مالک بن حارث الاشتر النخعی (منافقین کا سردار) - ردِ رافضیت…

مالک بن حارث الاشتر النخعی (منافقین کا سردار)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 4

یعنی حضرت عمر بن خطابؓ  مذحج کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے ان میں الاشتر بھی تھا، پس آپؓ نے اس میں نظر جمادی اور خوب غور سے دیکھا اور فرمایا: یہ کون ہے؟ انہونے کہا: یہ مالک بن حارث ہے۔ تو آپؓ نے فرمایا:ا سے کیا ہے اللہ اسے قتل کرے۔ بے شک میں مسلمانوں کے لیے اس کی طرف سے انتہائی سخت (تکلیف دہ) دن دیکھ رہا ہوں۔

علامہ قرطبی نے لکھا:

فَكَانَ مِنْهُ فِي الْفِتْنَةِ مَا كَانَ (تفسير القرطبی)

پھر اس کی طرف سے فتنہ میں وہی ہوا جو ہوا۔ (سند صحیح)

00: أحمد بن حنبل الشيبانی(ثقہ حافظ فقيہ حجہ)

01: يزيد بن زريع العيشی( ثقہ ثبت)

02: شعبہ بن الحجاج العتكی( ثقہ حافظ متقن عابد)

03: عمرو بن مرة المرادی (ثقہ)

04: عبد الله بن سلمہ المرادی (ثقہ، تغير فی آخر عمره)

اس صحیح اثر کی سند پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ عبداللہ سلمہ آخری عمر میں تغیر کا شکار ہو گے تھے۔ اس کا جواب ہے کہ جب عمرو بن مرہ ان سے روایت کرتے ہیں تو وہ تغیر سے قبل ہوتی ہے، نیز عمرو بن مرۃ عن عبداللہ بن سلمہ سے مروی سند کی توثیق 21 محدثین سے پوسٹ میں موجود ہے۔

10: ام المؤمنین عائشہؓ کی طرف جنگ جمل میں زخمی ہونے کے بعد الاشتر النخعی نے اونٹ کا تحفہ کلیب کے ہاتھوں بھیجا اور سلام عرض کروایا۔

37757 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ

(المصنف في الأحاديث والآثار)

کہ آپکا بیٹا آپ کو سلام کہتا ہے۔

قَالَ: يَا كُلَيْبُ , إِنَّكَ أَعْلَمُ بِالْبَصْرَةِ مِنَّا-- قَالَ: اذْهَبْ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ وَقُلْ:يُقْرِئُكَ

ابْنُكَ مَالِكٌ السَّلَامَ 

مگر جواب میں امی عائشہؓ نے جواب دیا:

فَقَالَتْ: لَا سَلَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ , إِنَّهُ لَيْسَ بِابْنِي , (المصنف في الأحاديث والآثار)

اس پر سلامتی نہ ہو اور وہ میرا بیٹا نہیں ہے اور اونٹ لینے سے انکار کر دیا۔

امی عائشہؓ کیونکہ مؤمنین کی ماں تھیں پس ثابت ہو گیا کہ الاشتر النخعی ایک منافق انسان تھا۔ اس کیلئے دعا نہیں کی جاۓ گی۔

(نوٹ بعض جہلا منکر الحدیث نے یہاں بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر عبداللہ بن یونس پر جرح کرنے شروع کر دی، جبکہ عبداللہ بن یونس اس روایت کا راوی نہیں بلکہ پوری کی پوری مصنف کا مرکزی راوی ہے۔ اور مصنف ایک مشہور معروف کتاب ہے اس لیے اس کی سند پر اعتراض کرنے والا جرح اور تعدیل کے علم سے نابلد ہے۔) پھر بھی اگر کسی کو تکلیف ہے تو اسی اثر کی دوسری سند محمد بن جریر طبری سے موجود ہے۔

11: ام المؤمنین حضرت صفیہؓ کی توہین:

کنانہ جو امی صفیہؓ کے غلام تھے ان سے مروی ہے کہ:

2666 - حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، أَنَا زُهَيْرٌ، نَا كِنَانَةُ قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ لِتَرُدَّ عَنْ عُثْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَقِيَهَا الْأَشْتَرُ فَضَرَبَ وَجْهَ بَغْلَتِهَا حَتَّى مَالَتْ، فَقَالَتْ: " رُدُّونِي لَا يَفْضَحُنِي هَذَا الْكَلْبُ قَالَ: فَوَضَعْتُ خَشَبًا بَيْنَ مَنْزِلِهَا وَبَيْنَ مَنْزِلِ عُثْمَانَ، يَنْقُلُ عَلَيْهِ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ "

(مسند ابن الجعد)

حضرت عثمانؓ کے دفاع میں سیدہ صفیہؓ ایک خچر پر سوار ہو کر نکلیں، میں اُن کے خچر کو ہانک رہا تھا، راستہ میں الاشتر ملا ا س نے خچر کے منہ پر مارا یہاں تک کہ وہ مڑ گیا۔ اور امی صفیہؓ نے فرمایا:

فَقَالَتْ:  رُدُّونِي لَا يَفْضَحُنِي هَذَا الْكَلْبُ

مجھے واپس جانے دو تاکہ یہ کتا مجھے بےنقاب نہ کر دے۔

پھر میں نے سیدہ صفیہؓ اور عثمانؓ کے گھر کے درمیان لکڑی رکھ دی جس پر کھانا پینا لایا جاتا تھا۔

اس روایت کی سند بالکل صحیح اور رجال ثقہ ہیں۔

00-علي بن الجعد الجوهری، الكنيہ: أبو الحسن(ثقہ )

01- زهير بن معاويہ الجعفي، الكنيہ: أبو خيثمہ(ثقہ ثبت)

02-كنانة مولى صفیہ بنت حيی(ثقہ)

(نوٹ بعض جہلا نے کنانہ پر بلاوجہ جرح کرنے کی ناکام کوشش کی جبکہ اس کی توثیق کئی محدثین سے موجود ہے۔

1: حافظ ابن حجرؒ نے اس کو چوتھے طبقہ کا مقبول راوی قرار دیا اور چوتھے طبقہ کے بارےمیں مقدمہ میں لکھا ہے کہ اس میں شامل راوۃ ثقہ ہیں۔

2: امام عجلی نے اس کو ثقہ قرار دیا۔

3: نور الدین ہیثمی نے اس کو ثقہ قرار دیا۔

4: امام حاکمؒ نے کنانہ عن صفیہ سے مروی ایک روایت پر صحیح الاسناد کا حکم لگایا (اور ذہبی نے تلخیص میں موافقت کی ہوئی ہے۔)

5: کچھ جہلا نے ذہبی کے کلمہ وثق سے اسکی توثیق کا رد کرنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ وثق کا کلمہ ہر جگہ پر راوی کی توثیق کی نفی کیلئے استعمال نہیں ہوتا۔ اس پر بعد میں تفصیلی پوسٹ کی جائے گی 

12: امام اہلسنت امام احمد ابن حنبل سے انکی ثقہ شاگرد مھنی بن یحییٰ الشامی نے انکے منہج کو سمجھتے ہوئے الاشتر النخعی اور عبداللہ بن الکواء دونوں کے بارے میں سوال کیا تو امام احمد ابن حنبلؒ نے دونوں سے روایت حدیث لینے سے منع کر دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ الاشتر النخعی کا درجہ عبداللہ بن الکواء کی طرح ہے جو خوارجیوں کا سردار تھا۔

837 - وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: ثَنَا مُهَنَّى وَدَفَعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ سَمِعَ مُهَنَّى، قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ عَنْ مَالِكٍ الْأَشْتَرِ، يُرْوَى عَنْهُ الْحَدِيثَ؟ قَالَ: لَا، وَسَأَلْتُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْكَوَّاءِ؟ قَالَ: كُوفِيُّ , قُلْتُ: يُرْوَى عَنْهُ الْحَدِيثُ؟ قَالَ: لَا "(السنة للخلال)

12: امام ابو نعیم الاصبہانی متوفی 430ھ نے لکھا:

بعده على اسْتِخْلَاف عُثْمَان بن عَفَّان رَضِي الله عَنهُ وأرضاه، وَشهد لَهُ بهَا فِي غير مجْلِس مَعَ إخْبَاره أَنه وَأَصْحَابه عِنْد ظُهُور الْفِتْنَة على الْهدى وَأَن مخالفيه على ضلال، وَذَلِكَ عِنْد ظُهُور من حرم صُحْبَة رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم 

اور اس کے بعد عثمانؓ کی خلافت پر اللہ ان سے راضی اور خوش ہو۔ اور ان کے ساتھی فتنہ کے وقت ہدایت پر تھے، اور انکے مخالفین گمراہ تھے۔

صفحہ 3 از 4