امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت - ردِ رافضیت…

امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 7

امام مظلوم (سیدنا حسینؓ) کی شہادت

 حضرت حسینؓ نے وطن سے دُور جس بے نوائی کی حالت میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی اور جس عظیم قربانی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے کنبے کو شہید کروایا اس کی مثال تاریخ انسانی میں ڈھونڈے نہیں ملے گی۔
 اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام کے اس عظیم فرزند پر مصائب کس جانب سے آئے، کون سے ہاتھ ان کے لیے آگے بڑھے اور کیوں؟
 اس واقعہ کے عینی شاہد یا تو قاتل ہیں یا مقتولین(شہید ہونے والوں) کے گروہ میں سے جو بچ گئے۔ اس لیے سادہ طریقۂ تحقیق تو یہ ہے کہ بچے کھچے مظلومین سے پوچھا جائے کہ تمہارا قاتل کون ہے اور قاتل گروہ سے پوچھا جائے کہ تمہارا جواب دعوی کیا ہے۔ اگر مدعی کے بیان کے بعد ملزم اپنے جرم کا اقرار کر لے تو کسی شہادت کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور اقرارِ جرم کے بعد ملزم، ملزم نہیں رہتا بلکہ مجرم قرار پاتا۔

موضوع:-
 قاتلینِ حسینؓ کون تھے؟ شیعہ یا غیر شیعہ؟ 

 جواب کے لیے مقدمات:
1۔ مدعی کون تھے؟
2۔ مدعا علیہ کون ہے یعنی مدعی کا دعویٰ کس کے خلاف ہے؟
3۔ گواہ کون ہیں؟
4۔ کیا وہ عینی شاید ہیں یا ان کی شہادت سماعی ہے؟
5۔ اگر یہ شہادت مدعی کے بیان کے موافق ہے تو دعویٰ ثابت اگر خلاف ہے تو مردود
 ان امور کی روشنی میں واقعہ کا جائزہ لینا چاہیے۔

  مقدمہ اول:-
 مدعی حضرت حسینؓ، آپ رضی اللہ عنہ کے اہلبیت اور آپؓ کے ہمراہی ہیں۔ جن پر ظلم ہوا۔ یہ خیال رہے کہ شیعہ کے نزدیک امام معصوم ہوتا ہے یعنی گناہ صغیرہ اور کبیرہ سے پاک ہوتا ہے اور مفترض الطاعۃ ہوتا ہے۔

 مقدمہ دوم:-
 مدعا علیہ وہ تمام لوگ ہیں جنہوں نے حضرت حسینؓ کو بلایا اور ظلم سے قتل کیا۔

 مقدمہ سوم:-
 قاعدہ کی رو سے گواہ مدعی اور مدعا علیہ کے علاوہ کوئی اور ہونا چاہیے۔

 مقدمہ چہارم:-
 کوئی عینی شاہد نہیں جو چشم دید واقعہ بیان کر سکے کیونکہ کربلا چٹیل میدان تھا، اس کے گرد کوئی آبادی نہ تھی اس لیے جو گواہ پیش ہوگا اس کی شہادت سماعی ہوگی۔

 مقدمہ پنجم:-
 چونکہ شہادت سماعی ہے اس لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ گواہ نے یہ واقعہ قاتلین کی زبانی سنا یا مقتولین کی زبان سے، جو صورت بھی ہو یہ دیکھنا ہوگا کہ شہادت مدعی کے دعوی کے مطابق ہے تو  قبول ورنہ مردود۔ اگر شہادت مدعی کے بیان کے خلاف ہے تو لازم آئے گا کہ گواہ نے مدعی کو جھوٹا قرار دیا اور امام معصوم کو جھوٹا قرار دینے والے کی شہادت کیونکر قبول ہو سکتی ہے۔ لہذا کوئی ایسی روایت یا خبر کسی راوی اور خواہ کسی بھی کتاب سے لی گئی ہو لازماً مردود ہوگی۔

 یاد رہے اس تحقیق کے بعد جو مجرم ثابت ہو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اسے مجرم سمجھے ورنہ اس آیت کا مصداق ہوگا

وَمَن يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا (پ 5 آیت 112)


                     دعویٰ کی تفصیل۔ بیانات مدعیان

بیان مدعی نمبر1:-
 حضرت حسینؓ نے میدان کربلا میں دشمن کی فوج کو مخاطب کرکے فرمایا:-
   "اے اہل کوفہ! حیف ہے تم پر، کیا تم اپنے خطوط اور وعدوں کو بھول گئے جو تم نے خدا تعالی کو اپنے اور ہمارے درمیان دے کر لکھے تھے کہ اہل بیت آئیں ہم ان کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں گے۔ حیف ہےتم پر۔ تمہارے بلاوے پر ہم آئے اور تم نے ہمیں ابن زیاد کے حوالے کردیا اور ہمارے لئے فرات کا پانی بند کر دیا واقعی تم لوگ رسول ﷺ کے بڑے خلاف ہو کہ حضور ﷺ کی اولاد کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔ اللہ تمہیں قیامت کے دن سیراب نہ کرے۔"
 (شیعہ کتاب ذبح عظیم حوالہ ناسخ التواریخ صفحہ 335)

  سیدنا حسینؓ کے بیان سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔

1۔ اہل کوفہ نے امام (سیدنا حسینؓ) کو خطوط لکھ کر کوفہ بلایا اور عہد دیا کہ امام کی مدد کے لئے مرنے مارنے پر تیار ہوں گے۔

2۔ جنہوں نے خطوط لکھ کر کوفہ بلایا انہوں نے امامؓ پر پانی بند کردیا اور امامؓ کو  قتل کے لیے ابن زیاد کے حوالے کردیا۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ بلانے والے شیعہ تھے یا کوئی اور گروہ تھا۔
 اہل تشیع مجتہد قاضی نور اللہ شوستری نے مجالس المؤمنین صفحہ 25 مجلس اول میں تصریح کر دی۔
 "تشیع اہل کوفہ حاجت با قامت دلیل ندارد وسنی بودن کوفی الاصل خلاف اصل ومحتاج دلیل است اگرچہ ابو حنیفہ کوفی است"
" اہل کوفہ کے شیعہ ہونے کے لیے کسی دلیل کی حاجت نہیں۔  کوفیوں کا سنّی ہونا خلافِ اصل ہے جو محتاجِ دلیل ہے اگرچہ ابو حنیفہ(رحمۃاللّٰہ) کوفی تھے"
 شیعہ عالم شوستری کی شہادت کے مطابق اہل کوفہ کا شیعہ ہونا اظہر من الشمس ہے۔

پھر بھی مزید دو شہادتیں پیش کی جاتی ہیں 

ا۔ جب مقام زیالہ پر حسینؓ کو حضرت مسلم رحمۃاللہ کی شہادت کی خبر ملی
 تو امام نے فرمایا ''خذلنا شیعتنا" یعنی ہمارے شیعہ نے ہمیں ذلیل کیا ہے"
(خلاصۃ المصائب: صفحہ 49)
ب۔ جلاء العیون اردو۔ حضرت حسینؓ نے معرکۂ کربلا میں شیعہ کو مخاطب کرکے فرمایا:
     "تم پر اور تمہارے ارادے پر لعنت ہو اے بے وفایان جفاکار! تم نے ہنگامۂ اضطراب واضطرار میں ہمیں اپنی مدد کے لیے بلایا جب میں نے تمہارا کہنا مانا اور تمہاری نصرت اور ہدایت کرنے کو آیا اس وقت تم نے شمشیر کینہ مجھ پر کھینچی اپنے دشمنوں کی تم نے یاوری اور مددگاری کی اور اپنے دوستوں سے دستبردار ہوئے۔"

  ان بیانات سے ثابت ہوگیا کہ امامؓ کو شیعوں نے بلایا۔ انہوں نے پانی بند کیا اور انہوں نے ہی قتل کے لیے ابن زیاد کے حوالے کیا۔
 شیعہ کتاب جلاء العیون میں امامؓ کے بیان کے دوران شمشیر کینہ کا لفظ قابل توجہ ہے یعنی کوفی شیعوں کے دلوں میں کوئی پرانا بغض تھا اس لیے انتقام لینے کی  غرض سے یہ ناٹک کھیلا۔
 تاریخی اعتبار سے اس دیرینہ عداوت کی وجہ اس کے بغیر کیا ہو سکتی ہے کہ اسلام کے شیدائیوں اور رسولﷺ کے پروانوں نے اہل کوفہ سے اپنا آبائی مذہب چھڑا کر اسلام کی دولت عطا کی اور صدیوں کی پرانی سلطنت عرب مسلمانوں کے زیرنگیں آ گئی۔ آخر قومی اور مذہبی تعصب بروئے کار آ کے رہا۔

 نتیجہ:-
مدعی نمبر 1 کے بیان کے مطابق امام کے قاتل  اہل کوفہ شیعہ تھے کوئی اور نہیں تھا۔

بیان مدعی نمبر۔2
                     حضرت زین العابدین رحمۃاللہ:-
( احتجاج طبرسی طبع ایران: صفحہ 159)

صفحہ 1 از 7