امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت - ردِ رافضیت…

امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 4 از 7

جلاء العیون: صفحہ 413:- 
" احادیث کثیرہ میں ائمہ اطہار علیہم السلام سے منقول ہے کہ پیغمبروں اور ان کے اوصیاء کو اور ان کی ذریت کو قتل نہیں کرتا مگر ولد الزنا، اور ان کے قتل کا ارادہ نہیں کرتا مگر فرزند زنا فلعنۃ اللہ علیہم اجمعین الی یوم الدین۔
  "مدعیان نے ان کوفی شیعوں کو جہنم کی بشارت تو دے دی تھی اب ائمہ اطہار کے اس فتویٰ سے ان کی دنیوی  حیثیت بھی متعین ہو گئ۔ 
ممکن ہے کوفہ کے شیعوں کو یہ فتویٰ نہ پہنچا ہو مگر علم نہ ہونے سے حکم تو نہیں بدل جاتا۔ آخر یہ ائمہ اطہار کا فتویٰ ہے کسی عام آدمی کا نہیں۔
 ایک امر غور طلب باقی رہ گیا ہے کہ چلو امامؓ کے قاتل اہل کوفہ شیعہ ثابت ہوگۓ مگر یزید کا حصہ اس میں ضرور ہوگا کیونکہ وہ حاکم وقت تھا۔ مدعا علیہم سے ہی اس کے متعلق پوچھتے ہیں شاید وہ اسے بھی اپنے ساتھ شامل کریں۔
1۔ احتجاج طبرسی صفحہ 162 حضرت زین العابدین نے یزید سے سوال کیا میں نے سنا ہے تم میرے والد کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ یزید نے جواب دیا:

قال یزید لعن اللہ ابن مرجانۃ فواللہ ما امرتہ بقتل ابیک ولو کنت متولیا لقتالہ ما قتلته

 "یزید نے کہا اللہ ابن زیاد پر لعنت کرے بخدا میں نے اسے تیرے والد کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ اگر میں خود معرکۂ کربلا میں ہوتا تو انہیں ہرگز قتل نہ کرتا"

 مدعا علیہ نے یزید کی صفائی پیش کردی مگر اس کا بیان کافی نہیں حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔

 1۔ خلاصۃ المصائب صفحہ 304 جب شمر نے امام کا سر یزید کے سامنے پیش کیا اور انعام کا مطالبہ کیا تھا تو

فغضب یزید ونظر الیہ نظرا شدید او قال ملاء اللہ رکابک نارا ویل لک افا علمت انہ خیر الخلق فھم قتلتہ اخرج من بین یدی لا جائزۃ لک عندی۔

"پس یزید نے غضب ناک ہو کر  شمر کی طرف دیکھا اور کہا اللہ تیری رکاب کو آگ سے بھر دے۔ تیرے لیے ہلاکت ہو۔ جب تجھے یہ علم تھا کہ یہ ساری مخلوق سے افضل ہیں تو تو نے انہیں کیوں قتل کیا۔ دور ہو جا میری آنکھوں سے تیرے لیے کوئی انعام نہیں"

3۔ جلاء العیون صفحہ 529 پر ہے کے انعام کے طالب کو قتل کردیا۔
 اگر یزید نے قتل کا حکم دیا تھا تو شمر کہہ دیتا کہ آپ نے حکم دیا تھا میں نے تعمیل کی اور یہ بات روایت میں مذکور ہوتی مگر ان میں سے کوئی صورت بھی موجود نہیں۔

4۔۔نہج الاحزان طبع ایران صفحہ 32

کسے وارد شد خبر دو گفت دیدۂ تو

روشن کہ سر حسین وارد شدآں

 نظر غضبناک کرد و گفت دیدہ است روشن مباد

کسی نے یزید کو اطلاع دی تیری آنکھیں روشن ہوں حسین کا سر آ گیا۔ یزید نے  نگاہِ غضب سے دیکھا اور کہا تیری آنکھیں بے نور ہوں"

 ان روایات سے ظاہر ہے کہ مجرموں نے یزید کو بری قرار دیا ہے۔ غالباً اسی بنا پر امام زین العابدین کو تسلی ہو گئی اور یقین آگیا۔ 
امام حسینؓ کے  قتل میں یزید کا ہاتھ نہیں۔ اس لیے انہوں نے یزید کی بیعت کر لی بلکہ یہاں تک کہہ دیا

انا عبد مکرہ ان شئت فامسک وان شئت فبع۔

"اے یزید میں تمہارا غلام ہوں۔ چاہے مجھے رکھ لے چاہے فروخت کر دے"
( روضۂ کافی: جلاء العیون)

  یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ قاتلینِ حسینؓ کوفی شیعہ  تھے جیسا کہ مدعیان کا دعویٰ ہے اور مدعا علیہم نے اقرارِ جرم کرلیا۔

البتہ ایک مسئلہ حل طلب ہے۔
 اصول کافی صفحہ 158 پر ایک اصول بیان ہوا ہے:-

ان الائمۃ یعلمون متی یموتون وانھم لا یموتون الا باختیارھم

 "تحقیق ائمہ کرام کو اپنی موت کے وقت علم ہوتا ہے اور وہ اپنے اختیار سے مرتے ہیں"
 اس اصول کے پیش نظر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں

1. حسینؓ کو علم تھا کہ اہلِ کوفہ غدار ہیں۔ مجھے بلا کر قتل کریں گے کیونکہ امام کو ماکان ‏وما یکون کا علم ہوتا ہے اور امام کے پاس رجسٹر بھی ہوتا ہے پھر آپؓ کوفہ کیوں گئے؟ اگر یہ کہا جائے کہ ان کی اصلاح کے لئے گئے تھے تو خود جاتے۔ اپنے اہل بیت کو کیوں ساتھ لے گئے؟ اپنی شہادت اور اہل بیت کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا علم ہونے کے باوجود یہ اقدام کیوں کیا؟
2۔ امام نے جب اپنے اختیار سے موت  قبول کی اسے پسند کیا تو سالہا سال سے ان کی موت پر رونا پیٹنا کس وجہ سے ہے اگر محبت کی وجہ سے ہے تو محبت کا تقاضہ یہ ہے کے اپنی پسند محبوب کی پسند کے تحت ہو۔ اگر امام کی پسند کے خلاف احتجاج ہے تو یہ بھی غیر معقول۔ البتہ  اپنے فعل پر ندامت ہے کہ امام کو قتل کیوں کیا تو یہ بات معقول نظر آتی ہے۔
3۔۔ بقول شیعہ حضرت علیؓ نے تقیہ کیا اصحاب ثلاثہ کی بیعت کر کے تقیہ کرنے کا ثواب بھی حاصل کیا بلکہ نو حصے دین بچا لیا اور اپنی بھی جان بچائی۔ حضرت حسینؓ نے تقیہ کیوں نہ کیا۔ اپنے والد کی سنت کی پیروی بھی ہو جاتی۔ تقیہ  کا ثواب بھی ملتا۔ جان بھی بچ جاتی اور اہل بیت بھی مصائب سے بچ جاتے۔

 تقیہ کے فضائل کی بحث طویل ہے۔ البتہ چند ایک باتیں بیان کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

1۔ اصول کافی باب التقیہ صفحہ 482 امام جعفر فرماتے ہیں:-

یا ابا عمران تسعۃ اعشار الدین فی التقیۃ لا دین لمن لا تقیۃ لہ۔

 "اے ابو عمر 9/10 حصہ دین کا تقیہ کرنے میں ہے جو تقیہ نہیں کرتا وہ بے دین ہے"

تفسیر حسن عسکری طبع ایران 129

قال رسول اللہ مثل المؤمن لا تقیۃ لہ کمثل جسد لا رأس لہ۔

 "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تارکِ تقیہ مومن کی مثال ایسی ہے جیسے بدن بغیر سر کے۔"

صفحہ 4 از 7