رسول اللہﷺ کی دائمی صحبت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

رسول اللہﷺ کی دائمی صحبت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

رسول اللہﷺ کی دائمی صحبت

سیّدنا عمرؓ باشندگان مکہ کے ان افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے اَن پڑھ معاشرہ میں لکھنا پڑھنا سیکھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بچپن ہی سے آپ کو علم سے والہانہ لگاؤ تھا اور آپ کی کوشش تھی کہ ان منتخب افراد میں سے ہو جائیں جنہوں نے اپنی اُمیت (ناخواندگی) کو مٹا دیا، نفوس کو مہذب بنا لیا اور مختلف عوامل واسباب کی وجہ سے زمانۂ رسالت میں ایک اونچا مقام حاصل کر لیا۔ ان عوامل میں سے ایک چیز یہ بھی تھی کہ آپ پڑھنے لکھنے پر خصوصی توجہ دیتے اور اس وقت اس کی بڑی اہمیت تھی۔ سیّدنا عمرؓ نے پڑھنا لکھنا اور ابتدائی تعلیم حرب بن امیہ یعنی ابوسفیان کے والد سے حاصل کی ۔

 (تفسیر ابن کثیر: جلد، 4 صفحہ، 537 )

پڑھنے لکھنے کی اسی خصوصیت نے آپ کو اس قابل بنا دیا کہ اس وقت آپ قوم کی تہذیب و ثقافت سے آراستہ ہو جائیں۔ اگرچہ ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ کی شخصیت کو نکھارنے، صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، کردار کو نمایاں کرنے اور نفس کو مہذب بنانے کا سب سے بڑا محرک آپﷺ کی دائمی صحبت اور تعلیم گاہ نبوتﷺ سے فیض یاب ہونا تھا۔ بایں طور کہ آپ اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ ساتھ رہے۔ اسی طرح جب آپﷺ مدینہ میں عوالی … مدینۃ النّبی سے متصل علاقہ … میں قیام پذیر ہوئے تو وہاں بھی آپﷺ کی معیت میں رہے۔ عوالی کا یہ علاقہ موجودہ دور میں مسجد نبوی سے متصل ہے۔ کیونکہ آبادی بڑھ گئی ہے اور شہر مدینہ کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے، اور گرد وپیش کے علاقوں کو شامل ہو گیا ہے۔ غرض یہ کہ اسی علاقہ میں سیدنا عمرؓ نے خود کو منظم کیا اور علوم و معارف سیکھنے کے لیے پوری انسانیت کے معلم و ہادی کے سامنے تعلیم گاہ نبوت میں زانوئے تلمذ تہ کرنے کے حریص ہوئے۔ ایسا ہادی اور معلم جسے اس کے ربّ نے تعلیم و تربیت دی تھی۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ سے قرآن، حدیث یا کسی معاملہ، واقعہ اور ارشاد و رہنمائی سے متعلق کوئی بھی تعلیمِ نبوی کا پند نہیں چھوٹتا تھا۔

عمرؓ کا بیان ہے: میں اور بنو امیہ بن زید کا میرا ایک انصاری پڑوسی، ہم دونوں رسول اللہﷺ کے پاس باری باری آتے تھے، ایک دن وہ آتا اور ایک دن میں آتا۔ جب میں آتا تو اس دن کی وحی وغیرہ کی خبریں لاتا، اور جب وہ آتا تو وہ بھی اسی طرح کرتا۔ 

(تفسیر ابن کثیر: جلد، 4 صفحہ، 524 )

یہ روایت ہمیں اس شرعی چشمۂ فیضان کی خبر دیتی ہے جس سے سیدنا عمرؓ نے اپنے علم، تربیت اور ثقافت کی آبیاری کی، یعنی وہ چشمۂ ہدایت اللہ عزوجل کی کتاب ہے، جو واقعات و حوادث کے مطابق تدریجاً رفتہ رفتہ رسول اللہﷺ پر نازل ہوتا تھا اور آپﷺ اسے اپنے صحابہؓ کو پڑھ کر سناتے تھے، انہوں نے اس کے معانی کو یاد کیا، فہم و بصیرت میں گیرائی سے کام لیا اور اس کی بنیادی تعلیمات سے متاثر ہوئے۔ پس اس فہم و بصیرت کا ان کی ذات، دل ودماغ اور روح پر گہرا اثر تھا۔ چنانچہ سیدنا عمرؓ ان لوگوں میں سے ایک تھے جو تعلیم و تربیت کے میدان میں قرآنی منہج و فکر سے ہم آہنگ ہوئے۔ سیدنا عمرؓ کی تاریخ اور آپ کے حیات و کارناموں کو پڑھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اس صاف و شفاف فیضانِ الہٰی پر تھوڑی دیر ٹھہر کر غور کرے جس نے صلاحیتوں کو نمو بخشی، عبقری ہستیوں کو نکھارا اور قوم کی ثقافت کو ترقی عطا کی، اس فیضانِ الہٰی سے میری مراد قرآنِ مجید ہے۔

سیّدنا عمرؓ اسلام لانے کے بعد ہی سے حفظ قرآن اور اس کے معانی ومفاہیم پر غور وتدبر کرنے کے حریص تھے اور آپﷺ کی معیت میں رہتے، جو آیات آپﷺ پر نازل ہوتیں انہیں آپ سیکھ لیتے، اس طرح آپ نے تمام آیات اور سورتوں کو حفظ کر لیا۔ آپ کو بعض آیات رسول اللہﷺ نے پڑھائیں اور آپ ان آیات کو قرأت نبوی کی روایت پر ہی پڑھنے کے حریص رہے۔

(عمر بن الخطاب: د/ محمد أحمد أبوالنصر: صفحہ، 87)

آپ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ بعض آیات کے نزول کے فوراً بعد سب سے پہلے ان آیات کو آپ ہی نے سنا، اپنے محفوظات (یادداشت) کے بارے میں آپﷺ سے سمجھنے کی کوشش کی۔

خلاصہ یہ کہ سیدنا عمرؓ نے قرآنی منہج پر تربیت پائی اور رسول اللہﷺ آپ کے مربی تھے۔ آپﷺ سے سیدنا عمرؓ کی اوّل ملاقات ہی قرآنی تربیت کا آغاز ہے۔ اس ملاقات کے بعد آپ کی زندگی میں بالکل انوکھی تبدیلی ہوئی اور یکایک ہدایت سے سرفراز ہوئے، تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکل آئے، ایمان کو گلے لگایا اور کفر کو روند دیا۔ اپنے نئے دین اور آسان عقیدہ کے لیے اس راستہ کی تمام مشقتوں اور مشکلات کو برداشت کرنے کے عادی ہوگئے۔ دراصل رسول اللہﷺ کی شخصیت ہی آپ کے اسلام لانے کا اصل محرک تھی، کیونکہ آپﷺ کی شخصیت میں جاذبیت اور دوسروں پر اثر انداز ہونے کی قوت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو اپنی آنکھوں کے سامنے بنایا تھا اور عظمت سے ہمیشہ محبت کی جاتی ہے، لوگ اسے پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور پسندیدگی و محبت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اس سے چمٹ جاتے ہیں۔ رسول اللہﷺ کی مذکورہ عظمتوں کے ساتھ ایک بڑی عظمت یہ ہے کہ آپ اللہ کے رسول اور اس کی طرف سے وحی کے حامل اور لوگوں تک اسے پہنچانے والے ہیں۔ مرد مومن کے وجدان و شعور کو آپ کی طرف مائل کرنے میں اس کا بڑا گہرا اثر ہے۔

وہ صرف آپ کی ذات کی بنیاد پر آپ سے محبت نہیں کرتا، جس طرح کہ دیگر اکابرین سے محبت کی جاتی ہے، بلکہ ساتھ ہی اس فیضِ ربانی کا تصور بھی کار فرما ہوتا ہے جو اللہ کی طرف سے آپ کی ذات کو شامل ہے۔ پس وہ آپ کے ساتھ وحیِ الہٰی کی موجودگی میں فیضانِ الہٰی سے مستفید ہوتا ہے، آپﷺ کی شخصیت میں عظیم انسان اور عظیم رسول اکٹھا ہو جاتے ہیں۔ پھر آخر میں دونوں اس طرح ایک ہو جاتے ہیں کہ جس کی ابتداء اور انتہا کی کوئی تمیز نہیں ہوتی۔ ایک گہری محبت ہوتی ہے جو رسول بشر، یا بشر رسول کو شامل ہوتی ہے اور اللہ کی محبت اس کے رسول کی محبت سے مربوط ہوتی ہے، اور وہ دونوں محبتیں ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں، پھر وہی دونوں محبتیں اس مومن کے تمام تر احساسات و جذبات کی بنیاد اور شعور و کردار کی تمام حرکتوں کا محور قرار پاتی ہیں۔

صفحہ 1 از 3