امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت - ردِ رافضیت…

امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 6 از 7

3۔ ملا باقر مجلسی کا بیان ہے کہ امام کا جسم ان کی موت کے بعد آسمان پر اٹھا لیا گیا اور فرشتے اس کا طواف کرتے رہتے ہیں۔
    "جسم تو آسمان پر گیا زمین پر کس کو روندا گیا۔ کربلا میں روضہ کس کا بنایا گیا؟ روضے میں دفن کون ہے؟
 کربلا میں جا کر زیارت کس کی ہوتی ہے؟ اگر میت کے بغیر کربلا میں روضہ بنایا جا سکتا ہے تو ہر جگہ روضہ بنا لینے میں کیا قباحت ہے؟
      واقعی شیعوں کے بیانات سے تضاد رفع کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔
اس سلسلے میں ایک اور سوال ضمناً غور طلب ہے۔

 شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت حسینؓ کو ہم نے قتل کیا۔ یزید کا اس میں ہاتھ نہیں۔ پھر حیرت ہوتی ہے کہ    حضرت حسینؓ جب شیعہ تھے تو شیعوں نے قتل کیوں کیا؟؟

معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ برعکس ہے۔ حضرت حسینؓ اہلسنت تھے۔ ان کا مذہب وہی تھا جو باقی عرب کا تھا۔ اسی وجہ سے کوفہ کے شیعوں نے دھوکہ دے کر حضرت حسینؓ کو بلایا اور قتل کیا۔ حضرت حسینؓ کو معلوم تھا کہ وہ شیعہ ہیں مگر ان کی اصلاح کی خاطر چلے گئے۔ ائمہ سے شیعوں کی پرانی دشمنی کا ذکر تفصیل سے ہو چکا ہے۔
     ائمہ کے علم کی وسعت کا جو عقیدہ شیعہ کے ہاں مسلم ہے کہ ما کان وما یکون کا علم امام کو ہوتا ہے اس کے پیشِ نظریہ سوچنا پڑتا ہے کہ جب حضرت علیؓ کو علم تھا کہ امام حسنؓ نے معاویہؓ کے حق میں حکومت سے دستبردار ہونا ہے۔ امیر معاویہؓ نے یزید کو حکومت دینی ہے اور یزید کی فوج نے امام حسینؓ کو قتل کرنا ہے تو اصل مجرم کون ہوا؟ حضرت علیؓ یا حسنؓ یا یزید؟
 اس ممکنہ سوال کا جواب اصول کافی صفحہ نمبر 278 پر ملتا ہے امام تقی سے روایت ہے:-

فھم یحلون ما یشاؤون ویحرمون ما یشاؤون۔

 "ائمہ جس چیز کو چاہیں حلال کرلیں جسے چاہے حرام کرلیں"
 یعنی حضرت حسینؓ نے اپنا اور اپنے ساتھیوں کا قتل حلال کر لیا حضرت حسنؓ نے اپنے بھائی کا قتل حلال کر لیا۔ 

نتیجہ یہ نکلا اس قتل کا مرتکب مجرم نہیں۔ کیونکہ فعل حلال کرنے والا ثواب کا مستحق ہے مجرم نہیں۔

 اس سلسلے میں ایک اور بات کہی جاتی ہے کہ صحابۂ کرامؓ نے کئی بار رسولﷺ کو کفار کے نرغے میں چھوڑا اور بھاگ گئے پھر بھی اہل سنت انہیں کامل الایمان سمجھتے ہیں۔ اگر شیعہ نے ایک بار حضرت حسینؓ سے یہ سلوک کیا تو کافر کیوں ہوگئے۔
  بات بڑی اونچی ہے مگر اس میں کئی الجھنیں ہیں

1۔ تاریخ سے کوئی ایک واقعہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ صحابۂ کرامؓ نے رسولﷺ کو کفار کے نرغے میں چھوڑ کر بھاگ جانے کی غلطی کی ہو۔ اس لیے یہ دعویٰ  بھی جھوٹا ہے۔

2۔ صحابۂ کرامؓ کو کامل الایمان  تو خود خدا کہتا ہے۔ اس لیے جو خدا اور رسولﷺ کو قابلِ اعتماد نہ سمجھے وہ آزاد ہے جو چاہے کہتا پھرے۔

3۔ اہل سنت کو کوئی حق نہیں کہ کسی کو کافر کہیں۔ بلکہ وہ تو  روٹھنے والوں کو منانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس کا کیا علاج کہ
ا۔ حضرت حسینؓ فرما گئے ہیں قد خذلنا شیعتنا
ب۔ حضرت زین العابدین رحمۃاللہ کہہ گئے ہیں:

 نتبالکم ما قدمتم لانفسکم  نعتم من امتی۔

ج۔ زینب بنت علی کہتی ہیں: وفی العذاب انتم خالدون۔
د۔ حضرت باقر رحمۃاللہ کہہ گئے کہ جنہوں نے بیعت کی تھی خود انہوں نے شمشیر حضرت حسینؓ پر کھینچی اور ہنوز بیعت حضرت حسینؓ ان کی گردنوں میں تھی کہ حضرت حسینؓ کو شہید کیا۔
ر۔ نور اللہ شوستری شیعوں کی طرف سے کہہ گیا:
بیچ چارہ نمید انیم جزانیکہ خودرادر عرصۂ تیغ آوریم۔
 اہل علم و دانش خودہی فیصلہ کریں کہ جو عوام کو دھوکہ دے جو حضور ﷺ کی امت سے خارج ہو جس کے لیے ابدی جہنم ہو۔ جو واجب القتل سمجھا جائے اسے کامل الایمان ہی کہیں گے؟

4۔ صحابۂ کرامؓ پر بہتان ہے کہ رسولﷺ کو کفار کے نرغے میں چھوڑ کر بھاگ جایا کرتے تھے مگر یہاں تو بات دور تک پہنچتی ہے۔ حضرت حسینؓ کو دھوکہ دیا گھر بلایا۔ حضرت حسینؓ کے ساتھ ہو کر یزید کے خلاف لڑنے کا حلفیہ عہد دیا۔ حضرت حسینؓ آئے تو آنکھیں بدل لیں۔ یزید کی فوج میں شامل ہوگئے۔ پانی بند کیا۔ امام کو نہایت بے دردی سے شہید کیا۔ اہل بیت کو رسوا کیا۔ ان کا مال لوٹا۔ اس لئے کہاں وہ بہتان اور کہاں یہ تلخ حقائق۔ اور لطف یہ کہ اتنا کچھ کر چکنے کے بعد محبان اہل بیت بن کر سینہ کوبی کرنا اور جلوس نکالنا۔ حالانکہ جلاء العیون صفحہ 519 اور صفحہ 527 پر موجود ہے کہ رونا پیٹنا یزید اور اس کے گھر سے شروع ہوا۔ اس لئے اگر یزید کی سنت سمجھ کر کیا جاتا ہے تو درست ہے ورنہ ظاہر ہے کہ جو غم  مرنے والے کے پسماندگان کو ہوتا ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں ہو سکتا اور اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اہل بیت پسماندگان نے تعزیہ دلدل، علم، پنجہ غیرہ کے جلوس نکال کر اور اجتماعی طور پر سینہ کوبی کر کے اظہارِ غم کیا ہو۔ اوراگر یہ عبادت ہے تو ظاہر ہے کہ ائمہ اور اہل بیت سے بڑھ کر عبادت گزار یہ ماتمی تو نہیں ہو سکتے۔ ان سے یہ عبادت کیوں چھوٹ گئی؟

  ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ:-
1۔قتلِ حضرت حسینؓ میں مدعی ائمہ معصومین اور اہلِ بیت ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ ہمیں شیعوں نے قتل کیا۔
2۔ قاتلین کوفی شیعہ اقرارِ جرم کرتے ہیں۔
3۔ گواہ حضرت باقر رحمۃاللہ ہیں۔

 اگر اس کے خلاف کوئی شخص دعویٰ کرے تو
• ائمہ اوراہل بیت کا دعویٰ پیش کرے مدعا علیہ کا اقرارِ  جرم پیش کرے۔
• حضرت جعفر یا امام باقر رحمھما اللہ کی شہادت پیش کرے، اس کے بغیر بےتکی بات کوئی وزن نہیں رکھتی۔

  ماتمِ حسینؓ
 شیعہ حضرات کے ہاں اس عبادت( ماتم حسینؓ) کا سراغ حضرت حسینؓ کی شہادت کے بعد ہی ملتا ہے اس لیے ہم شیعہ کتب سے اس شہادت کے متعلق چند حقائق پیش کرتے ہیں۔ 
 الطراز المذھب مظفری طبع جدید  طہران۔ اسی کتاب کے 281 پر حضرت زینبؓ کے طویل خطبے میں اس کی کچھ اور وضاحت ہوئی ہے۔
  "اے دھوکے باز مکار اہل کوفہ کیا تم روتے ہو۔۔۔۔۔ تم نے اپنے لئے بہت برا توشۂ آخرت بھیجا ہے۔ لعنت اور پھٹکار ہو تم پر"۔
 حضرت زینبؓ کے اس خطاب سے ایک بات مزید معلوم ہوئی کہ اہل  کوفہ نے مکرو غداری سے قتل بھی کیا اور پھر رونا پیٹنا شروع کر دیا مگر اس کے باوجود لعنت اور پھٹکار کے مستحق ہی ٹھہرے۔
 (ناسخ التواریخ 301)

صفحہ 6 از 7