مالک بن حارث الاشتر النخعی (منافقین کا سردار) - ردِ رافضیت…

مالک بن حارث الاشتر النخعی (منافقین کا سردار)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 4

قائدهم الأشتر فِي إخوانه من أهل الْجَهْل والغي من أهل الْكُوفَة من قبائل عبس أول قوم أَحْدَثُوا وانتهكوا حُرْمَة الْمَدِينَة وأحدثوا فِيهَا فباءوا بلعنة

رَسُول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ۔

(الإمامہ والرد على الرافضہ)

اور ان گمراہ کا سردار الاشتر النخعی اور اسکے ساتھی اہل جہل میں سے اور کوفہ کے غلط لوگوں میں سے تھے یعنی قبائل عبس وہ پہلے لوگ تھے جنہونے مدینہ کی حرمت کو پامال کیا اور اس میں بدعت جاری کی تو رسول اللہ کی ان پر لعنت ہوں۔

13- حضرت علیؓ کا عثمانؓ کے قاتلوں پر لعنت کرنا:

37757 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ

(مصنف ابن أبي شيبہ)

مصنف نے کلیب بن شھاب الجرمی ثقہ سے روایت نقل کی ہے۔ انہوں نے فرمایا:

قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ وَكَانَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ، قَالَ: مَا قَوْلُ صَاحِبِكَ فِي عُثْمَانَ؟(مصنف ابن أبي شيبہ)

محمد بن حاطب الجمحی صحابی رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ میری قوم کے لوگ عثمانؓ کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو حضرت علیؓ کے آس پاس کے لوگوں نے انہیں برا بھلا کہا تو حضرت علیؓ کی پیشانی پر ناپسندیدگی کا اظہار ہو رہا تھا۔

قَالَ: فَسَبَّهُ الَّذِينَ حَوْلَهُ , قَالَ: فَرَأَيْتُ جَبِينَ عَلِيٍّ يَرْشَحُ كَرَاهِيَةً لِمَا يَجِيئُونَ بِهِ (مصنف ابن أبی شيبہ)

پھر سیدنا علیؓ نے فرمایا:

قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ: أَخْبِرْهُمْ أَنَّ قَوْلِي فِي عُثْمَانَ أَحْسَنُ الْقَوْلِ، إِنَّ عُثْمَانَ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ(مصنف ابن أبی شيبہ)

تم عثمانؓ کے بارے میں میری سب سے اچھی بات ان لوگوں کو بتا دینا کہ وہ اہلِ ایمان میں سے تھا، نیک اعمال کرنے والا تھا، اللہ سے ڈرنے والے تھے، اور حسن سلوک کرنے والے اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

(وسند صحیح رجال ثقہ)

14- مصنف نے محمد بن حنیفہ سے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن عباس نے فرمایا: جنگ جمل کی شام مدینہ سے چیخ کی آواز سنی تو خبر آئی کہ ام المومنین عائشہؓ

37793- يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَجَدَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَاقِفَةً فِي الْمِرْبَدِ تَلْعَنُ قَتَلَةَ عُثْمَانَ

(المصنف في الأحاديث )

حضرت عثمانؓ کے قاتلوں پر لعنت کر رہی ہیں۔

تو حضرت علی نے فرمایا:

فَقَالَ عَلِيٌّ: لَعَنَ اللَّهُ قَتَلَةَ عُثْمَانَ فِي السَّهْلِ وَالْجَبَلِ وَالْبَرِّ وَالْبَحْرِ

(المصنف في الأحاديث )

لعنت ہو عثمان کے قاتلوں پر وہ چاہے نرم زمین میں ہوں، یا پہاڑوں میں خشکی میں ہوں یا تری میں۔

00- أبو بكر بن أبي شيبہ(ثقہ )

01-يزيد بن هارون الواسطی (ثقہ متقن)

02- سعد بن طارق الأشجعج،أبو مالك (ثقہ)

03-سالم بن أبي الجعد الأشجعی(ثقہ)

04- محمد بن الحنفيہ الہاشمی / ولد فی :8 / توفی فی: 73

پس ثابت ہو گیا کہ حضرت عثمانؓ مظلومانہ شہید کئے گئے، اور رسول اللہﷺ کی بشارت کے مطابق ان سے خلافت سے دستبرداری کا مطالبہ کرنے والے منافقین تھے۔ اور صحیح سند سے ثابت ہو گیا کہ ان منافقین کا سردار مالک بن حارث الاشتر النخعی تھا، اور وہی عثمان کے گھر کا محاصرہ کرنے والوں میں شامل تھا اور جب اس کو بصرہ کی خلافت نہیں ملی تو اس نے اپنے عمل کا خود اعتراف کر لیا کہ اسی کے لیے تو ہم (الاشتر اور اس کے شتونگڑوں) نے عثمان کا قتل کیا تھا۔

(نوٹ کس کو خیال گزرے کہ یہ تو علیؓ کا ساتھی تھا تو عرض ہے کہ یہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے علیؓ کے ساتھ چپکا ہوا تھا، مگر اندر سے یہ پکا منافق لعین، عثمانؓ کا قاتل تھا)




صفحہ 4 از 4