احادیث نبویہ جن میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی…

احادیث نبویہ جن میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

بحث و تحقیق کے نتیجے میں جس رائے پر میں پہنچا ہوں اور جس کی طرف میرا رجحان ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو اس کا حکم نہیں فرمایا کہ وہ سیدنا ابوبکرؓ کو آپﷺ کے بعد خلیفہ بنائیں لیکن آپﷺ نے ان کی اس طرف رہنمائی کی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بتلا دیا تھا کہ اہلِ ایمان حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ منتخب کریں گے، اس لیے کہ آپؓ کو وہ تمام فضائل عالیہ حاصل ہیں جو قرآن وسنت میں وارد ہیں اور اس کی وجہ سے آپؓ تمام امت پر فوقیت رکھتے ہیں۔

(عقیدۃ اہلِ السنۃ والجماعۃ: جلد، 2 صفحہ، 548)

علامہ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تحقیقی بات یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بنائے جانے کی خبر دی اور اپنے اقوال و افعال کے ذریعہ سے آپﷺ نے اس کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی، اور آپؓ کی خلافت کی اچھے انداز میں خبر دی اور اس سلسلہ میں عہد نامہ لکھنے کا عزم کیا، پھر جب آپؓ کو معلوم ہو گیا کہ مسلمان آپؓ کی خلافت پر متفق ہو جائیں گے تو اس پر اکتفا کرتے ہوئے آپؓ نے عہد نامہ لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اگر خلیفہ کی تعیین امت پر مشتبہ ہوتی تو رسول اللہﷺ ضرور اس کو واضح طور پر بیان کر دیتے تا کہ عذر ختم ہو جاتا، لیکن جب متعدد طریقے سے ان کی رہنمائی فرما دی کہ سیدنا ابوبکرؓ ہی خلافت کے لیے متعین ہیں اور لوگوں نے اس کو سمجھ لیا، جس سے مقصود حاصل ہو گیا۔ اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار کے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تم میں کوئی ایسا نہیں کہ جس کی طرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح گردنیں اٹھیں۔

پھر علامہ ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں نصوصِ صحیحہ سیدنا ابوبکرؓ کی خلافت کی صحت اور ثبوت اور اللہ و رسول کے اس سے راضی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ آپؓ کی خلافت پر مسلمانوں کی بیعت منعقد ہوچکی ہے اور صحابہ نے آپؓ کو بحیثیت خلیفہ ان نصوص کی بنیاد پر منتخب کیا تھا جن میں اللہ و رسولﷺ کی طرف سے آپؓ کی تفضیل وارد ہے۔ لہٰذا آپ کی خلافت نص اور اجماع دونوں ہی سے ثابت ہے۔ نیز نصوص اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ و رسولﷺ اس سے راضی ہیں اور یہ حق ہے، اللہ نے اس کا حکم فرمایا اور یہ مقدر فرمایا کہ اہلِ ایمان آپ کو منتخب کریں گے اور یہ اسلوب بہ نسبت مجرد عہد و تعیین کے زیادہ مؤثر اور بلیغ ہے کیونکہ محض عہد و تعیین کی صورت میں اس کا ثبوت صرف عہد و تعیین کی بناء پر ہوتا لیکن جب بغیر عہد و تعیین کے مسلمانوں نے آپؓ کو منتخب فرمایا اور نصوص نے اس کو درست ٹھہرایا اور اللہ و رسولﷺ نے اس کو پسند فرمایا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس قدر فضائل کے حامل تھے کہ آپؓ کی شخصیت دوسروں سے ممتاز تھی، جس کی وجہ سے اہلِ ایمان نے آپؓ کو اس منصبِ خلافت کا دوسروں کی بہ نسبت زیادہ حقدار سمجھا اور ایسی صورت میں عہد و تعیین کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

(منہاج السنۃ: جلد، 1 صفحہ، 139/141 مجموع الفتاویٰ: جلد، 35 صفحہ، 47/49)


صفحہ 3 از 3