احادیث نبویہ جن میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی…

احادیث نبویہ جن میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

جب میں نے بیان کیا تو سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے تمام باتوں کی تصدیق کی، کسی بات پر نکیر نہ کی صرف اتنا کہا

کیا ام المؤمنین نے حضرت عباسؓ کے ساتھ دوسرے شخص جو تھے ان کا نام لیا ہے؟

میں نے کہا نہیں۔

تو فرمایا وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ 

(البخاری: 687، مسلم: صفحہ، 418 عقیدہ اہلِ السنۃ و الجماعۃ فی الصحابۃ: جلد، 2 صفحہ، 542)

حدیث بہت سے عظیم فوائد پر مشتمل ہے۔ من جملہ ان فوائد کے یہ ہے

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور دیگر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر آپؓ کی ترجیح و تفضیل اور یہ کہ دوسروں کے مقابلہ میں آپؓ خلافت کے زیادہ حق دار ہیں۔

امام کو جب کوئی عذر لاحق ہو جائے کہ وہ جماعت میں شریک نہ ہو سکے تو دوسرے کو نیابت سونپ دے اور جس کو نائب بنائے وہ ان میں سب سے افضل ہو۔

سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد سيدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت و بزرگی کیونکر حضرت ابوبکرؓ نے آپؓ کو امامت کی پیشکش کی، کسی دوسرے کو نہیں کہا۔

(شرح النووی: جلد، 4 صفحہ، 137)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کی وفات ہو گئی تو انصار نے کہا

ہم میں سے ایک امیر ہو اور آپؓ (مہاجرین) میں سے ایک امیر ہو۔

سیدنا عمرؓ ان کے پاس پہنچے اور کہا اے انصار! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ کو لوگوں کی امامت کا حکم دیا ہے؟ تو تم میں سے کون گوارا کرے گا کہ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھے؟

انصار نے جواباً عرض کیا اس بات سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوبکرؓ سے آگے بڑھیں۔

(المستدرک للحاکم: جلد، 3 صفحہ، 67)

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب نبی کریمﷺ وفات پا گئے تو ہم نے اپنے معاملہ (خلافت) میں غور کیا، تو ہم نے پایا کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ کو نماز کی امامت کے لیے آگے بڑھایا، تو جس کو رسول اللہﷺ نے ہمارے دین کے لیے پسند فرمایا اس کو ہم نے اپنی دنیا کے لیے پسند کر لیا اور منصبِ خلافت کے لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھاتے ہیں۔

(الطبقات لابن سعد: جلد، 3 صفحہ، 183)

رسول اللہﷺ کا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز کے لیے آگے بڑھانے پر گفتگو کرتے ہوئے امام ابوالحسن اشعریؒ فرماتے ہیں رسول اللہﷺ کا حضرت ابوبکرؓ کو نماز کے لیے آگے بڑھانا دین اسلام کی ان چیزوں میں سے ہے جن کا جاننا از حد ضروری ہے اور آپؓ کا نماز کے لیے آگے بڑھایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپؓ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سب سے اعلم و اقرأ ہیں، کیونکہ متفق علیہ حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

یؤمُّ القوم أقرؤہم لکتاب اللہ فان کانوا فی القراء ۃ سواء فاعلمہم بالسنۃ فان کانوا فی السنۃ سواء فاکبرہم سنا فان کانوا فی السِّنِّ سوائٌ فأقدمہم سلاما۔

ترجمہ: لوگوں کی امامت وہ کرائے جو کتاب اللہ کا بڑا حافظ ہو، اگر حفظ قرآن میں برابر ہوں تو وہ امامت کرائے جو سنت کا بڑا عالم ہو، اور اگر سنت کے علم میں برابر ہوں تو وہ امامت کرائے جو عمر میں بڑا ہو، اور اور اگر عمر میں برابر ہوں تو وہ امامت کرائے جو اسلام میں مقدم ہو۔

حافظ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں امام اشعریؒ کا یہ کلام آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے اور پھر یہ تمام صفات سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے یہاں اکٹھی تھیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 5 صفحہ، 245)

حضرت ابوبکرؓ کی امامت و خلافت نص خفی سے ثابت ہے یا نص جلی سے؟ علمائے اہلِ سنت کے دو قول ہیں۔ پہلا قول یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت نص خفی اور اشارۃ النص سے ثابت ہے۔ یہ قول امام حسن بصریؒ اور اہلِ الحدیث کی ایک جماعت کی طرف منسوب ہے۔

(منہاج السنۃ، لابن تیمیہ: جلد، 1 صفحہ، 134/135)

یہی ایک روایت امام احمد بن حنبلؒ سے ہے۔

(منہاج السنۃ، لابن تیمیۃ: جلد، 1 صفحہ، 134)

 ان حضرات کا استدلال ہے کہ مرض الموت میں رسول اللہﷺ نے آپؓ کو امامت صلاۃ کے لیے آگے بڑھایا اور مسجد میں کھلنے والے تمام دروازوں کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازہ کے علاؤہ بند کرنے کا حکم فرمایا۔ اس سے آپؓ کی امامت و خلافت کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کی امامت و خلافت نص جلی سے ثابت ہے اور یہ اہلِ الحدیث کے ایک گروہ کا قول ہے۔

(عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ: جلد، 2 صفحہ، 547)

اور امام ابنِ حزم ظاہریؒ بھی اسی کے قائل ہیں۔ 

(الفصل فی الملل والاہواء والنِّحل: جلد، 4 صفحہ، 107)

ان لوگوں کا استدلال اس خاتون کی روایت سے ہے جس کو رسول اللہﷺ نے کہا تھا

ان لم تجدینی فاتی ابابکر

ترجمہ: اگر مجھے نہ پانا تو ابوبکر کے پاس جانا۔

(مسلم: جلد، 4 صفحہ، 1856/1857)

اس حدیث سے ہے جس میں رسول اللہﷺ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا تھا۔

ادعی لی ابابکر واخاک حتی أکتب کتابا فانی اخاف ان یتمنی متمن ویقول قائل انا اولی، ویابی اللہ والمومنون الا ابابکر۔

(مسلم: جلد، 4 صفحہ، 1857/2387)

تم میرے پاس سیدنا ابوبکرؓ اور اپنے بھائی کو بلاؤ، میں ان کے لیے ایک عہد نامہ لکھ دوں کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کہنے والا کہے کہ میں (خلافت) کا زیادہ حقدار ہوں حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اہلِ ایمان صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو چاہتے ہیں۔ اور اسی طرح اس حدیث سے ہے جس میں رسول اللہﷺ نے اپنا خواب بیان کیا ہے کہ آپﷺ حوض پر تھے اور لوگوں کو اس سے پانی نکال کر پلا رہے تھے، پھر سیدنا ابوبکرؓ آئے اور آپﷺ کے ہاتھ سے ڈول لے کر پانی نکالنے لگے تا کہ آپ کو آرام ملے۔[1]

(مسلم: جلد، 4 صفحہ، 1861/1862)

صفحہ 2 از 3