امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت - ردِ رافضیت…

امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 7

  نتیجہ ظاہر ہے۔ ان پانچ مدعیان کے بیانوں میں قدر مشترک یہ ہے:
 1۔ اہلِ کوفہ نے امام حسینؓ کو دعوت دی، خطوط لکھے۔
 2۔ دعوت دینے والے شیعہ تھے۔
 3۔ ان بلانے والے شیعہ نے امامؓ کو قتل کیا، اہل بیت کو اسیر کیا، ان کا مال لوٹا۔
 4۔ قاتلینِ حسینؓ کی عورتوں نے گریبان چاک کیے، بین کیے۔
 5۔ قاتلینِ حسینؓ (شیعہ) امت رسولﷺ سے خارج ہیں۔۔
  ایک اور ہستی کا بیان ملاحظہ ہو جسے مدعی بھی کہہ سکتے ہیں اور گواہ بھی وہ ہیں سیدنا باقر انہوں نے یہ واقعات لازماً اپنے والد امام زین العابدین رحمۃاللہ سے سنے ہوں گے اور وہ خود بھی بقول شیعہ امام معصوم ہیں۔
 جلاء العیون: صفحہ 326
    "جب امیر المؤمنین سے بیعت کی پھر ان سے بیعت شکستہ کی اور ان پر شمشیر کھینچی اور امیر المؤمنین ہمیشہ ان سے بمقام مجادلہ اور محاربہ تھے اور ان سے آزار و مشقت پاتے تھے۔  یہاں تک کہ ان کو شہید کیا اور ان کے فرزند امام حسنؓ سے بیعت کی اور بعد بیعت کرنے کے ان سے غدر اور مکر کیا اور چاہا کہ ان کو دشمن کو دے دیں۔  اہل عراق سامنے آئے اور خنجر ان کے پہلو پر لگایا اور خیمہ ان کا لوٹ لیا یہاں تک کہ ان کی کنیز کے پاؤں سے خلخال اتار لئے اور ان کو  مضطرب اور پریشان کیا حتی کہ انہوں نے معاویہؓ سے صلح کرلی اور اپنے اہل بیت کے خون کی حفاظت کی اور ان کے اہلبیت کم تھے۔ پس ہزار مرد عراقی نے حضرت حسینؓ کی بیعت کی اور جنہوں نے بیعت کی تھی خود انہوں نے شمشیر امام حسینؓ پر چلائی اور ہنوز بیعت امام حسینؓ ان کی گردنوں میں تھی کہ امامؓ کو شہید کیا"۔

            اس بیان سے بات بالکل واضح ہو گئی
"سابقہ کینہ کے شواہد"
 فاطمہ بیٹی سیدنا حسینؓ کے بیان میں سابقہ کینہ کے الفاظ ہیں ان کی تاریخی تعبیر یہ ہے:
1۔ جلاء العیون صفحہ 230 پر بیان ہے کہ عبدالرحمٰن بن ملجم نےحضرت علیؓ کی بیعت کی اور بیعت کر کے امیر المؤمنین (حضرت علیؓ) کو شہید کیا۔
   کہا جاتا ہے کہ یہ خارجی تھا مگر تاریخ سے اس بات کا نشان تک نہیں ملتا کہ خارجیوں نے کبھی حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کی ہو۔ وہ تو کھلم کھلا مخالفت کرتے تھے اور تقیہ بھی نہیں کرتے تھے۔ جب ابن ملجم نے جناب امیرؓ کی بیعت کی تو شیعان علیؓ میں شامل ہو گیا۔ یعنی حضرت علیؓ کا قاتل بھی شیعہ تھا۔

2۔ احتجاج طبرسی طبع ایران صفحہ 150 سیدنا حسنؓ کا بیان:
 "خدا کی قسم میں معاویہؓ کو ان شیعوں سے اچھا سمجھتا ہوں۔ وہ میرے شیعہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور انہوں نے مجھے قتل کرنا چاہا اور میرا مال لوٹ لیا۔''

ان اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیعوں نے حضرت علیؓ کو قتل کیا، حضرت حسنؓ کو قتل کرنا چاہا، اور حضرت حسینؓ کو قتل کرکے دم لیا۔ غالباً اسی بنا پر حضرت علیؓ نے دس شیعہ دے کر حضرت امیر معاویہؓ سے ایک آدمی لے لینے کی آرزو کی تھی۔
 نہج البلاغہ جلد اول صفحہ 189 حضرت علیؓ فرماتے ہیں:             فاخذ منی عشرۃ واعطانی رجلا منھم

 گویا امیر معاویہؓ کے ساتھی ایمان اور وفاداری میں اتنے قابل اعتماد تھے کہ حضرت علیؓ ان کا ایک آدمی لے کر اس کے بدلے دس شیعہ دینے کو تیار تھے۔ قرآن مجید میں ایک اور دس کی نسبت کا ذکر ہے۔

"ان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مائتین"

"اے مسلمانوں تمہارے 20 صابر آدمی کفار کے 200 پر غالب آ سکتے ہیں"۔
 ممکن ہے حضرت علیؓ نے بھی تقابل میں اسی کی رعایت ملحوظ رکھی ہو۔
 حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو امیر معاویہؓ پر اعتماد تھا اور انہوں نے ان دونوں کی حفاظت بھی کی۔ دونوں حضرات نے حضرت امیر معاویہؓ کی بیعت بھی کر لی اور ان سے وظیفہ بھی لیتے رہے۔ اس کے برعکس شیعہ نے ایک بھائی کو قتل کرنا چاہا دوسرے کو قتل کر دیا۔

 اب مدعا علیہ کے جوابِ دعویٰ کو دیکھنا ہے۔ اگر اس میں اقرار جرم موجود ہے تو شہادت کی ضرورت نہیں۔ اگر انکار کرے تو گواہ ضروری ہیں۔

  بیان مدعا علیہ:-
 مجالس المؤمنین صفحہ 441 میں قاضی نور اللہ شوستری بیان کرتا ہے:-
 "اب ہم اپنی بد اعمالیوں پر نادم ہیں چاہتے ہیں توبہ کریں شاید اللہ تعالیٰ ہم پر رحمت فرما کر ہماری توبہ قبول کر لے اور جماعت سے جتنے لوگ( ابن زیاد کی فوج میں امامؓ کو قتل کرنے) کربلا میں گئے تھے صبح عذر کرنے لگے۔ سلیمان بن صرد نے کہا اس کے سوا چارہ نہیں کہ ہم اپنے آپ کو تیغ بدست میدان میں لائیں جیسے بنی اسرائیل نے ایک دوسرے کو قتل کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا الخ یہ کہہ کر تمام شیعہ استغفار کے لیے زانوں کے بل گر پڑے"

 مدعا علیہ(اہل کوفہ شیعہ) نے اقرار جرم کر لیا اور ثابت ہوگیا کہ حضرت حسینؓ کے قاتل کوفی شیعہ ہیں جنہوں نے امام کو گھر بلا کر بے دردی سے قتل کیا۔ مگر احتیاطاً مزید چھان بین کر لینی چاہیے۔ ممکن ہے کہ کسی اور کا ہاتھ بھی ہو۔
  شیعہ کتاب خلاصۃ المصائب: صفحہ 201

لیس فیھم شامی ولا حجازی بل جمیعھم من اھل الکوفۃ

 " سیدنا حسینؓ کے قاتلوں میں کوئی ایک بھی شامی یا حجازی نہیں تھا بلکہ سب کے سب کوفی تھے"

 ظاہر ہے وہ اہل کوفہ وہی تو تھے جو شیعہ تھے اور امام کو کوفہ آنے کی دعوت دی تھی۔ مگر حیرت ہے کہ اماموں کو قتل کرنے والوں کے متعلق شیعہ کے ہاں ایک عجیب فتویٰ ہے۔

صفحہ 3 از 7