَة وأحدثوا فِيهَا فباءوا بلعنة

رَسُول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ۔

(الإمامہ والرد على الرافضہ)

اور ان گمراہ کا سردار الاشتر النخعی اور اسکے ساتھی اہل جہل میں سے اور کوفہ کے غلط لوگوں میں سے تھے یعنی قبائل عبس وہ پہلے لوگ تھے جنہونے مدینہ کی حرمت کو پامال کیا اور اس میں بدعت جاری کی تو رسول اللہ کی ان پر لعنت ہوں۔

13- حضرت علیؓ کا عثمانؓ کے قاتلوں پر لعنت کرنا:

37757 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ

(مصنف ابن أبي شيبہ)

مصنف نے کلیب بن شھاب الجرمی ثقہ سے روایت نقل کی ہے۔ انہوں نے فرمایا:

قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ وَكَانَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ، قَالَ: مَا قَوْلُ صَاحِبِكَ فِي عُثْمَانَ؟(مصنف ابن أبي شيبہ)

محمد بن حاطب الجمحی صحابی رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ میری قوم کے لوگ عثمانؓ کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو حضرت علیؓ کے آس پاس کے لوگوں نے انہیں برا بھلا کہا تو حضرت علیؓ کی پیشانی پر ناپسندیدگی کا اظہار ہو رہا تھا۔

قَالَ: فَسَبَّهُ الَّذِينَ حَوْلَهُ , قَالَ: فَرَأَيْتُ جَبِينَ عَلِيٍّ يَرْشَحُ كَرَاهِيَةً لِمَا يَجِيئُونَ بِهِ (مصنف ابن أبی شيبہ)

پھر سیدنا علیؓ نے فرمایا:

قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ: أَخْبِرْهُمْ أَنَّ قَوْلِي فِي عُثْمَانَ أَحْسَنُ الْقَوْلِ، إِنَّ عُثْمَانَ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ(مصنف ابن أبی شيبہ)

تم عثمانؓ کے بارے میں میری سب سے اچھی بات ان لوگوں کو بتا دینا کہ وہ اہلِ ایمان میں سے تھا، نیک اعمال کرنے والا تھا، اللہ سے ڈرنے والے تھے، اور حسن سلوک کرنے والے اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

(وسند صحیح رجال ثقہ)

14- مصنف نے محمد بن حنیفہ سے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن عباس نے فرمایا: جنگ جمل کی شام مدینہ سے چیخ کی آواز سنی تو خبر آئی کہ ام المومنین عائشہؓ

37793- يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَجَدَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَاقِفَةً فِي الْمِرْبَدِ تَلْعَنُ قَتَلَةَ عُثْمَانَ

(المصنف في الأحاديث )

حضرت عثمانؓ کے قاتلوں پر لعنت کر رہی ہیں۔

تو حضرت علی نے فرمایا:

فَقَالَ عَلِيٌّ: لَعَنَ اللَّهُ قَتَلَةَ عُثْمَانَ فِي السَّهْلِ وَالْجَبَلِ وَالْبَرِّ وَالْبَحْرِ

(المصنف في الأحاديث )

لعنت ہو عثمان کے قاتلوں پر وہ چاہے نرم زمین میں ہوں، یا پہاڑوں میں خشکی میں ہوں یا تری میں۔

00- أبو بكر بن أبي شيبہ(ثقہ )

01-يزيد بن هارون الواسطی (ثقہ متقن)

02- سعد بن طارق الأشجعج،أبو مالك (ثقہ)

03-سالم بن أبي الجعد الأشجعی(ثقہ)

04- محمد بن الحنفيہ الہاشمی / ولد فی :8 / توفی فی: 73

پس ثابت ہو گیا کہ حضرت عثمانؓ مظلومانہ شہید کئے گئے، اور رسول اللہﷺ کی بشارت کے مطابق ان سے خلافت سے دستبرداری کا مطالبہ کرنے والے منافقین تھے۔ اور صحیح سند سے ثابت ہو گیا کہ ان منافقین کا سردار مالک بن حارث الاشتر النخعی تھا، اور وہی عثمان کے گھر کا محاصرہ کرنے والوں میں شامل تھا اور جب اس کو بصرہ کی خلافت نہیں ملی تو اس نے اپنے عمل کا خود اعتراف کر لیا کہ اسی کے لیے تو ہم (الاشتر اور اس کے شتونگڑوں) نے عثمان کا قتل کیا تھا۔

(نوٹ کس کو خیال گزرے کہ یہ تو علیؓ کا ساتھی تھا تو عرض ہے کہ یہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے علیؓ کے ساتھ چپکا ہوا تھا، مگر اندر سے یہ پکا منافق لعین، عثمانؓ کا قاتل تھا)