رسول اللہﷺ کی دائمی صحبت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

رسول اللہﷺ کی دائمی صحبت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

یہی محبت جس نے صحابہؓ کے پہلے ہر اول دستے کو متحرک کیا، یہی اسلامی تربیت کی کنجی، نقطۂ ارتکاز اور محور ہے۔ 

(عمر بن الخطاب: د/ محمد أحمد أبوالنصر: صفحہ، 88)

نبی کریمﷺ کی صحبت وتربیت کی برکت سے صحابہ کرام کو اعلیٰ ایمانی کردار میسر آیا۔اس تزکیہ وتربیت کے بارے میں سید قطب فرماتے ہیں:

’’وہ تزکیہ نفس تھا، ان خامیوں کی تطہیر تھی جن کی بنا پر آپﷺ ان کی گرفت کرتے تھے۔ ضمیر و شعور اور عمل وکردار کی تطہیر تھی، ازدواجی اور اجتماعی زندگی کی تطہیر تھی، وہ ایسی تطہیر و تربیت تھی جس کی وجہ سے انسانی نفوس مشرکانہ عقائد کی پستیوں سے عقیدۂ توحید کی بلندیوں، باطل تصورات سے صحیح عقائد اور پیچیدہ خرافات سے واضح یقین تک پہنچتے ہیں۔ اخلاقی بے راہ روی کی نجاستوں سے نکل کر ایمانی اخلاق اور سود و رشوت کی آلائشوں سے بچ کر پاک کمائی کی طرف پرواز کرتے ہیں۔ یہ وہ تزکیہ وتربیت ہے جو فرد، جماعت اور انفرادی واجتماعی زندگی کو شامل ہے۔ ایسا تزکیہ وتربیت جو انسا ن اور اس کے خیالات و تصورات کو دنیا کی ہر چیز یہاں تک کہ خود اس کی ذات اور حیات کو بھلا کر اسے نور کے افق تک پہنچا دیتا ہے جہاں پہنچ کر انسان اپنے ربّ سے مل جاتا ہے اور مکرم و معزز فرشتوں سے معاملہ کرتا ہے‘‘

جناب سیدنا عمرؓ نے رسول اللہﷺ سے شرف تلمذ حاصل کیا، آپ سے قرآن کریم، سنّتِ نبوی، احکام تلاوت اور تزکیۂ نفس کے اسباق سیکھے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ۞

(سورۃ آل عمران، آیت، 164)

بلاشبہ یقیناً اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا جب اس نے ان میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان پر اس کی آیات پڑھتا اور انھیں پاک کرتا اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔ ‘‘

آپ اسوۂ نبویﷺ میں غوطہ زن رہنے کے بہت حریص تھے، خواہ آپﷺ غزوہ کی حالت میں ہوں یا امن کی حالت میں۔ اس طرح سیدنا عمرؓ سنت نبویہﷺ مطہرہ کے بارے میں وسیع علم اور گہری معرفت کے مالک بن گئے۔ یہ معرفت آپ کی شخصیت اور تفقہ کو پروان چڑھانے میں کافی اثر انداز ہوئی۔ آپ رسول اللہﷺ کے ساتھ رہے، آپ سے اسلامی شریعت کو سنا اور یاد کیا، جب مجلسِ نبوت میں تشریف لے جاتے تو مجلس ختم ہونے تک وہاں موجود رہتے۔ آپ کی ہمیشہ کوشش ہوتی تھی کہ جو بات بھی دل میں کھٹکے، یا اسے پریشان کرے اس کے بارے میں آپﷺ سے دریافت کر لیں۔ 

(عمر بن الخطاب: د/ محمد أحمد أبوالنصر: صفحہ، 88)

آپ نے علم، تربیت اور دین عظیم یعنی اسلام کے مقاصد کی معرفت کے لیے رسول اللہﷺ سے فیض اٹھایا اور خود رسول اللہﷺ نے بھی آپ کی خصوصی نگہداشت کی، انہیں اپنا فیض پہنچایا اور ان کے لیے علم کی گواہی دی۔ 

ارشادِ نبویﷺ ہے:

بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ شَرِبْتُ یَعْنِیْ اللَّبَنَ حَتَّی أَنْظُرَ إِلَی الرَّیِّ یَجْرِیْ فِیْ ظُفْرِیْ أَوْفِیْ أَلْجَفَارِیْ۔ ثُمَّ نَاوَلْتُ عُمَرَ۔ قَالُوْا: فَمَا أَوَّلْتَہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: اَلْعِلْمَ۔ 

(عمر بن الخطاب: د/ محمد أحمد أبوالنصر: صفحہ، 88)

’میں نے خواب میں دودھ پیا، اتنا پیا، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ (اس کی) تروتازگی میرے ناخن یا ناخنوں کے نیچے سے نکل رہی ہے۔ پھر میں نے پیالہ عمر کو دے دیا۔ صحابہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کی کیا تاویل ہے؟ آپ نے فرمایا: علم۔‘‘

حافظ ابنِ حجر کا قول ہے کہ یہاں علم سے مراد قرآن وسنت کی روشنی میں لوگوں پر سیاست کرنے کا علم ہے۔ 

درحقیقت یہ معرفت اسی کو حاصل ہوسکتی ہے جو قرآنِ کریم اور سنت نبویﷺ کے سمجھنے کے معاون اسباب و وسائل پر گہری نظر رکھتا ہو، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ زبان و ادب کے سمجھنے کا قوی ملکہ ہو، اس کے اسلوب کی معرفت پر مہارت ہو، بلکہ ہر وہ تجربہ اور علم جو شریعت فہمی کے لیے معاون ثابت ہو اسے حاصل کیا جائے۔ سیدنا عمرؓ ان تمام خصوصیات کے مالک تھے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمرؓ کے درمیان والہانہ لگاؤ تھا اور استاد و شاگرد کے درمیان منفرد نوعیت کی علمی فضا تیار کرنے میں ایسے ہی لگاؤ کا اہم کردار ہوتا ہے اور پھر نئی نئی معلومات کی وجہ سے علمی و ثقافتی نتائج کی خوبیاں وبھلائیاں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے رسول اللہﷺ سے بہت محبت کی، آپﷺ کے گرویدہ رہے اور خود کو آپﷺ کے وجود اور آپ کی دعوت کی نشر و اشاعت کے راستہ میں قربان کرنے کے لیے تیار رہے۔ حدیث میں وارد ہے۔

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ

(عمر بن الخطاب: د/ محمد أبوالنصر: صفحہ، 91)

ترجمہ: تم میں کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔‘‘

سیدنا عمرؓ نے یہ سن کر فرمایا:

اے اللہ کے رسول! آپ میرے نزدیک میری جان کے علاوہ بقیہ تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہیں۔

آپﷺ نے فرمایا:

اے عمر! (ایمان مکمل) نہیں، یہاں تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ آپ نے فرمایا: اب آپ میری جان سے بھی زیادہ مجھے محبوب ہیں۔

آپﷺ نے فرمایا: اب (ایمان مکمل ہوا) اے عمر۔ 

(صحیح البخاری: حدیث، 3681)

سیدنا عمرؓ نے ایک دن آپﷺ سے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی، تو آپﷺ نے فرمایا 

لَا تَنْسَایَا أَخَیَّ دُعَائِکَ۔

(فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 36)

ترجمہ: ’’اے میرے بھائی! اپنی دعا میں ہمیں نہ بھولنا۔‘‘

تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا:’’میں نے نہیں پسند کیا کہ دنیا کی کوئی چیز میرے نزدیک آپﷺ کے فرمان ۔ اے میرے بھائی!۔ سے زیادہ پسندیدہ ہو۔‘‘

(عمر بن الخطاب: د/ محمد أبوالنصر: صفحہ، 93)

صفحہ 2 از 3