امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت - ردِ رافضیت…

امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 7

 "اے لوگو! میں تمہیں خدا کی قسم دلاتا ہوں کیا تمہیں علم نہیں کہ تم نے میرے والد کو خطوط لکھے اور انہیں دھوکہ دیا۔ تم نے پختہ ارادہ اور  بیعت کا عہد لیا اور تم نے انہیں قتل کیا ذلیل کیا۔ خرابی ہو تمہارے لئے جو کچھ تم نے اپنے لیے آگے بھیجا ہے اور خرابی ہو تمہاری بری رائے کی۔ تم کس آنکھ سے رسول کریمﷺ کو دیکھو گے جب وہ فرمائیں گے تم نے میری اولاد کو قتل کیا میری بے حرمتی کی۔ تم میری امت سے نہیں ہو۔ پس رونے کی آواز بلند ہوئی اور ایک دوسرے کو بد دعا دینے لگے کہ تم ہلاک ہو گئے جس کا تمہیں علم ہے۔"

 اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ بلانے والوں سے مخاطب ہیں اور وہی قاتل ہیں۔ ردِ عمل میں ان کا یہ اعتراف بھی موجود ہے۔ 

 مزید اور بیان:-
( احتجاج طبرسی: صفحہ 108)
   "جب زین العابدین بیماری کی حالت میں عورتوں کے ساتھ کربلا سے آرہے تھے اہل کوفہ کی عورتیں گریبان چاک کیے بین کرنے لگیں اور مرد بھی رو رہے تھے پس زین العابدین نے پست آواز میں فرمایا (کیونکہ بیماری کی وجہ سے کمزور ہو چکے تھے) کوفہ والے روئے ہیں مگر یہ تو بتاؤ ہمیں قتل کس نے کیا؟"

 ملا باقر مجلسی نے جلاءالعیون صفحہ 503 پر امام کا بیان انہی الفاظ میں نقل کیا ہے۔
"امام زین العابدین نے با آوازِ ضعیف فرمایا کہ تم ہم پر گریہ اور نوحہ کرتے ہو لیکن یہ تو بتاؤ ہمیں قتل کس نے کیا ہے؟
 امام کے سوال اور اس لہجے کے اندر اس کا جواب پوشیدہ ہے۔
  مدعی نمبر2 کے بیان سے یہ نتیجہ نکلا کہ:
1۔ اہلِ کوفہ نے خط لکھے۔
2۔ اہلِ کوفہ نے حضرت حسینؓ کو دھوکا دیا۔
3۔ اہلِ کوفہ نے حضرت حسینؓ کو قتل کیا۔
4۔ اہلِ کوفہ شیعہ تھے۔
5۔ قاتلینِ حسینؓ کوفی شیعہ امت رسول ﷺ سے خارج ہیں۔
6۔ قاتلینِ حسینؓ روئے اور ان کی عورتوں نے گریبان چاک کیے اور بین کیے بلکہ مستقل سنت قائم کر گئے 
 یہ خیال رہے کہ دونوں مدعی(شیعوں کے مطابق) معصوم ہیں اس لئے اپنے دعویٰ میں صادق ہیں۔

 بیان مدعی نمبر 3: زینبؓ بنتِ علیؓ ہمشیرہ حسینؓ۔

  جب اسیرانِ کربلا، کربلا سے آئے کوفہ میں داخل ہوئے تو کوفہ کے مردوں اور عورتوں نے رونا پیٹنا شروع کردیا تو حضرت زینبؓ نے فرمایا:
    "حمد و صلاۃ کے بعد فرمایا اے اہل کوفہ! اے ظالموں!اےغدارو! اےرسوا کرنے والو۔۔۔۔۔۔۔ بہت بُرا ہے جو تم نے اپنے آگے بھیجا ہے یہ کہ اللہ تم پر ناراض ہو اور تم ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہو۔۔۔تم روتے رہو ہاں روتے رہو۔۔۔کیونکہ تمہیں رونا ہی زیب دیتا ہے۔۔۔خوب روؤ اور  کم ہنسو۔۔۔کل نبی کریمﷺ کو کیا جواب دو گے جب آپﷺ پوچھیں گے تم آخری امت ہو۔۔۔ تم نے میرے بعد میرے اہلِ بیت اور میری اولاد سے کیا سلوک کیا ان میں سے بعض کو قیدی بنایا اور بعض کو خاک و خون میں لوٹایا"
اس خطبے کا ترجمہ باقر مجلسی نے جلاء العیون صفحہ نمبر 503 پر یہ کیا ہے:
  "اما بعد! اے اہلِ کوفہ! اے اہلِ غدور مکروحیلہ! تم ہم پر گریہ و نالہ کرتے ہو اور خود تم نے ہمیں قتل کیا ہے۔ ابھی تمہارے ظلم سے ہمارا رونا بند نہیں ہوا اور تمہارے ستم سے ہماری فریاد ونالہ ساکن نہیں ہوا۔۔۔۔ تم نے اپنے لئے آخرت میں توشہ و ذخیرہ بہت خراب بھیجا ہے اور اپنے آپ کو ابدالآباد جہنم کا سزاوار بنایا ہے تم ہم پر گریہ ونالہ کرتے ہو حالانکہ تم نے خود ہی ہم کو قتل کیا ہے۔۔۔۔ تمہارے یہ ہاتھ قطع کیے جائیں۔ اے اہلِ کوفہ! تم پر وائے ہو تم نے جگر گوشۂ رسول ﷺ کو قتل کیا اور پردہ دار اہلِ بیت کو بے پردہ کیا۔ کس قدر فرزندانِ رسول ﷺ کی تم نے خونریزی کی اور حرمت کو ضائع کیا"۔

نتیجہ:-
1۔  اہلِ کوفہ نے مکروحیلہ سے امامؓ کو بلایا۔
2۔ امامؓ سے غداری کی اور اہلِ بیت کو قتل کیا۔
3۔ یہ سب کچھ کر لینے کے بعد رونا پیٹنا شروع کر دیا۔
4۔ ان کو ابدی جہنم کی خوشخبری سنائی گئی۔
5۔ قاتل وہی تھے جو بلانے والے تھے۔ اور وہ شیعہ تھے تو اس جرم کے مرتکب اور ابدی جہنم کے مستحق وہی شیعہ ٹھہرے۔

بیان مدعی نمبر4:
  حضرت فاطمہ بنت حسینؓ۔
     "اما بعد اے اہل کوفہ! اے اہلِ مکروفریب۔۔۔ تم نے ہمیں جھٹلایا اور ہمیں کافر سمجھا۔ ہمارے قتل کو حلال اور ہمارے مال کو غنیمت جانا جیسا کہ ہم ترکوں یا کابل کی نسل سے تھے۔ جیسا کہ تم نے کل ہمارے جد(حضرت علیؓ) کو قتل کیا تھا تمہاری تلواروں سے ہمارا خون ٹپک رہا ہے۔ سابقہ کینہ کی وجہ سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں دل خوش ہوۓ تم نے خدا کے مقابلے میں جرأت کی اور مکر کیا اور اللہ اس مکر کی خوب سزا دینے والا ہے۔"

               بیٹی امامؓ مظلوم کے بیان کا نتیجہ
 1۔ کوفہ کے شیعوں نے اہل بیت کو کافر سمجھا اور ان کا خون حلال سمجھا۔
 2۔ شیعوں کو اہل بیت سے کوئی پرانی دشمنی تھی۔
 3۔ حضرت علیؓ کے قاتل شیعہ ہیں۔
 4۔ اہل بیت کو قتل کرکے یہ لوگ خوش ہوئے۔
 وہ رونا پیٹنا محض ایکٹنگ تھی۔

  بیان مدعی نمبر 5:
    ام کلثومؓ ہمشیرہ حضرت حسینؓ
      جب کوفی عورتوں نے اہلبیت کے بچوں کو صدقے کی کھجوریں دینی شروع کیں تو مائی صاحبہ نے فرمایا؛ صدقہ ہم پر حرام ہے۔ یہ سن کر  کوفی عورتیں رونے پیٹنے لگیں اس پر مائی صاحبہ نے فرمایا؛
     " اے اہلِ کوفہ ہم پر تصدق حرام ہے۔ اے زنان کوفہ! تمہارے مردوں نے ہمارے مردوں کو قتل کیا ہم اہلبیت کو اسیر کیا ہے پھر تم کیوں روتی ہو؟"
(جلاءالعیون: صفحہ 507)

صفحہ 2 از 7