مالک بن حارث الاشتر النخعی (منافقین کا سردار) - ردِ رافضیت…

مالک بن حارث الاشتر النخعی (منافقین کا سردار)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 4

کیا اسی لئے  ہم نے اس بوڑھے (عثمانؓ)  کو قتل کیا تھا کہ یمن عبداللہ بن عباس کو دے دیا جائے، حجاز قثم بن عباس کو دے دیا جائے، بصرہ عبداللہ بن عباس کو اور کوفہ خود علیؓ اپنے لئے رکھ لیں۔

00- محمد بن جرير بن يزيد (ثقہ)

01-زياد بن أيوب الطوسی (ثقہ حافظ)

02-مصعب بن سلام التميمی(الصدق)

03-محمد بن سوقہ الغنوی (ثقہ)

04-عاصم بن كليب الجرمی (ثقہ)

05-كليب بن شهاب الجرمی (ثقہ)

05-حافظ ذہبی نے مالک بن الحارث الاشتر کے ترجمہ میں لکھا:

6: الأَشْتَرُ مَالِكُ بنُ الحَارِثِ النَّخَعِيُّ زَعِراً أَلَبَّ عَلَى عُثْمَانَ، وَقَاتَلَهُ، وَكَانَ ذَا فَصَاحَةٍ وَبَلاَغَةٍ.شَهِدَ صِفِّيْنَ   مَعَ عَلِيٍّ۔(سير أعلام النبلاء)

  بہتان لگا کر اس نے حضرت عثمانؓ کو قتل کردیا تھا، اور فصیح اور بلیغ تھا اور صفین میں علی کا ساتھی تھا۔

06-حافظ ابن حجرؒ نے ابن حبان کی کتاب الثقات سے نقل فرمایا:

وذكره بن حبان في الثقات قال شهد اليرموك فذهبت عينه يومئذ وكان رئيس قومه وكان ممن يسعى في الفتنة والب على عثمان وشهد حصره

(تهذيب التهذيب)

یعنی ابن حبان نے اس کا ذکر الثقات میں کر کے لکھا کہ یرموک میں یہ موجود تھا، اور اپنی قوم کے سرداروں میں سے تھا اور یہ وہ شخص تھا جس نے فتنہ کی سب سے زیادہ کوشش کی، اور عثمان کے خلاف فتنہ اور شر انگیزی پھیلانے والوں میں شامل تھا اور حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کرنے والوں میں یہ آدمی شامل تھا۔

07-حافظ ابن کثیرؒ نے تاریخ البدايہ والنهايہ میں لکھا:

ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنِّي مُرْتَحِلٌ غَدًا فَارْتَحِلُوا، وَلَا يَرْتَحِلُ مَعِي أَحَدٌ أَعَانَ عَلَى عُثْمَانَ بِشَيْءٍ مِنْ أُمُورِ النَّاسِ.

حضرت علیؓ نے فرمایا کہ کل میں کوچ کرنے والا ہوں، اور ہمارے ساتھ کوئی ایسا شخص کوچ نہ کرے جس نے حضرت عثمانؓ کے قتل میں لوگوں کی کچھ بھی مدد کی ہو۔

تو ابن کثیرؒ نے لکھا:

هَذَا اجْتَمَعَ مِنْ رُءُوسِهِمْ جَمَاعَةٌ ; كَالْأَشْتَرِ النَّخَعِيِّ، وَشُرَيْحِ بْنِ أَوْفَى، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبَأٍ، الْمَعْرُوفِ بِابْنِ السَّوْدَاءِ، وَسَالِمِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، وَعِلْبَاءَ بْنِ الْهَيْثَمِ، وَغَيْرِهِمْ فِي أَلْفَيْنِ وَخَمْسِمِائَةٍ وَلَيْسَ فِيهِمْ صَحَابِيٌّ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

روساء کی ایک جماعت جسمیں الاشتر النخعی، شریح بن اوفی، عبداللہ بن سبا، بابن السوداء، سالم بن ثعلبہ، غلاب بن الہیثم، اور اڑھائی ہزار آدمی جمع ہو گئے اور ان میں ایک بھی صحابہؓ نہیں تھا۔

اس کے بعد الاشتر نے کہا: 

فَقَالَ الْأَشْتَرُ: قَدْ عَرَفْنَا رَأْيَ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ فِينَا، وَأَمَّا رَأْيُ عَلِيٍّ فَلَمْ نَعْرِفُهُ

إِلَى الْيَوْمِ، فَإِنْ كَانَ قَدِ اصْطَلَحَ مَعَهُمْ فَإِنَّمَا اصْطَلَحُوا عَلَى دِمَائِنَا،

طلحہ اور زبیر کی رائے تو معلوم ہے، علی کی ہمارے بارے میں رائے کا پتہ نہیں چلا، اگر انہوں نے اُن کے ساتھ صلح کر لی ہے تو انہوں نے ہمارے خون پر صلح کی ہے۔

فَإِنْ كَانَ الْأَمْرُ هَكَذَا أَلْحَقْنَا عَلِيًّا بِعُثْمَانَ، فَرَضِيَ الْقَوْمُ مِنَّا بِالسُّكُوتِ.

اگر بات ایسی ہی ہے تو ہم حضرت علیؓ کو بھی حضرت عثمانؓ کے ساتھ ملا دے گے اور لوگ ہمارے ساتھ خاموشی اختیار کر کے راضی ہو جائیں گے۔

08۔ امی عائشہؓ نے حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو بددعا دیتے ہوئے اس میں مالک الاشتر کا بھی ذکر فرمایا:

133 -حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا حَزْمٌ،عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلِيقَ بْنَ خَشَّافٍ، يَقُولُ:------

امام طبرانی نے طلیق بن خشاف بن بکر سے نقل فرمایا کہ امی عائشہؓ سے پوچھا کہ عثمانؓ کو کیوں قتل کیا گیا: تو جواب دیا: 

يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فِيمَ قُتِلَ عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَتْ: «قُتِلَ وَاللهِ مَظْلُومًا، لَعَنَ اللهُ قَتَلَتَهُ،

پھر امی عائشہؓ نے فرمایا: وَسَاقَ اللهُ إِلَى الْأَشْتَرِ سَهْمًا مِنْ سِهَامِهِ

اللہ مالک الاشتر کی طرف اپنے تیروں میں سے ایک تیر بھیج یعنی اسے ہلاک کر دے۔ اور طلیق نے فرمایا:

فَوَاللهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ إِلَّا أَصَابَتْهُ دَعْوَتُهَا

(المعجم الكبير)

اللہ کی قسم لوگوں میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں جس پر امی کی بددعا نہیں پہنچی ہو۔

(علامہ ہیثمی نے لکھا رجال الصحیح غیر طلق وھو ثقہ)

00: سليمان بن أحمد، الطبرانی (حافظ ثبت)

01: الفضل بن الحباب الجمحی، أبو خليفہ ( ثقہ ثبت)

02: عبد الله بن عبد الوهاب الحجبی (ثقہ)

03: حزم بن ابی حزم القطعی (صدوق حسن الحديث)

04:  ظالم بن عمرو ،أبو الأسود الدؤلی (ثقہ)

05: طلق،طَلِيقَ  بن خشاف بن بكر

(ہیثمی نے کہا ثقہ، ذہبی نے اور ابن سعدؒ نے ان کو صحابیِ رسولﷺ قرار دیا ہے۔)

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ آپؒ نے فرمایا:

سَاقَ اللهُ إِلَى الْأَشْتَرِ سَهْمًا مِنْ سِهَامِهِ

ترجمہ: اور اے اللہ مالک اشتر سے بدلہ لے، اور اپنے تیروں میں سے خاص تیر بھیج کر اس کا کام تمام کر دے۔

(المعجم الكبير للطبرانی، جلد 1 صفحہ 88، رقم: 133)

9: حضرت عمرؓ اور الاشتر النخعی: علامہ قرطبی نے سورہ الحجرات 75 کی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی:

یعنی مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ علامہ ہیثمی نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔

اور قرطبی نے عمر بن خطابؓ کا اثر نقل کیا، جس کی سند

العلل ابن حنبل میں موجود ہے۔

540-قَالَ أبي فِي حَدِيث يزِيد بن زُرَيْع عَن شُعْبَة قَالَ أنبأني عَمْرو بن مرّة عَن عبد الله بن سَلمَة قَالَ دَخَلنَا على عمر معاشر وَفد مذْحج وَكنت من أقربهم مِنْهُ مَجْلِسا فَجعل عمر نظر إِلَى الأشتر وَيصرف بَصَره فَقَالَ لي أمنكم هَذَا قلت نعم يَا أَمِير الْمُؤمنِينَ قَالَ مَا لَهُ قَاتله الله كفى الله أمة مُحَمَّد شَره وَالله أَنِّي لأحسب أَن للْمُسلمين مِنْهُ يَوْمًا عصيبا

(العلل ومعرفہ الرجال)

صفحہ 2 از 4