امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت - ردِ رافضیت…

امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 5 از 7

  ظاہر ہے کہ جس طرح سر کے بغیر بدن بے کار ہے اسی طرح تقیہ کے بغیر ایمان کسی کام کا نہیں۔
3۔ ایضاً
      " زین العابدین رحمۃاللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مومن کے تمام گناہ بخش دے گا اور دنیا سے پاک کرکے نکالے گا مگر دو گناہ نہیں بخشے گا اول تقیہ کا ترک کرنا دوم بھائیوں کے حقوق ضائع کرنا"
  من کل ذنب سے ظاہر ہے کہ شرک اور ائمہ کو قتل کرنا بھی قابل معافی گناہ ہیں۔ ہاں تارکِ تقیہ کے لئے نجات نہیں۔ گویا اہلِ کوفہ امام کو قتل کر کے بھی گناہوں سے پاک ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے۔ اور امام نے جان دے کر بھی کچھ نہ پایا۔ کیونکہ ترکِ تقیہ ناقابل معافی گناہ ان کی گردن پر رہا۔ ہاۓ امام مظلوم کی دہری مظلومیت۔
 لطف یہ کہ یہ بات امام مظلوم کے بیٹے کی زبان سے کہلوائی گئی ہے۔
 اسی وجہ سے عبدالجبار معتزلی نے اپنی کتاب مغنی میں شیعہ سے ایک سوال کیا کہ شیعہ کا عقیدہ ہے تقیہ ضرورت کے وقت جائز ہے اور خوفِ جان ہو تو تقیہ فرض ہے۔ ایسی حالت میں جو تقیہ نہ کرنے کی وجہ سے مارا گیا وہ ملعون موت مرا، اس نے خدا کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ مگر کربلا میں امام حسینؓ نے صرف اپنی جان ہی نہیں دی بلکہ اہل بیت کو بھی شہید کرایا۔ ان پر مصائب آئے تو اس کی اصل وجہ حضرت حسینؓ کا تقیہ نہ کرنا ہے۔ اگر وہ تقیہ کرکے یزید کی بیعت کر لیتے تو خدا کی نافرمانی بھی نہ ہوتی اور جان بھی بچ جاتی۔ حالانکہ امام حسنؓ نے تقیہ کرکے امیر معاویہؓ کی بیعت کر لی۔ حضرت علیؓ نے تقیہ کرکے خلفائے ثلاثہؓ کی بیعت کر لی۔ اس لیے آپ شیعہ کیا کہتے ہیں کہ امام حسینؓ کی موت کس قسم کی تھی؟

  ابوجعفر طوسی نے تلخیص شافی صفحہ 471 پر اس سوال کو یوں نقل کیا ہے:-
      "جب ابن زیاد نے امام حسینؓ کو اس شرط پر امان دی کہ یزید کی بیعت کر لیں امام نے اسے قبول نہ کیا۔ اپنی جان اور اپنے متعلقین کی جان بچا لیتے۔ انہوں نے ترکِ تقیہ کرکے ان جانوں کو ہلاکت میں کیوں ڈالا حالانکہ ان کے بھائی امام حسنؓ نے بلا خوفِ جان حکومت امیر معاویہؓ کے سپرد کر دی تھی۔ دونوں بھائیوں کے فعل کو کیسے جمع کر سکتے ہو"

 شیعہ شریف مرتضی اور ابو جعفر طوسی کی طرف سے جواب یہ دیا گیا:-
جب حضرت حسینؓ نے دیکھا کہ مدینہ کو لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں نہ کوفہ میں داخل ہونے کی کوئی صورت ہے تو شام کو روانہ ہوۓ کہ یزید کے پاس جائیں شاید اس مصیبت سے نجات ملے جو ابن زیاد اور اسکے ساتھیوں سے ہو رہی تھی۔ آپ روانہ ہوۓ تو عمرو بن سعد لشکر عظیم لیکر سامنے آگیا جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا ہے اسلیے یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ امام نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان ہلاکت میں ڈالی۔ حالانکہ یہ روایت موجود ہے کہ امام نے ابن سعد سے فرمایا تین میں سے ایک صورت اختیار کر لو یا تو مجھے واپس مدینہ جانے دو یا یزید کے پاس جانے دو کہ میں اسکے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا۔ وہ میرے چچا کا بیٹا ہے۔ وہ میرے حق میں جو راۓ کرے سو کرے یا اسلامی سرحدوں کی طرف جانے دو۔ میں مسلمانوں کیساتھ مل کر جہاد کروں گا۔ انکے ساتھ نفع نقصان میں شریک ہوں گا۔

اس بیان سے معلوم ہوا کہ حضرت حسینؓ یزید سے بیعت کرنے پر راضی تھے مگر فوج نے اس پیش کش کو ٹھکرادیا۔ معلوم ہوتا ہے ابن زیاد وغیرہ ذمہ دار لوگ امام کو گرفتار کرکے لے جانا چاہتے تھے تاکہ انعام کے حقدار ہوسکیں۔

دوسری وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ شیعیان کوفہ کی فوج بھی تقیہ کرکے امام کے خلاف لڑ رہی تھی۔ گویا دو تقیوں میں تصادم ہوگیا۔ فرق اتنا ہے کہ امام تقیہ کرنے پر آمادہ ہو گئے اور فوج عملاً تقیہ کر رہی تھی۔
 تلخیص شافی صفحہ 471 پر اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے:-

واجتمع کل من کان فی قلبہ نصرتہ وظاھرہ مع اعدائہ۔

 "امام کے مقابل جو  فوج جمع ہوئی ان کے دلوں میں امام کی محبت اور اس کی نصرت کی آرزو تھی۔ ظاہراً وہ دشمن کے ساتھ تھے۔"

 شریف مرتضی اور طوسی نے عبدالجبار معتزلی کا جواب تو دے دیا مگر ایک اور پیچ پڑ گیا۔
مختصر بصائر الدرجات صفحہ 7:-

قال ابو عبداللہ ای الامام لا یعلم ما یصیبہ ولا الی ما یصیر امر فلیس بحجۃ اللہ علی خلقہ

 "جو امام آنے والی مصیبت کا علم نہیں رکھتا اور یہ نہیں جانتا کہ اس کا انجام کیا ہوگا وہ امام ہی نہیں نہ مخلوق پر خدا کی حجت ہے"۔
 یعنی امام کو آنے والے مصائب کا علم تھا۔ انہوں نے اپنے اختیار اور پسند سے موت قبول کی۔ جب اس کا علم تھا تو کربلا گئے کیوں؟ عبدالجبار معتزلی کا اعتراض"کہ انہوں نے اپنے آپ کو ہلاکت میں کیوں ڈالا؟" بدستور قائم ہے کیونکہ تقیہ کا فائدہ تو جب ہوتا کہ کربلا روانہ ہونے سے پہلے کرتے۔ اس موقع پر تقیہ کے ارادے کا اظہار بے موقع ہے اور بناوٹ معلوم ہوتی ہے۔ شیعہ حضرات کبھی یہ بھی جواب دیتے ہیں کہ یہ روایت مناظرے کی کتابوں میں ہے حدیث کی کتابوں میں نہیں لہذا حجت نہیں"۔ بات درست  سہی مگر ان کے بڑوں کو کیوں نہ سوجھی؟ سید شریف مرتضی نے شافی میں اور ابو جعفر طوسی نے تلخیص میں اس روایت کو کیوں جگہ دی؟ جب تحریفِ قرآن کا مسئلہ چلے تو طوسی کے دامن میں پناہ لیتے ہیں۔ یہاں طوسی کیوں ناقابل اعتماد قرار پایا؟ معلوم ہوا کہ حضرت حسینؓ کے دامن سے تقیہ کا داغ دھویا نہیں جا سکتا اور سوال کا یہ حصہ بدستور قائم ہے کہ بتاؤ تمہارے اصول کے مطابق حضرت حسینؓ کی موت کس قسم کی تھی؟

 ائمہ کی موت اپنے اختیار میں ہونے کا اصول تقاضہ کرتا ہے کہ
 حضرت حسینؓ نے یہ موت اپنے اختیار سے پسند کی۔ محبانِ حسینؓ بھی محبوب کی پسند کو محبوب رکھیں اور ان کی یاد میں اپنی جان دے دیں۔ رونا پیٹنا جواں مردی نہیں۔

  اس موقع پر ایک دو باتیں مزید ضمناً بیان کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
 1۔ شیعہ کہتے ہیں امام مع رفقاء پیاسے مرے مگر جلاءالعیون صفحہ 454 پر ہے:-
    "جب پانی نہ ملا امام نے خیمے کے پیچھے بیلچہ مارا تو شیریں پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا ۔امام نے خوب پیا اور رفقاء کو بھی پلایا" ۔

2۔ شیعہ کہتے ہیں کہ امام کی نعش کو گھوڑوں کے نیچے روندا گیا مگر اصول کافی اور جلاء العیون ص 503 پر لکھا ہے:-
    "امام کی نعش پر ایک شیر آکے بیٹھ گیا اور اس نے کسی کو نعش کے قریب نہ آنے دیا۔''
 ان متضاد باتوں میں سچائی کی تلاش کیجیے۔

صفحہ 5 از 7